ایمپرس روڈ کی سیر کرتے ہوئے جب ہم ہوٹل کارلٹن ٹاور کے سامنے سے گزرے تو ملحقہ گلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شہزاد فراموش نے بتایا کہ اس کے اندر مکتبہ جدید کا دفتر پایا جاتا ہے. ہمیں یاد آیا کہ عارف نوناری نے نارووال کے معروف شاعر، ادیب اور استاد نسیم درمانوی کی کتاب "سرزمین ظفروال” مکتبہ جدید لاہور سے ہی شائع کروائی تھی، مکتبہ جدید کے مالک کا تعلق لاہور کے مشہور قدیمی ناشرین کے خاندان سے تھا جن کے بزرگوں چوہدری برکت علی، چوہدری نذیر احمد اور حنیف رامے نے معروف رسائل وجرائد ماہنامہ ادب لطیف، سویرا، نصرت اور اخبار روزنامہ مساوات جاری کئے تھے، شہزاد فراموش نے بتایا کہ مکتبہ جدید کا ادارہ اب رشید چوہدری کے صاحبزادے حسن رشید چلاتے ہیں. ہم نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو شہزاد فراموش ہمیں اور طارق کامران کو ساتھ لے کر اس بند گلی میں داخل ہو گئے جس کے آخری سرے پر مکتبہ جدید کا پرنٹنگ پریس اور بالائی منزل پر دفتر تھا، حسن رشید تو اپنے دفتر میں موجود نہ ملے البتہ ملحقہ کمرے میں بیٹھے صاحب کی صورت ہمیں شناسا لگی, انہوں نے بھی ہمیں پہچان لیا وہ معروف محقق لکھاری پرویز انجم تھے۔
پرویز انجم سے ہماری پہلی اور آخری ملاقات برسوں قبل پاک ٹی ہاؤس میں حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس پر ہوئی تھی جس کے دوران انہوں نے غالباً منٹو پر کوئی تحریر پڑھی تھی۔ ہم نے ان کا شہزاد فراموش اور طارق کامران سے تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ پرویز انجم کا تعلق ہمارے شہر فیصل آباد سے ہے۔ انہوں نے خود کو منٹو کیلئے وقف کر رکھا ہے۔ پس منظر پر رہتے ہوئے کام کرتے رہتے ہیں، سعادت حسن منٹو پر ان کی متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں۔ منٹو پر جتنا تحقیقی کام ان کا چھپ چکا ہے اتنا کوئی ادارہ بھی نہیں کر سکتا تھا، پرویز انجم نے بتایا کہ ان کی اب تک 45 کتب شائع ہو چکی ہیں اس وقت بھی مکتبہ جدید سے ان کی منٹو پر نئی کتاب زیر طبع ہے، ہم نے شہزاد فراموش کو پرویز انجم کی کمرے میں موجود نئی کتاب کی کاپیاں دکھائیں تو وہ ان پر نگاہ ڈال کر پرویز انجم کے گرویدہ ہو گئے اور ان سے کہنے لگے کہ وہ شوبز کی صحافت کرتے چلے آرہے ہیں۔ منٹو پر کتاب کا موضوع ان کا پسندیدہ ہے، کبھی پریس کلب آئیں ہم آپ کے ساتھ نشست رکھتے ہیں پرویز انجم کہنے لگے کہ میں پریس کلب نہیں جاتا حالانکہ متعدد مرتبہ کلب کا صدر رہنے والے ارشد انصاری سے ان کی رشتے داری بھی ہے اور ارشد انصاری کے بھائی ان کی بھابھی کے بہنوئی ہیں۔ ہم نے پوچھا کہ ارشد انصاری کے کون سے بھائی؟ تو پرویز انجم نے بتایا کہ رئیس انصاری اور ان کے بھائی ہم زلف ہیں۔ اسی وقت ملازم نے آ کر بتایا کہ حسن رشید رامے اپنے کمرے میں پہنچ گئے ہیں۔ ہم نے پرویز انجم کا انٹرویو کرنے کیلئے ان کا موبائل نمبر نوٹ کیا اور رخصت چاہی۔

حسن رشید رامے بڑی باغ و بہار شخصیت کے مالک ثابت ہوئے۔ ان کے ساتھ ہم تینوں خاصی دیر تک گپ شپ کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے واہ میں ملازمت کرتے رہے پھر امریکہ چلے گئے تھے جہاں سے وطن واپس آ کر خاندانی اشاعتی ادارہ چلا رہے ہیں۔ اب ان کے صاحبزادے بھی اشاعتی کاروبار میں ہاتھ بٹا رہے ہیں جو اس دوران وہاں آگئے اور حسن رشید رامے نے ہمارا اپنے صاحبزادے سے بھی تعارف کروایا۔ دونوں باپ بیٹے کا شہزاد فراموش کے ساتھ دیرینہ تعلق تھا، وہ آپس میں ملتے ملاتے رہے تھے تاہم ہماری ان سے پہلی ملاقات تھی اور ہم حسن رشید رامے کی شخصیت سے خاصے متاثر ہوئے تھے۔ لاہور کے قدیمی خاندانی لوگوں کی طرح کھلے ڈھلے انداز میں بات کرتے تھے۔ ہم تینوں کی طرح انہیں بھی عمران خان سخت ناپسند لگتا تھا ہمیں تو وہ زہر ہی لگتا ہے کیونکہ عمران خان نے وزیر اعظم بن کر میڈیا کا جو سنگین بحران پیدا کیا تھا اس کی وجہ سے دیگر سیکڑوں صحافیوں کی طرح ہم تینوں صحافی دوست بھی بیروزگار ہو گئے تھے۔ حسن رشید رامے شاید پی ٹی آئی دور میں ملکی معیشت کی تباہی کے باعث عمران خان کو ناپسند کرتے تھے۔
مکتبہ جدید کے دفتر سے نکل کر ہم واپس ایمپریس روڈ پر آگئے، کارلٹن ٹاور ہوٹل کے سامنے سڑک پار ہمیں گورنمنٹ مسلم لیگ ہائی سکول کی دیوہیکل لال عمارت دکھائی دی، مسلم ہائی سکول تو ہر شہر میں پائے جاتے ہوں گے لیکن مسلم لیگ ہائی سکول شاید صرف لاہور میں ہی پایا جاتا ہے، مسلم لیگ سکول سے آگے لنڈا بازار شروع ہو جاتا تھا جو چوک تک چلا گیا تھا اس چوک میں ایمپریس روڈ پر حاجی کیمپ کی قدیمی عمارت واقع ہے۔ ہم نے شہزاد فراموش اور طارق کامران کو بتایا کہ حاجی کیمپ کی یہ قدیمی عمارت غالباً ماضی میں دیال سنگھ کالج کا ہوسٹل ہوا کرتا تھا، چوک میں نکلسن روڈ پر اورنج لائن ٹرین کا بالائی ٹریک بنا ہوا تھا۔ اسی وقت لکشمی چوک کی جانب سے آنے والی ٹرین گزرتی دکھائی دی، ہمیں بھوک محسوس ہونے لگی۔ ہم نے طارق کامران اور شہزاد فراموش کے ساتھ مشورہ کیا اور پھر کوزی حلیم کھانے لکشمی چوک روانہ ہو گئے، رائل پارک سے نان حلیم کھانے کے بعد ہم تینوں ایبٹ روڈ کے ذریعے پریس کلب واپس آگئے تھے۔
اگلے روز ایمپرس روڈ کا روٹ مکمل کرنے کیلئے ہم فلیٹ سے نکلے اور ریڈیو اسٹیشن کے باہر چنگچی رکشے میں سوار ہو کر اکیلے ہی حاجی کیمپ چوک جا پہنچے تھے جہاں ریلوے اسٹیشن اور لکشی چوک کی طرف چنگچی رکشے آجا رہے تھے ہم نے چوک پار کیا تو دائیں طرف گورنمنٹ کنئیرڈ گرلز ہائی سکول نظر آیا، سینیئر صحافی اور پریس کلب کے لائف ممبر سعید اختر کی بیگم گوجرانوالہ تبادلے اور ریٹائرمنٹ سے قبل اس سکول کی ڈپٹی ہیڈ مسٹریس بھی رہی تھیں، گورنمنٹ کنیئرڈ سکول کے سامنے سڑک پار کنیئرڈ اکیڈمی گرلز ہائی سکول بھی پایا جاتا ہے، سپیڈو بس اڈے کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہم نے گیٹ میں اندر جھانکا تو دور رانا ٹاؤن جانے والے مسافر قطار میں کھڑے اپنے روٹ کی بس کا انتظار کر رہے تھے۔ ان سے آگے غالباً چوبرجی جانے والی بس تیار کھڑی تھی، سپیڈو بس اڈے سے آگے نورانی مسجد تھی جس کے بعد کونے پر ٹریفک پولیس کا دفتر واقع تھا۔ موڑ سے ذرا آگے دائیں طرف بس سٹینڈ کے ساتھ سیلانی ٹرسٹ کا لنگر خانہ تھا جس کے اندر ایک شخص تنہا کرسی پر بیٹھا ہوا دکھائی دیا، سیلانی لنگر خانے سے آگے 2 الیکٹرو بسیں آگے پیچھے کھڑی تھیں جن کے عقب میں محکمہ سماجی بہبود و بیت المال کے سرکاری لنگر خانے کی پیلی عمارت دکھائی دے رہی تھی

ریلوے اسٹیشن کے سامنے والے پارک میں تعمیراتی کام جاری تھا۔ پارک کے باہر بس سٹینڈ کی جانب والے فٹ پاتھ پر بڑے بڑے بورڈز نصب تھے جن پر وزیراعلیٰ مریم نواز اور لاہور شہر بحالی منصوبہ کمیٹی کے چیئرمین سابق وزیراعظم نواز شریف کی تصاویر کے ساتھ یہ اطلاع درج تھی کہ ریلوے اسٹیشن، مصری شاہ اور سرکلر روڈ کی پہلی بار اربن ری جنریشن منصوبے کے تحت ریلوے اسٹیشن کے اطراف 3 کلومیٹر علاقے میں ترقیاتی کام کروائے جا رہے ہیں جن کی مدت تکمیل 6 ماہ ہوگی، ریلوے اسٹیشن کے سامنے پارک کے پار متعدد ہوٹل پائے جاتے ہیں۔ کسی زمانے میں یہاں سے فلائنگ کوچز مسافروں کو لے کر دوسرے شہروں کو روانہ ہوتی تھیں۔ ہم گھوم کر ریلوے اسٹیشن کے سامنے پہنچ گئے۔ ڈاک خانے کی جانب کسی دور میں جی ٹی ایس کا اڈہ ہوا کرتا تھا۔ ہم جی ٹی ایس کی بس پر کئی بار لاہور آئے تھے۔ اس زمانے میں فیصل آباد اور لاہور کے درمیان نان سٹاپ ٹرین ابھی چلنا شروع نہیں ہوئی تھی۔ ہم نے موبائل کیمرے سے ریلوے اسٹیشن کی تصویر بنائی اور شملہ پہاڑی چوک جانے کیلئے الیکٹرو بس میں سوار ہو گئے تھے۔



