کالملاہور

لاہور کے جنج گھروں پر کھوجی کا مضمون

میم سین بٹ

   حلقہ ارباب ذوق لاہور میں اس بار نیلم احمد بشیر کی نظم، محمود ناصر ملک کی غزل اور فیضان عباس نقوی کا مضمون رکھا گیا تھا۔ لاہور کے کھوجی کا مضمون لاہور کے جنج گھروں کے بارے میں تھا۔ ہم پریس کلب سے شہزاد فراموش کے ساتھ پاک ٹی ہاؤس کے سامنے پہنچ کر سٹالز پر پرانی کتابیں دیکھ رہے تھے تو طارق کامران بھی پہنچ گئے۔ ہم تینوں پاک ٹی ہاؤس کی گیلری میں پہنچے تو کمرہ شام غریباں کا منظر پیش کر رہا تھا۔ روشنی کی کمی کے باعث سٹیج کے ارد گرد اندھیرا چھایا ہوا تھا پاک ٹی ہاؤس کی انتظامیہ کو گیلری میں دانشوروں کیلئے روشنی کا معقول انتظام کرنا چاہیے سابق وزیراعظم نواز شریف نے پاک ٹی ہاؤس دانشوروں کیلئے ہی بحال کروا کر اس کا افتتاح کیا تھا سیکرٹری شاذیہ مفتی زاہدہ راؤ، نیلم بشیر اور دیگر دانشوروں سمیت پہلے سے گیلری میں موجود تھیں۔ کچھ دیر بعد جوائنٹ سیکرٹری سلمان رسول اور صدرمحفل غلام حسین ساجد بھی آگئے اور حلقے کا اجلاس شروع ہو گیا۔ فیضان نقوی ابھی تک نہیں آئے تھے لہذا غلام حسین ساجد نے نیلم احمد بشیر کو نظم پیش کرنے کی دعوت دے دی۔ نیلم احمد بشیر بھی خاتون ہونے کے باوجود اپنے والد احمد بشیر مرحوم کی طرح لکھنے میں بیباک ہیں ان کی نظم و نثر دونوں بیباک ہوتی ہیں۔ نیلم احمد بشیر کی نثری نظم مکمل ہوتے ہی چوہدری منشاء اللہ بٹر نے بکارت کا مطلب پوچھ لیا جس پر شرکائے مجلس بالخصوص خواتین گم سم ہو گئیں۔ بالآخر صاحب صدارت غلام حسین ساجد نے ہمت کر کے منشاء بٹر سے کہا کہ سوال مت پوچھیں اگر نظم پر کچھ کہنا ہے تو بولیں۔

زاہدہ راؤ نے نظم کو بہت اچھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بے بسی کا اظہار کیا گیا ہے اور عورت کے حوالے سے یہ بے بسی ہر طرف دکھائی دیتی ہے، آفتاب جاوید نے کہا کہ نثری نظم سے زیادہ اظہاریہ کسی دوسری صنف میں نہیں ہو سکتا نیلم احمد بشیر جرات سے لکھتی ہیں اور ان دروازوں پر بھی دستک دے دیتی ہیں جن پر مردوں کے بھی دستک  دیتے ہاتھ جلتے ہیں۔ ہم روحوں کا سودا کرنے والے تاجر بن چکے ہیں اور نیلم احمد بشیر نے نظم میں عورت کا سودا کئے جانے پر دکھ کا اظہار کیا ہے، کنور عبدالماجد نے نظم کو 70 فیصد عوام کی نمائندگی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بچیوں کی جبری شادی کو موضوع بنایا گیا ہے، شاہد اشرف نے کہا کہ بلوغت کی عمر کا تعین کیا جا چکا ہے شاعرہ نے بہت اچھے موضوع کا انتخاب کیا ہے دیہات میں 14 ، 15 برس کی عمر میں لڑکیوں کی شادی کر دی جاتی ہے، یہ بچیوں کے کھیلنے کودنے کی عمر ہوتی ہے کم عمر کی شادی کے نتائج ان بچیوں کو بھگتنا پڑتے ہیں نظم بدصورت نہیں اس میں پیش کئے جانے والے حالات بدصورت ہیں، علی گل موضوع سے ہٹ کر بات کرتے رہے، اکرام حشمت نے مشورہ دیا کہ ہر بند کو دو بار پڑھا جائے تو نظم سمجھ میں آجائے گی۔

عبدالوحید نے نظم کو آج کی نظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آج کے حالات پر مکمل نہیں بیٹھتی اسے آج کی مکمل نظم ہونا چاہیے تھا۔ ایک دانشور کو نظم میں فرسودہ روایات کی عکاسی نظر آئی، ظہیر صدیقی کے خیال میں نظم کا عنوان خوبصورت نظم ہونا چاہیے تھا۔ شاذیہ مفتی کے خیال میں اب چھوٹی عمر کی لڑکیاں بھی بہت کچھ جانتی ہیں شادی کے لئے کم سے کم 18 سال عمر کی پابندی لگانا ان لڑکیوں پر ظلم ہے۔ شاذیہ مفتی نے نظم کو علامتی قرار دیتے ہوئے سیاسی نظام کی طرف بھی اشارہ دیا، ناصر بلوچ نے کہا کہ نیلم احمد بشیر کی اکثر نظمیں ایسی ہی ہوتی ہیں اور ان کی نظمیں سچ بولتی ہیں، غلام حسین ساجد نے صدارتی کلمات میں نیلم احمد بشیر کی کتاب "گلابوں والی گلی” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی ایک کہانی پڑھ کر کانپ گئے تھے۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی خاتون اتنی بیباک لکھنے والی ہونگی نیلم بشیر کی یہ نظم آج کی بھی ہے اور آج کی نہیں بھی ہے کیونکہ عورت کے ساتھ ہمیشہ سے ایسا ہی سلوک ہوتا آیا ہے، نظم پر گفتگو مکمل ہوتے ہی فیضان عباس نقوی اچانک کسی جن کی طرح گیلری میں نمودار ہو گئے جنہیں فوری مضمون پڑھنے کی دعوت دے دی گئی۔

فیضان عباس نقوی المعروف لاہور کا کھوجی نے اپنا طویل مضمون” لاہور کے جنج گھر” پڑھا جس میں انہوں نے اے حمید کی تحریروں کے بے شمار حوالے دیئے، مضمون پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے جوائنٹ سیکرٹری سلمان رسول نے نشاندہی کی کہ مضمون میں جس کھانے کو مُٹھی کہا گیا ہے وہ مِٹھی ہے، شہزاد فراموش نے مضمون کی طوالت کا ذکر کرتے ہوئے تحقیقی حوالے سے مضمون پر پسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور مضمون میں کچھ چیزوں کی کمی کے حوالے سے نشاندہی بھی کی۔ شہزاد فراموش نے مزید کہا کہ مضمون میں یہ نہیں بتایا گیا کہ لاہور میں جنج گھر کہاں پائے جاتے تھے صرف کامریڈ تنویر کی کتاب کے حوالے سے اچھرےکا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی وقت آکسیجن کی کمی کے باعث ہم پر شدید کھانسی کا دورہ پڑ گیا اور ہمیں گیلری سے اٹھ کر نیچےہال میں آنا پڑا۔ پاک ٹی ہاؤس سے باہر نکل کر ہم نے تازہ ہوا میں لمبے لمبے سانس لئے اور سامنے گرین بیلٹ کی اوپن ائر مسجد میں جا کر لیٹ گئے اجلاس ختم ہونے کے بعد ہم شہزاد فراموش جبکہ طارق کامران سلمان رسول کی موٹر بائیک پر بیٹھ کر پریس کلب پہنچ گئے کیفے ایریا پر حلقے کے جوائنٹ سیکرٹری سلمان رسول نے ہمیں حلقے کی باقی روداد بتائی کہ شہزاد فراموش کے بعد کنور عبدالماجد خان نے اعتراض کیا تھا کہ فیضان نقوی کے مضمون میں دھمال اور سلامی کا ذکر نہیں کیا گیا، اکرام حشمت نے لاہور کی سیر کروانے پر مضمون کی تعریف کی تھی۔

نیلم احمد بشیر نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جواں سالہ لوگ لاہور پر تحقیقی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے جنج گھر ادارے تھے اور ہماری ثقافت کا حصہ تھے جو اب نہیں رہے بہت کچھ مٹتا جا رہا ہے، محمد جمیل اکیڈمی ادبیات والے نے جنج گھروں کو لاہور ہی نہیں پورے پنجاب کا کلچر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے لوگ حویلیوں میں ہی شادی بیاہ کی تقریبات کا بندوبست کرلیا کیا کرتے تھے اس زمانے کی بہت سی روایات مضمون میں شامل نہیں کی گئیں، ناصر بلوچ نے کہا کہ مضمون یادرفتگان کے طور پر تو ٹھیک تھا اس میں زمانے کے ساتھ بدلتی ہوئی اقدار کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہیے تھا۔ انہیں پہلی بار 1990ء میں کراچی کے شادی ہال دیکھ کر افسوس ہوا تھا کہ لوگ اب گھروں میں شادی کی تقریب نہیں رکھتے مضمون میں یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ عمارتیں کیوں ٹوٹتی ہیں، عبدالوحید کو بھی مضمون میں تشنگی محسوس ہوئی انہوں نے کہا کہ مضمون میں جنج گھروں کی لوکیشن نہیں دکھائی گئی ان کے خاتمے کی وجوہات بھی بتانا چاہیے تھیں۔ گلشن راوی کے میرج ہال میں شادی کی پہلی تقریب میں شرکت کرکے سہولت محسوس کی تھی ورنہ پہلے جب گلیوں میں شادی بیاہ کی تقریبات کے دوران کھانا کھلتا تھا تو ہڑبونگ سی مچ جایا کرتی تھی۔

شاہد اشرف نے کہا کہ تحقیق کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں مضمون میں حوالوں کا ذکر بھی ہونا چاہیے تھا۔ جنج گھروں کی تفصیل بھی بتانا چاہیے تھی، مضمون پر نظرثانی کی ضرورت ہے، آفتاب جاوید نے مضمون میں ادھوری تحقیق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مضمون نگار نے اپنے پچھلے مضمون میں بھی لاہور کی دو سراؤں کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اس مضمون میں بھی جنج ۔گھروں کے مقامات کی نشاندہی نہیں کی۔ بشارت میاں نے مضمون میں تکرار کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ آدھا مضمون کاٹ کر پھینک دینا چاہیے تھا، ظہیر صدیقی نے کہا کہ مضمون پر فزیکل سٹرکچر کے حوالے سے بات کی گئی مگر جنج گھر  نہ رہنے سے جو کلچر ختم ہو گیا اس حوالے سے ذکر بھی کرنا چاہیے تھا۔ شاذیہ مفتی نے کہا کہ مضمون نگار لاہور پر تحقیق کو قیمتی وقت دے رہے ہیں حلقے میں سیکھنے آئے ہیں مزید اچھا لکھیں گے انہوں نے مزید کہا کہ جنج گھر تقسیم ہند پر تبادلہ آبادی کے بعد ختم ہوئے۔ مسلمان مہاجرین نے ان جنج گھروں میں رہائش اختیار کر لی تھی، غلام حسین ساجد نے صدارتی کلمات میں مضمون کو اچھی کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تہذیب کا پتہ چلا تاہم مضمون میں جنج گھروں کی جگہ کا ذکر بھی ضرور ہونا چاہیے تھا۔ مضمون نگار کو جنج گھروں کے حوالے سے ابھی مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔

Related Articles

2 Comments

قمرالزمان بٹ کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button