گزرگاہیںلاہورمقامات

ایمپریس روڈ کی سیر (1)

 میم سین بٹ

لاہور کی اہم ترین شاہراہوں میں مال روڈ اور میکلوڈ روڈ کے بعد ہم ایمپریس روڈ کا نام لے سکتے ہیں. یہ گورنر ہاؤس کے عقب میں شملہ پہاڑی چوک سے شروع ہو کر ریلوے اسٹیشن تک جاتی ہے. پریس کلب، ریڈیو سٹیشن، پولیس لائن، ریلوے ہیڈ کوارٹرز، حاجی کیمپ جیسی مشہور عمارتیں اس شاہراہ پر پائی جاتی ہیں. شملہ پہاڑی چوک میں ایمپریس روڈ کے ساتھ ڈیوس روڈ، ایجرٹن روڈ اور ایبٹ روڈ بھی شروع ہوتی ہیں. ایمپریس روڈ کو وسط میں نکلسن روڈ بھی کراس کرتی ہے. نکلسن روڈ پر بنے بالائی ٹریک سے اورنج لائن ٹرین گزرتی ہے، ایمپریس روڈ بنیادی طور پر گورنر ہاؤس کے عقبی حصے سے شروع ہوتی ہے ایمپریس روڈ کا آغاز بھی غالباً مال روڈ سے کیا گیا ہو گا اور بعدازاں اس شاہراہ کے شروع میں گورنر ہاؤس تعمیر کر دیا گیا ہو گا شملہ پہاڑی چوک سے پہلے اس سڑک کے شروع میں پرانے ریڈیو سٹیشن کی عمارت اور اس کے سامنے فیض احمد فیض کی پرانی کوٹھی پائی جاتی ہے۔ فیض کی پرانی کوٹھی میں اب محکمہ سماجی بہبود اور بیت المال کے دفاتر پائے جاتے ہیں۔ ان دونوں پرانی عمارتوں سے بھی پہلے امریکی قونصل خانہ واقع ہے اور سکیورٹی کے حوالے سے گورنر ہاؤس کا عقبی مین گیٹ شملہ پہاڑی چوک میں لگا کر اندرونی علاقے کو عام ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا تھا۔ ہم نے کچھ عرصہ قبل سینئر صحافی دین محمد درد کے ساتھ گورنر ہاؤس کے عقبی گیٹ سے اندر جا کر پرانے ریڈیو سٹیشن اور فیض احمد فیض کی پرانی کوٹھی والی دونوں عمارتیں دیکھی تھیں۔ ایمپریس روڈ کو سرکاری طور پر بن بادیس روڈ کا نام دے دیا گیا تھا لیکن شہری اسے بدستور ایمپریس روڈ کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔

     گورنر ہاؤس کے عقبی گیٹ کے ساتھ بائیں طرف نادرا سنٹر ہے جبکہ دائیں جانب پریس کلب ہے۔ دونوں کی عمارتیں دن رات کھلی رہنے سے شملہ پہاڑی چوک میں رونق رہتی ہے، ڈیوس روڈ کے بعد ایمپریس روڈ کی سیر کیلئے ہم نے طارق کامران اور شہزاد فراموش کو ساتھ لیا اور پریس کلب سے نکل کر شملہ پہاڑی چوک میں پہنچ گئے جہاں بلدیہ عظمٰی کی جانب سے سید امتیاز علی تاج چوک کا بورڈ نصب تھا مگر بیشتر شہریوں کو اس کا علم ہی نہیں اور وہ بدستور اس چوراہے کو شملہ پہاڑی چوک ہی کہتے ہیں۔ اس مشہور چوک میں ایمپریس روڈ کے آغاز پر دائیں طرف شیل کا پٹرول پمپ ہے، بائیں جانب بھی کچھ عرصہ پہلے تک پٹرول پمپ رہا تھا جسے مسمار کر دیا گیا تھا۔ ایمپریس روڈ کے بائیں کونے پر ریڈیو سٹیشن کی عمارت واقع ہے طارق کامران ماضی میں ریڈیو پروگراموں میں شریک ہوتے رہے تھے۔ اب شہزاد فراموش اور سعید اختر ریڈیو پروگرام میں شریک ہوتے رہتے ہیں۔ لاہور کے بارے میں یہ ریڈیو پروگرام صحافی شبیر صادق کی میزبانی میں نشر ہوتا ہے ہم بھی ان کی دعوت پر ایک پروگرام میں شریک ہو چکے ہیں مگر پروگرام کے دوران ہم خاموش ہی رہے تھے۔ ہمارے بہاولپوری دوست امجد کلیار بھی ریڈیو پروگرام کی میزبانی کرتے ہیں۔ ریڈیو کے ڈائریکٹر نیوز سجاد پرویز بھی بہاولپور کے رہنے والے ہیں جن کی معروف اردو ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کے ریڈیو انٹرویوز پر مشتمل کتاب "٢٢ لوگ” شائع ہو چکی ہے۔ جب امجد کلیار نے ہمیں سجاد پرویز سے پہلی بار ریڈیو سٹیشن میں ملوایا تھا تو انہوں نے اپنی کتاب ہمیں دی تھی جسے پڑھ کر ہم نے اس پر کالم لکھا تھا۔

    شیل پٹرول پمپ کے ساتھ اور ریڈیو سٹیشن کے سامنے بلند و بالاعمارت ایمپریس ٹاور پائی جاتی ہے، ریڈیو سٹیشن کے سامنے سے گزرے تو مین گیٹ میں صحافی نواز طاہر موٹر بائیک پر داخل ہوتے دکھائی دیئے۔ وہ ریڈیو کیلئے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ریڈیو سٹیشن سے اگلی جہازی سائز کی عمارت فیروز سنز کی ملکیتی ہے جس میں شریف خاندان کی اتفاق انڈسٹریز کے دفاتر پائے جاتے تھے۔ ہم نے طارق کامران اور شہزاد فراموش کو بتایا کہ بینظیر بھٹو جب پہلی بار وزیراعظم بنی تھیں تو وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف کے والد میاں شریف کو ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے رحمان ملک کے ذریعے اسی عمارت میں واقع دفتر سے گرفتار کر کے طیارے کے ذریعے اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا، فیروز سنز بلڈنگ کے سامنے سڑک پار نواب قزلباش خاندان کی پرانی کوٹھی میں سے جگہ خرید کر سابق نگران وزیراعلیٰ پنجاب اور موجودہ وفاقی وزیرداخلہ محسن رضا نقوی نے مزار بی بی پاک دامن تک نئی کشادہ سڑک تعمیر کروائی تھی۔ ایمپریس روڈ پر کچھ آگے کارپٹ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کی عمارت پائی جاتی ہے۔ مزید آگے دائیں ہاتھ گھاٹی نیچے اترتی ہے، یہ مزار بی بی پاکدامن جانے والا پرانا راستہ ہے جس کی دائیں ہاتھ پہلی گلی میں روزنامہ الشرق کا دفتر رہا تھا جہاں ایڈیٹر امجد اقبال کی زیرادارت ہم نے بھی نیوز روم میں کچھ عرصہ کام کیا تھا۔ اس دفتر سے روزنامہ الشرق کا  لاہور ایڈیشن جاری کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے لاہور میں دبئی کا الشرق اخبار تیار کیا جاتا تھا۔ گھاٹی کی دوسری جانب سڑک پار پولیس لائن کا مین گیٹ ہے جہاں چند برس قبل خود کش دھماکہ ہوا تھا۔

    ہم نے کتاب میں چھاپنے کے لئے پولیس لائن کے مین گیٹ کی موبائل فون سیٹ کے کیمرے سے چند تصاویر بنائیں تو ڈیوٹی اہلکار ہم سے موبائل فون سیٹ چھیننے دوڑے آئے مگر ہم نے بھی سخت مزاحمت کرتے ہوئےانہیں موبائل فون نہ دیا اور انہیں بتایا کہ ہم تینوں صحافی ہیں پریس کلب سے آ رہے ہیں اور ایمپریس روڈ پر فیچر تیار کر رہے ہیں۔ سب انسپکٹر نے کہا کہ ہمارے افسروں نے سختی سے ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ کسی کو بھی پولیس لائن کے گیٹ کی تصویریں نہ کھینچنے دی جائیں، لہذا انہیں ڈیلیٹ کر دیں۔ ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے ڈیلیٹ کر دیتے ہیں لیکن ابھی ہم پریس کلب جا کر اپنے فوٹو گرافر کو بھیجیں گے اسے تصاویر بنانے سے روک کر دکھانا سب انسپکٹر کہنے لگا کہ آپ نے اگر تصویریں بنانی تھیں تو پہلے آکر ہم سے کہتے ہم افسروں سے اجازت دلوا دیتے ہیں۔ بہرحال ہم نے ایک تصویر کے سوا باقی تین چار تصویریں ڈیلیٹ کر دیں اور آگے بڑھ گئے۔ طارق کامران اور شہزاد فراموش پولیس ایکشن پر سخت خوفزدہ ہوگئے تھے۔ ہم نے طارق کامران سے کہا کہ ہماری جگہ اگر شہزاد فراموش ہوتے تو مزاحمت کرنے کی بجائے شاید اپنا موبائل فون پولیس ملازمین کو دے کر چپ چاپ پریس کلب لوٹ جاتے حالانکہ بھگت سنگھ ان کا آئیڈیل ہے۔

    تفنن برطرف پولیس لائن سے ذرا آگے سینٹ انتھونی چرچ پایا جاتا ہے جس کے ساتھ ڈان باسکو سکول بھی ہوا کرتا تھا۔ ہم نے گیٹ کے سامنے پہنچ کر سینٹ انتھونی چرچ کی تصویر بنائی اور آگے  چل دیئے۔ سڑک پار ریلوے ہیڈکوارٹرز کا مین گیٹ دیکھ کر ہمیں تقریباً ربع صدی پہلے کا زمانہ یاد آگیا جب ہم پہلی بار ریلوے پریس کارڈ بنوانے یہاں آئے تھے۔ ریلوے کے شعبہ تعلقات عامہ کا دفتر پہلے عمارت کے شروع میں ہی کونے پر ہوتا تھا اور صحافیوں کے رعائتی ریلوے کارڈز اعجاز شاہ بنایا کرتے تھے جو اس دور میں ابھی کلرک ہوا کرتے تھے، ان کے ساتھ ایک خاتون ملازم بھی ڈیوٹی کرتی تھیں۔ ریلوے کے شعبہ تعلقات عامہ کا دفتر بعدازاں ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں ہی ریزرویشن آفس سے آگے  بالائی منزل پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ اعجاز شاہ ترقی کرکے اب انفارمیشن آفیسر بن چکے ہیں۔ مختلف ریلوے وزراء اپنے اپنے ادوار میں ڈائریکٹر تعلقات عامہ کے عہدے پر اپنے خاص صحافی تعینات کرتے رہے تھے۔ سابق وفاقی وزیر ریلوے میاں شمیم حیدر نے اپنے علاقے کے رہائشی شاہد اسلام کو ڈائریکٹر تعلقات عامہ بھرتی کیا تھا جو قبل ازیں ہمارے ساتھ فیصل آباد کے اخبار روزنامہ پنجاب نیوز میں کام کر چکے تھے اور اس سے پہلے روزنامہ خبریں لاہور کے ساتھ بھی وابستہ رہ چکے تھے۔ میاں شمیم حیدر کی وزارت بدلنے پر میاں شاہد اسلام بھی ان کے ساتھ ہی دوسری وزارت میں چلے گئے تھے۔ تاہم ان کے چھوٹے بھائی طاہر اسلام اب بھی ریلوے کے شعبہ تعلقات عامہ میں انسپکٹر ہیں، خواجہ سعد رفیق کے ادوار میں پہلے رؤف طاہر اور پھر نجم ولی خان ریلوے کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ تعینات رہے تھے جبکہ پی آئی ڈی کی طرف سے پہلے قرۃ العین حیدر انفارمیشن افیسر رہی تھیں اب بابر رضا انفارمیشن آفیسر ہیں جو صحافی ندیم رضا کے بھائی ہیں اور قصبہ للیانی سے تعلق رکھتے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق کے زمانے میں ہمارے سکول کے سیکنڈ ہینڈ ماسٹر چوہدری انور بوبک کے بڑے صاحبزادے اور حلقہ ارباب ذوق کے رکن محمد جاوید انور  جنرل منیجر/ چیف ایگزیکٹو اور سیکرٹری ریلویز رہے تھے پھر عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی انہیں او ایس ڈی بنا دیا گیا تھا اور وہ غالباً بطور او ایس ڈی ہی چند ماہ بعد ریٹائر ہوگئے تھے۔

سینٹ انتھونی چرچ

    ریلوےہیڈ کوارٹرز کے باہر کوئلہ سے چلنے والا پرانا سٹیم  انجن رکھا گیا ہے۔ ہم نے اس کی تصویر بنائی اور آگے بڑھ گئے۔ ریلوے ہیڈ کوارٹرز سمیت ایمپریس روڈ کے آر پار کی وسیع زمین انگریزوں نے پہلے 1839ء کی افغان جنگ میں ساتھ دینے پر نواب علی رضا قزلباش کو دی تھی اور انہیں لاہور کا اعزازی مجسٹریٹ بنادیا تھا۔ نواب علی رضا قزلباش نے 1857ء کی جنگ آزادی میں بھی انگریزوں کا ساتھ دیا تھا بعدازاں انگریز حکومت نے نواب قزلباش خاندان سے لیز پر ایمپریس روڈ کی کچھ جگہ لے کر یہاں ریلوے ہیڈ کوارٹرز تعمیر کر دیا تھا۔ نواب علی رضا قزلباش کے بیٹے نواب نثار علی خاں قزلباش کے نام سے ہی اندرون لاہور موچی دروازہ اور اکبری دروازے کے درمیان واقع مشہور نثار حویلی منسوب ہے جہاں سے محرم کا مرکزی سالانہ جلوس برآمد ہوتا ہے جو بیرون بھاٹی چوک میں کربلا گامے شسہ پہنچ کر ختم ہوتا ہے۔ نواب نثار علی خاں قزلباش کے بیٹے سر فتح علی خاں قزلباش نے بھی چترال کی جنگ میں انگریزوں کا ساتھ دیا تھا، وہ تقسیم ہند سے قبل پنجاب لیجسلیٹو کونسل (صوبائی اسمبلی) کے رکن بھی رہے تھے، قزلباش خاندان کے نواب مظفر علی خاں قزلباش آزادی کے بعد پاکستان کے وفاقی وزیر اور مغربی پاکستان کے وزیراعلیٰ جبکہ اس گھرانے کی خاتون بیگم افسر رضا قزلباش صوبائی وزیر رہی تھیں۔

     نواب قزلباش خاندان کی ملکیتی ایک پرانی کوٹھی ریلوے ہیڈ کوارٹرز کے سامنے بھی سڑک پار پائی جاتی ہے۔ ہم تینوں نے ایمپریس روڈ کی کوٹھی نمبر 20 کے سامنے سے گزرتے ہوئے گیٹ کے اندرجھانکا تو اندرونی حصہ بہت وسیع وعریض دکھائی دیا پٹھان چوکیدار نے بتایا کہ معلومات کیلئے ہمیں دن کے وقت آنا ہوگا۔ اس وقت منیجر دفتر میں موجود نہیں، ایمپریس روڈ پر ریلوے ہیڈ کوارٹرز سے آگے سینٹ اینڈریوز چرچ اور اس سے ملحقہ کیتھڈرل سکول تھا۔ ان کے عقب میں مورخ ملا صالح کمبوہ کا مقبرہ تھا۔ چرچ اور سکول کے سامنے سڑک پار انڈسٹریل پارک قائم کیا گیا تھا اس کے ساتھ بزرگ صحافی احمد عزیز ضیا کی پرانی کوٹھی تھی۔ ہم نے طارق کامران اور شہزاد فراموش کو بزرگ صحافی احمد عزیز ضیا مرحوم کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے عملی صحافت کا آغاز پاکستان ٹائمز سے بطور سب ایڈیٹر کیا تھا۔ بعدازاں ترقی کرکے راولپنڈی میں ریذیڈنٹ ایڈیٹر اور لاہور میں پاکستان ٹائمز اور دی نیشن کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے علاوہ پی پی ایل کے جنرل مینجر اور مظہر علی خان کے ویکلی ویو پوائنٹ کے پرنٹر پبلشر بھی رہے تھے۔ علاوہ ازیں احمد عزیز ضیا پنجاب یونیورسٹی شعبہ صحافت میں جزوقتی استاد بھی رہے تھے ان کا 2 عشرے پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ (جاری )

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button