
لاہور میں چند برس قبل تک بھارت کے اردو ادیب، شاعر، نقاد، صحافی اور فنکار آتے جاتے رہے تھے، بھارتی صحافی اور فنکار
پریس کلب جبکہ ادیب، شاعر، نقاد پاک ٹی ہاؤس بھی ضرور آتے تھے. اس حوالے سے مہیش بھٹ، اوم پوری، رضا مراد، کلدیپ نائر، ڈاکٹر کیول دھیر، جاوید اختر، شمیم حنفی اور شمس الرحمٰن فاروقی کے نام ہمیں یاد رہ گئے ہیں. پاک ٹی ہاؤس میں حلقہ ارباب ذوق کی جانب سے شمیم حنفی اور شمس الرحمٰن فاروقی کے ساتھ خصوصی نشستیں بھی رکھی گئی تھیں. ہمیں یاد ہے بھارت کے معروف ناول نگار، مدیر اور نقاد شمس الرحمٰن فاروقی ایک عشرہ قبل الحمرا آرٹ کونسل میں جاری فیض میلہ میں شرکت اور لمز کے ادب مرکز میں لیکچر دینے آئے تھے تو ان دنوں حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری ڈاکٹر امجد طفیل تھے جو انہیں الحمرا سے پاک ٹی ہاؤس لے آئے تھے جہاں گیلری میں حلقہ ارباب ذوق کی خصوصی نشست رکھی گئی تھی جس کی صدارت انتظار حسین سے کروائی گئی تھی جبکہ مہمان اعزاز غالباً خاتون مہر افشاں تھیں حالانکہ مہمان اعزاز ظفر اقبال کو بنانا چاہیے تھا۔
تفنن برطرف، کسی دانشور نے شمس الرحمٰن فاروقی سے نہ پوچھا تھا کہ آخر ان کی غالب سے کیا دشمنی تھی کہ انہوں نے ظفر اقبال کو غالب کا ہم پلہ بلکہ شاید ان سے بھی بڑا شاعر قرار دے دیا تھا، کہیں وہ غالب کے مقابلے میں یگانہ کے طرفدار تو نہیں۔ شاید کسی نے یہ سوال اس لئے نہ پوچھا تھا کہ ظفر اقبال خود ہی کچھ عرصہ قبل اپنے کالم میں یہ اطلاع دے چکے تھے کہ شمس الرحمٰن فاروقی اپنے بیان سے مکر گئے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ حلقے میں شمس الرحمٰن فاروقی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لاہور کے حلقہ ارباب ذوق کے بارے میں پڑھتے رہے تھے۔ آج وہ اس حلقے کے اجلاس میں شریک ہیں جس پر وہ خوشی محسوس کر رہے ہیں، انتظار حسین بھی ان کیلئے خاص طور پر تشریف لائے ہیں جس پر انہیں مزید مسرت ہو رہی ہے، لاہور کے دانشور شمس الرحمٰن فاروقی کو اپنے درمیان پاکر ان سے بھی زیادہ خوشی محسوس کر رہے تھے اور وہ کھلے چہروں کے ساتھ بڑے اشتیاق، انہماک اور عقیدت سے شمس الرحمٰن فاروقی کی گفتگو سن رہے تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر سعادت سعید نے ان سے دریافت کیا تھا کہ وہ لاہور کے کن دوستوں کی کمی محسوس کر رہے ہیں؟ شمس الرحمٰن فاروقی نے بتایا تھا کہ بہت سے دوست دنیا سے اور دوسرے شہروں میں جا چکے ہیں اب وہ کس کس کا نام لیں اور کس کس کو پکاریں جب تک ان کا ایک بھی دوست زندہ ہے ان کیلئے لاہور میں کشش باقی رہے گی۔

ہمیں یاد آیا! شمس الرحمٰن فاروقی نے "لاہور کا ایک واقعہ” کے عنوان سے افسانہ بھی لکھا تھا جو "سوار اور دوسرے افسانے” کے عنوان سے 2001ء میں پہلی بار کراچی سے چھپنے والے ان کے افسانوی مجموعہ میں شامل ہے۔ اس کتاب کے پانچویں علامتی افسانے "لاہور کا ایک واقعہ” میں شمس الرحمٰن فاروقی علامہ اقبال سے ان کی وفات سے ایک سال قبل ملاقات کا ذکر کرتے ہیں دراصل شمس الرحمٰن فاروقی لکھتے ہوئے ادبی تاریخ کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور ان کی بیشتر تخلیقات ادبی تاریخ کے گرد ہی گھومتی دکھائی دیتی ہیں۔ افسانوی مجموعہ "ٰسوار اور دوسرے افسانے” کے علاوہ ان کے ناول "کئی چاند تھے سر آسمان” کا شمار بھی ان کی انہی تخلیقات میں ہوتا ہے، شمس الرحمٰن فاروقی مرحوم کے کام کو پاکستان میں ناول نگاری کے ذریعے ڈاکٹر غافر شہزاد آگے بڑھا رہے ہیں تاہم غافر شہزاد ادبی تاریخ کے بجائے جرائم اور بدعنوانیوں کے مشہور واقعات کو اپنے ناولوں میں استعمال کرتے ہیں۔
جب مکالمہ شروع ہوا تو سیکرٹری حلقہ امجد طفیل نے سوال کیا تھا کہ ادب میں چار عشرے تک جدیدیت کی بات ہوتی رہی کیا اب ہم واقعی مابعد جدیدیت میں زندہ ہیں؟ شمس الرحمن فاروقی نے بتایا تھا کہ ادب کے رواج بدلتے رہتے ہیں اگر جدیدیت نے ایسے اصول بنائے جو کام آ رہے ہیں تو انہیں استعمال کیجئے اگر کوئی چیز آپ کے کام آ رہی ہے تو ٹھیک ہے، نبیل احمد نبیل نے دریافت کیا تھا کہ کیا بھارت میں اردو زبان متروک ہو چکی ہے؟ شمس الرحمٰن فاروقی نے کہا کہ جنہوں نے اردو کو متروک زبان کہا تھا انہوں نے اپنی غلطی تسلیم کر لی تھی۔ یہ تاریخی اور لسانی اعتبار سے بھی غلط ہے۔ اردو میں جو الفاظ موجود نہ ہوں وہ دوسری زبانوں سے لئے جا سکتے ہیں لیکن اردو کے الفاظ ترک کر کے انگریزی، ہندی اور پنجابی کے الفاظ استعمال کئے جا رہے ہیں وہ اردو زبان بولتے ہوئے انگریزی کے بہت کم الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ان کے گھر میں انگریزی بولنے کی ممانعت ہے (حالانکہ شمس الرحمٰن فاروقی خود ایم اے انگریزی تھے)۔ انڈیا میں اردو لکھنے پڑھنے والے کم لیکن سمجھنے والے بہت زیادہ ہیں ابھی وہاں اردو بازاروں میں ہے لیکن توقع ہے کہ یہ گھروں میں بھی جلد آجائے گی۔
ممتاز راشد لاہوری نے پوچھا تھا کہ انڈیا کی دو تین ریاستوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اردو وہاں کی دوسری زبان کا درجہ حاصل کر چکی ہے کیا اس میں حقیقت پائی جاتی ہے؟ شمس الرحمٰن فاروقی نے بتایا کہ دوسری زبان بنانے سے کارروائی تو ہو گئی لیکن کوئی خاص عملی فائدہ نہیں ہوا، فائدہ تو تب ہوگا جب اردو پڑھیں گے، جب لوگوں میں ولولہ نہیں ہوگا تو اردو کیسے پھیلے گی، امجد سلیم منیاس نے اعتراض اٹھایا تھا کہ کیا ریاست کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی زبان کو زبردستی رائج کرے؟ شمس الرحمٰن فاروقی نے بتایا تھا کہ وہ اس کے حق میں نہیں ہیں لیکن جس کے ہاتھ میں طاقت ہوتی ہے وہ دوسروں کی زبان کو ختم کر کے اپنی زبان نافذ کر دیتا ہے، پروفیسر انیس اکرام فطرت نے کہا تھا کہ اکنامکس کی مختلف اصطلاحات کا اردو ترجمہ تو سمجھ میں نہیں آتا لیکن انگریزی اصطلاحات سمجھ میں آ جاتی ہیں ایسے اردو ترجمے کا کیا فائدہ ہے؟ شمس الرحمٰن فاروقی نے اعتراف کیا تھا کہ جامعہ عثمانیہ کی زیادہ تر اصطلاحات ناکام ثابت ہوئی ہیں کیونکہ یہ روزمرہ میں نہیں آتیں تاہم اگر اردو ادب کے علاوہ دیگر علوم بھی اردو میں پڑھائے جائیں تو اصطلاحات سمجھ میں آ جائیں گی، دراصل کسی بھی زبان کو استعمال کرنے کیلئے اسے رواں کرنا پڑتا ہے۔
شفیق احمد خان نے سوال کیا تھا کہ الحمرا کے فیض میلے میں وہ نظم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے میر تقی میر سے آگے کیوں نہیں بڑھ رہے تھے؟ شمس الرحمٰن فاروقی نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ نظم کے حوالے سے پانچ جدید شاعروں کو مانتے ہیں جن میں سے فیض، راشد، میرا جی اور مجید امجد پر وہ لکھ چکے ہیں، ڈاکٹر ایوب ندیم نے دریافت کیا تھا کہ آپ کے مطابق ہر بڑا شاعر اپنے دور میں مبہم ہوتا ہے کیا میر تقی میر بھی اپنے دور میں مبہم شاعر تھے؟ شمس الرحمٰن فاروقی نے کہا تھا کہ انہوں نے یہ جدید شاعری کے حوالے سے کہا تھا، میر اور غالب کے زمانے کو چھوڑ دیں وہ زمانہ اور تھا۔ نئی شاعری کے زمانے میں اور بات ہے۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے احمد علیم کے سوال پر بتایا تھا کہ غالب کے زمانے میں پورا معاشرہ نقاد تھا اب زمانہ شاعر سے الگ ہو چکا ہے!” ہم نے گیلری میں نگاہ دوڑائی تو ڈاکٹر خورشید رضوی، ایرج مبارک، ازہر منیر، ضیاء الحسن، ایوب خاور، قائم نقوی، شاہد بخاری، جاوید قاسم، یاسمین حمید، بینا گوئندی، نیلم احمد بشیر، اشرف سلیم، سلیم گورمانی، سلیم سہیل، علی نواز شاہ اور محمد جمیل اکادمی ادبیات والے بھی موجود تھے۔
زاہد مسعود نے شمس الرحمٰن فاروقی سے ان کے ناول "کئی چاند تھے سر آسماں” کے بارے میں پوچھا تھا کہ ہیت کے حوالے سے یہ ناول ہے بھی یا نہیں؟ شمس الرحمٰن فاروقی نے بتایا تھا کہ مصنف کسی تصنیف کے بارے میں اپنے ذہن میں جو نقشہ بنا لیتا ہے وہ رہتی تو وہی چیز ہے لیکن ہیت کے اعتبار سے وہ جو کہیں گے وہ وہی ہوگا۔ انہوں نے کوئی تاریخی ناول نہیں لکھا لیکن اس میں جو تاریخی واقعات لکھے ہیں وہ درست ہیں۔ یہ ناول ایک مسلمان لڑکی کے بارے میں لکھا گیا ہے جس نے اپنا انتخاب خود کیا۔ آخر میں انتظار حسین نے صدارتی کلمات میں کہا تھا کہ الہ آباد کی دو چیزیں اکبر الہ آبادی اور امرود مشہور تھیں اب ان کے پاس امرود ہی رہ گئے ہیں ( قہقہے)۔ یہ خطبہ الہ آباد کا بھی شہر ہے۔ اب اس میں ایک چوتھی چیز بھی شامل ہو گئی ہے وہ شمس الرحمٰن فاروقی ہیں۔ یہ ان کا کمال ہے کہ جس شاعر کا نام لے لیتے ہیں اس کا (اپنے جریدے شب خون میں) ذکر کر دیتے ہیں اور وہ غالب کا ہمعصر بن جاتا ہے۔ (قہقہے)۔



شکریہ ۔۔۔ نعیم سلہری صاحب