پچھلے دنوں ایک میڈیکل ٹیسٹ کے سلسلے میں لاہور کے علاقے شادمان میں واقع النور لیب جانا ہوا۔ عمارت میں داخل ہونے سے پہلے دیکھا کہ سطح زمین سے کوی 12 فٹ نیچے کھدائی کی جا رہی تھی۔ تمام حصے کو باڑ لگا کر بند کیا گیا تھا۔ جہاں مزدور کھدائی کر رہے تھے وہاں ایک نظر ڈالی اور اندر چلا گیا۔ خیال آیا کہ شائد عمارت کی پارکنگ کے لیے تہہ خانہ بنایا جا رہا ہے۔ خیر اندر ڈاکڑ کے انتظار میں موبائل میں مگن تھا۔ انتظار تو آپ جانتے ہی ہیں کہ بہت صبر آزما اور کبھی تکلیف دہ بھی ہوتا ہے، اسی دوران اچانک ایک نرس اور ڈاکٹر قدرے دور کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ اچانک کانوں میں آواز آئی سر یہ کنواں نکلا ہے اور بہت پرانا ہے میں فوری موبائل چھوڑ کر ان کی گفتگو کی جانب متوجہ ہوا جو اس عمارت کے پہلو میں ہونے والی کھدائی سے متعلق تھی۔
اس کے بابت معلوم ہوا کہ نیچے کوئی کنواں برآمد ہوا ہے اور وہ بہت پرانا ہے۔ بس یہ سنتے ہی سینسر ایکٹیو ہوا اور کھوج کے سنگنل تیز ہو گیے۔ بس پھر کیا تھا، ٹیسٹ بعد میں ہوں گے، سیدھا عمارت کے باہر کھدائی پر جا پہنچا جہاں عمارت کا ایک پہلو توڑا ہوا تھا اور سطح زمین سے کم و بیش 15 فٹ کی گہرائی تک کھودا جا چکا تھا۔ اس کے ایک طرف کنکریٹ کی ایک تہہ نکلی تھی جس کو توڑنے پر کنویں کا دہانہ کھل گیا تھا۔ کنکریٹ کو مکمل ہٹایا گیا تو نیچے پورا گہرا کنواں موجود تھا جو کہ چھ فٹ کا دہانہ رکھتا تھا جس کے نیچے تین چار فٹ موٹی اینٹ اور نیچے چھوٹی نانک شاہی اینٹ دکھای دے رہی تھی۔ شاید گزشتہ زمانے میں کنواں استعمال میں نہ رہا تھا اور اوپر سے کنکریٹ کی مدد سے اس کو بند کر دیا تھا اور مدت کے بعد اس کا منہ کھل چکا تھا۔
میں سطح زمین سے اس کا مکمل جایزہ لے رہا تھا اور کنویں کی گہرائی کا اندازہ کر رہا تھا لیکن گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہ کر سکا۔ نیچے دو مزدور بہت تیزی سے دوسری جگہ سے مٹی اکھیڑ کر اس کنویں میں ڈال رہے تھے اور مجھے تصویر بناتا دیکھ کر ان کے ہاتھوں کی سپیڈ خاصی تیز ہو گئی اور چہرے کے تاثرات بدل سے گئے اور میرے پیچھے کی جانب دیکھنے لگے میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک شخص کو اپنے عقب میں پایا، اے کی ہو رہیا اے جناب؟ ڈاکٹر دس رہے سی کہ کوئی کھوہ نکلیا اے کتھے ہے؟

اس کے سوال سے پہلے میں نے سوال داغ دیا اس نے ہاں جی پرانا کوئی کھوہ سی او ویکھو۔ میں اس کے اشارے پر دیکھنے لگا حالاں کہ میں تو پہلے دیکھ چکا تھا۔ اس کے بعد پوچھا استاد جی کنا پرانا ہووے گا۔ مینوں تے نواں ہی لگدا اے۔ نہیں جناب! بہت پرانا، مغل بادشاواں دے زمانے دا ہے۔ اچھا بڑی گل اے۔ خیر چند ایک مزید تصویر بنائیں اور وہاں سے نکل آیا تو بائیک پر آ بیٹھا تو خیال آیا کہ میں تو بلڈ ٹیسٹ کروانے آیا تھا۔ پھر اندر پہنچا تو میرا ٹوکن نمبر پکارا جا رہا تھا۔ فوری پہنچا اور سیمپل دے کر باہر نکل آیا۔ آس پاس دیکھا کہ ایک ریڑھی پر ادھیڑ عمر شخص موجود تھا، اس سے پرانے شادمان کے بارے میں بات چیت ہوئی لیکن تسلی نہ ہوئی پھر دو اور بزرگ تلاش کیے، ان سے بات چیت کی اور بعد ازاں کچھ کتابوں سے رجوع کیا تو یہ خلاصہ نکلا کہ یہ علاقہ مغل دور میں زرعی علاقہ تھا بس پاس میں بابا شاہ جمال کا دمدمہ تھا جہاں ان کا مزار بنا۔ قریب فیروز پور روڈ پر اچھرہ اور سراے گولیاں والی کی پرانی آباد کاری تھی۔ اس کے بعد انگریز دور میں یہاں بہت ساری تعمیرات ہوئیں جن میں جیل خانہ جات تھے، ان جیلوں کو لالہ نہال چند کی ٹھیکے داری میں بنایا گیا تھا۔ یہاں لاہور بلکہ پنجاب کی تین بڑی جیلیں تھیں۔ سنٹرل جیل، بورسٹل جیل اور کیمپ جیل۔ اس کے آس پاس کا علاقہ مزروعہ تھا یعنی زراعت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہیں کچھ کسانوں کا مسکن بھی تھا۔ پاس ہی سنٹرل جیل میں بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو کو پھانسی دی گئی تھی جہاں اب شادمان چوک بن چکا ہے۔ یہاں ہی نواب محمد احمد خان قصوری کا قتل ہوا تھا۔
نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ 2026 میں کچھ عرصہ کے لیے منظر عام پر آنے والا یہ قدیمی کنواں یا تو اس زرعی علاقے میں استعمال ہوتا تھا یا پھر لاہور کی جیلوں کے باہر کہیں تھا جو ممکن ہے جیلوں میں پانی کے لیے بنایا گیا ہو۔ بہرحال یہ کنواں جو کم و بیش 200 سال تو قدیم ہوگا جو اکیسویں صدی میں منظر عام پر آیا اور اسے دو دن میں مٹی سے بھر کر بند کر دیا گیا۔ جس طرح ہمارے بہت سارے دیگر آثار جو سنبھالے نہ جا سکے، انہیں بند کر دیا گیا یا گرا دیا گیا۔ نہ جانے ایسے ہی لاہور کی تاریخ و تہذیب کے گم شدہ گوشے کہاں کہاں دفن ہیں جو کہیں نہ کہیں کبھی کبھار ایک جھلک دکھا کر اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہیں اور پھر زمین میں گاڑ دیئے جاتے ہیں۔



