بک ریویو

وقار سپرا کی کتاب گواچا لاہور

 میم سین بٹ

لاہور کے بارے میں کتابیں صدیوں سے لکھی جاتی اور چھپتی چلی آرہی ہیں, ان میں سے کچھ کتابیں زیادہ لوگوں تک نہیں پہنچتی رہیں. ایسی ہی کتابوں میں "گواچا لاہور” بھی شامل ہے. یہ مصور اور صحافی وقار مصطفٰی سپرا کے اردو اور پنجابی زبان میں لاہور کے بارے میں تحقیقی اور علمی کالموں کا مجموعہ ہے جسے سجن پبلی کیشنز کے تحت 2020 ء کے دوران محدود تعداد میں شائع کیا گیا تھا اور اس کا سرورق فراز حسن نے تیار کیا تھا حالانکہ سرورق خود مصنف کو تیار کرنا چاہیے تھا کیونکہ وہ خود مصور بھی ہیں۔ وقار مصطفٰی سپرا کا آبائی گائوں لائلپور ( فیصل آباد) اور جھنگ کے اضلاع کی سرحد پر پینسرہ کے قریب واقع ہے جہاں سے ان کے بزرگ منٹگمری اور اوکاڑہ کی سرحد پر واقع گاؤں میں منتقل ہو گئے تھے پھر ان کے والد بسلسلہ کاروبار ملتان چلے گئے تھے جو محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے تھے اور ساہیوال سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر ایم پی اے کا الیکشن بھی لڑ چکے ہیں، وہ ملتان میں خدمت کمیٹی جنوبی پنجاب کے جنرل سیکرٹری اور محکمہ زراعت کی ٹاسک فورس کے کوارڈینیٹر بھی رہے تھے۔ وہ بعدازاں بحریہ ٹائون لاہور میں کنسٹرکشن کا کام کرتے رہے تھے، وقار سپرا ایچی سن، این سی اے اور لمز میں زیر تعلیم رہے، عملی صحافت کا آغاز ملتان میں روزنامہ درشن سے کیا پھر لاہور آگئے اور اب تک اسی اخبار سے منسلک چلے آرہے ہیں۔ وہ مصوری کرنے کے ساتھ کالم بھی لکھتے ہیں ان کی اب تک 2 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
کتاب ” گواچا لاہور” میں کل 20 کالم شامل کئے گئے ہیں جن کے عنوان قصہ پرانا، لاہور جدید ترین، لاہور کی سماجی زندگی، لاہور میں آلودگی، لاہور شہر کی عبادت گاہیں، اندرون لاہور شہر کے دروازے، لاہور کی ادبی نشستیں، لاہور پر 7 اہم کتابیں، لاہور کی سول سوسائٹی، لاہور کو سانس لینے دو، لاہور میں سائیکل سواری، لاہور کے گمشدہ اکھاڑے، لاہور شہر کے میلے، اندرون لاہور شہر کی مشہور حویلیاں، راوی پر نیا شہر، آخری گل، میاں محمد بخش کے کلام میں لاہور کا ذکر، لاہور کے شعراء کا کلام، ایل سی ایس کے علی امجد اور فوزیہ سعید کی لاہور پر کتاب شامل ہیں۔ ان میں سے 6 کالم یا باب پنجابی زبان میں تحریر کئے گئے ہیں، کتاب کا انتساب این سی اے کی سابق پرنسپل ساجدہ ونڈل اور ان کے شوہر پرویز ونڈل کے علاوہ ڈاکٹر منظور علی ویسریو، ڈاکٹر آصف، ذیشان دانش، نیاز ندیم، مرزا خان لاشاری، عصمت اللہ شاہ اور شمیم عارف قریشی کے نام کیا گیا ہے۔
پیش لفظ میں مصنف وقار سپرا بتاتے ہیں کہ وہ 2014 ء میں جب مستقل طور پر لاہور آئے تھے تو بحریہ ٹاؤن میں رہائش پذیر رہے۔ یہ بستی لاہور کے مضافات میں واقع ہونے کی وجہ سے ان کا کچھ عرصہ تک لاہور سے مکمل تعارف نہ ہوا یعنی انہیں فوری پتہ نہ چل سکا تھا کہ لاہور شہر کا حدود اربعہ اور ثقافت کیا ہے۔ اصل لاہوریئےکہاں ملتے ہیں پھر جب وہ ڈرائنگ اور پینٹنگ کی تعلیم کیلئے این سی اے میں داخل ہوئے تب لاہور کے بارے میں جاننے لگے۔ انہوں نے لاہور شہر کی تاریخی عمارتیں، باغات اور ثقافتی رنگ دیکھے۔ انہیں اصل لاہوریئے بھی مل گئے۔ اس کے بعد یہ شہر کے دانشوروں اور سول سوسائٹی کے قریب رہے۔ ان کے حلقوں میں وقت گزارتے رہے۔ انہوں نے لاہور کو اچھی طرح سمجھا اور بالآخر اس شہر پر کتاب لکھ کر شائع کروالی۔
پہلے باب”قصہ پرانا”میں بتاتے ہیں کہ لاہور شہر میں رہائشی مکانات کرایہ پر دینے کا سلسلہ شہنشاہ اکبر کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ شہر میں سب سے پہلے مغل دور میں ہی اہم تعمیرات ہوئی تھیں، مغلوں کے بعد لاہور سمیت پنجاب پر سکھوں کی حکومت قائم ہو گئی تھی، خالصہ سرکار نے لاہور میں کئی گرودوارے بنوائے۔ اس عہد میں نئی آباد کاری بھی ہوئی سکھ دربار کے باعث لاہور شہر کی رونقوں میں اضافہ ہوا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد خالصہ سرکار زوال کا شکار ہوگئی اور جلد ہی ایسٹ انڈیا کمپنی نے پنجاب پر مکمل قبضہ کرنے کے بعد لاہور کو صوبائی دارالحکومت بنا دیا اور صوبہ ملتان کو بھی صوبہ پنجاب میں ضم کر کے اس کا ڈویژن بنا دیا تھا۔ انگریزوں نے لاہور کو کافی توسیع دی، مال روڈ پر متعدد اہم عمارتیں تعمیر کروائیں جو آج بھی شان و شوکت سے کھڑی ہیں۔ ان میں سے بیشتر عمارتوں کے نقشے بھائی رام سنگھ نےتیار کئے تھے جو غالباًمیو سکول آف آرٹس کے پرنسپل بھی رہے تھے بعدازاں میو سکول آف آرٹس نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے)کہلانے لگا تھا۔
مغلیہ عہد اور خالصہ دور میں اندرون لاہور شہر چار دیواری تک محدود رہا تھا۔ حکمران بھی شاہی قلعہ کے اندر رہائش پذیر رہے مگر انگریزوں نے اندرون شہر لاہور کے بجائے بیرون شہر لاہور کا انتخاب کیا۔ مغل اور خالصہ درباروں کے عمائدین اندرون لاہور کی حویلیوں میں مقیم رہے مگر انگریز حکام نے اپنے اور فوجی اور انتظامی افسروں کیلئے بیرون شہر لوئرمال کے علاقے میں بنگلے تعمیر کروائے تھے۔ پہلے انارکلی کے علاقے میں فوجی چھائونی بنائی گئی تھی پھر اسے میاں میر کے علاقے میں منتقل کر دیا گیا تھا جہاں آنے جانے کیلئے مال روڈ تعمیر کی گئی تھی۔ اگلے باب "لاہور جدید اور جدید ترین” میں وقار مصطفٰی سپرا بتاتے ہیں کہ لاہور کا پہلا پوش علاقہ تقسیم ہند سے قبل جین مندر رہا تھا پھر ماڈل ٹاؤن نے پوش بستی کی حیثیت اختیار کرلی تھی۔ آزادی کے بعد گلبرگ، گارڈن ٹاؤن، شادمان کی پوش بستیاں وجود میں آگئی تھیں پھر لاہور امپرومنٹ ٹرسٹ کے بعد ایل ڈی اے نے وجود میں آ کر متوسط طبقے کیلئے بستیاں بسائی تھیں جن میں علامہ اقبال ٹائون، واپڈا ٹائون اور ٹائون شپ جیسی کالونیاں شامل ہیں۔ اس کے بعد لاہور میں ڈیفنس اور بحریہ ٹاؤن جیسی اشرافیہ کی جدید بستیاں وجود میں آگئی تھیں اور اب اشرافیہ نے رہائش کیلئے شہر سے باہر مضافات میں فارم ہاؤسز بنانا شروع کر دیئے ہیں۔
لاہور کی سماجی زندگی کے عنوان سے تیسرے باب میں بحث و مباحثہ والے مشہور چائے خانوں کا ذکر کرتے ہوئے وقار سپرا پاک ٹی ہائوس اور یاقو کے ہوٹل کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ لاہور کے ذائقے والے باب میں وقار مصطفْْْٰی گوالمنڈی فوڈ سٹریٹ، فورٹ روڈ فوڈ سٹریٹ، پرانی انارکلی ٹورسٹ سٹریٹ، ٹمپل روڈ فوڈ سٹریٹ، لکشمی چوک اور گلبرگ میں ایم ایم عالم روڈ کے ریسٹورنٹس کا ذکر کرتے ہیں۔ لاہور کے سوشل کلبوں کے ذکر میں لاہور پریس کلب کا ذکر کرنا بھول گئے۔ لاہور میں آلودگی اور نکاسی آب کے مسائل بیان کرتے ہوئے فضائی آلودگی کا ذمہ دار گاڑیوں اور فیکٹریوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کو قرار دیتے ہیں اور راوی کو گندے پانی کا نالہ لکھتے ہیں، لاہور کی عبادت گاہوں پر باب میں زیادہ تر گوردواروں پر روشنی ڈالی گئی ہے لاہور میں اولیاء کے مزاروں سے تو لوگ آگاہ ہی ہیں۔
لاہور کی ادبی نشستوں والے باب میں شہنشاہ اکبر کے لاہور میں دربار کا عرصہ تین بار لکھا گیا اور تینوں مرتبہ ہی غلط لکھا گیا ہے۔ حلقہ ارباب ذوق کو بھی 7 مرتبہ حلقہ احباب ذوق لکھا گیا ہے اس کے علاوہ کتاب کی اردو تحریر میں جگہ جگہ انگریزی حروف تہجی کے الفاظ پڑھائی کی روانی کو متاثر کرتے ہیں۔ لاہور کی ادبی نشستوں کے حوالے سے پنجابی سنگت کو خوشگوار ہوا کا جھونکا قرار دیا گیا ہے۔ آخر میں لاہور کے اکھاڑوں، میلوں ٹھیلوں اور حویلیوں کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ فوزیہ سعید کی لاہور کے شاہی محلے پر کتاب سے پہلے والے باب میں میاں محمدبخش کے لاہور پر اشعار درج کئے گئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ میاںمحمد بخش لاہور کی سیر بھی کر چکے تھے، میاں محمد بخش کے لاہور بارے پنجابی شعر کے ساتھ رخصت ہوتے ہیں۔۔۔
 نہ خطرہ راہ دا ، نہ کوئی خطرہ ہور
لنگھ بیاس محمدبخشا پہنچا آن لہور

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button