گزرگاہیںلاہور

ڈیوس روڈ کی سیر

میم سین بٹ

لاہور کی اہم سڑکوں میں ڈیوس روڈ بھی شامل ہے جو شملہ پہاڑی چوک میں ایمپریس روڈ سے شروع ہوتی ہے اور تقریبا ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد کلب روڈ چوک میں مال روڈ سے جا ملتی ہے. اس سڑک پر پریس کلب، چند اخبارات اور ٹی وی چینلز کے دفاتر، 3 پٹرول پمپ، 10 بینک، 12 ہوٹل اور ریسٹورنٹ پائے جاتے ہیں. جن بینکوں کی ڈیوس روڈ پر شاخیں پائی جاتی ہیں ان میں حبیب بینک، حبیب میٹرو بینک، پنجاب بینک تقوی اسلامک بینک، نیشنل بینک، ریسورس انویسٹمنٹ بینک، میزان بینک، ایم سی بی، ایم سی بی اسلامک اور یو بی ایل شامل ہیں جبکہ ہوٹلوں میں فلیٹیز ایکسپریس، گرینڈ اِن، ایمبیسڈر، ڈیوائن، پریمیئر اِن، گرینڈ ملینیم، پاک ہیریٹیج، شاہجہاں، شنگھائی، گرینڈ رائل اور فیملی اِنز اپارٹمنٹس وغیرہ شامل ہیں. اخبارات اور ٹی وی چینلز میں سے روزنامہ جنگ، روزنامہ قوت، دی نیوز اورجیو نیوز کے دفاتر باقی رہ گئے ہیں. پہلے روزنامہ آواز، روزنامہ انقلاب، روزنامہ وقت، روزنامہ مساوات، روزنامہ حریف، روزنامہ تازہ اخبار، روزنامہ جرات و روزنامہ تجارت اور روزنامہ مشرق کے علاوہ نظام ٹی وی اور کیپٹل ٹی وی کے دفاتر بھی ڈیوس روڈ پر پائے جاتے تھے۔
ڈیوس روڈ پنجاب کے انگریز لیفٹیننٹ گورنر سر رابرٹ ہنری ڈیوس سے منسوب بتائی جاتی ہے، ہم ڈیوس روڈ کی سیر کیلئے فلیٹ سے نکلے اور شملہ پہاڑی چوک پہنچ گئے. ہمارے بائیں طرف کونے پر شیل کا پٹرول پمپ تھا جس کے عقب میں ایمپریس ٹاور کی عمارت کھڑی تھی جبکہ دائیں جانب کونے پر بھی پہلے پٹرول پمپ ہوا کرتا تھا جسے غیرقانونی ہونے کی وجہ سے چند برس قبل مسمار کر دیا گیا تھا جبکہ اس سے ملحق ورکشاپ کو ختم نہ کیا گیا تھا جس کی حیثیت شاید قانونی تھی اس ورکشاپ کے پیچھے پریس کلب کا عقبی حصہ ہے. ورکشاپ سے ذرا آگے فائراسٹیشن کا پمپ نصب رہا ہے جس کے نیچے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی بھرا جاتا تھا. اسی جگہ جنرل پرویز مشرف کی فوجی آمریت کے دوران ضامن سنٹر کے سامنے رات 2 بجے عقب سے آنے والی تیز رفتار لینڈ کروزر ہماری موٹر بائیک کو ٹکر مار کر ڈیوس روڈ پر سیدھی چلی گئی تھی اور ہم سڑک پر گر کر دور تک گھسٹنے سے زخمی ہو گئے تھے, ہماری موٹر بائیک بھی ٹوٹ پھوٹ گئی تھی. ضامن سنٹر کے پہلے گیٹ کے ساتھ کسی زمانے میں سرکاری ڈاکخانہ ہوا کرتا تھا اب کچھ عرصہ سے یہاں فلیٹیز ایکسپریس ہوٹل کھل چکا ہے۔
ہم ضامن سنٹر سے ذرا آگے بڑھے تو جامع مسجد شملہ پہاڑی کے باہر بچھی صفوں پر لوگ جمعہ کی فرض نماز سے پہلے سنتیں پڑھ رہے تھے شملہ پہاڑی جامع مسجد کے مہتمم قاری کریم داد سواتی ، امام حافظ عبدالسلام اور نکاح رجسٹرار حاجی عبدالوہاب سواتی ہیں، پریس کلب کے نمازی ممبرز بھی نماز جمعہ اسی مسجد میں ادا کرتے ہیں جبکہ باقی نمازیں کلب کے اندر بنی مسجد میں پڑھتے ہیں. ڈیوس روڈ کے پہلے چوک میں بائیں جانب سڑک کوئین میری کالج کے سامنے سے گزر کر چوک گڑھی شاہو میں علامہ اقبال روڈ سے جا ملتی ہے جبکہ دائیں جانب پریس کلب، گورنر ہاؤس کے عقبی گیٹ کے سامنے سے گزر کر سڑک شملہ پہاڑی چوک میں ایمپریس روڈ اور ایجرٹن  روڈ سے جا ملتی ہے جہاں نادرا سنٹر پایا جاتا ہے. ڈیوس روڈ کے پہلے چوک میں ہم دائیں جانب موڑ موڑ کر پریس کلب کے گیٹ میں سے اندر داخل ہو گئےتقریباً ربع صدی قبل پہلی بار ہم پریس کلب آئے تھے، استقبالیہ سے آگے گیلری میں بڑے سے بورڈ پر ووٹرز لسٹ لگ چکی تھی ہم نے لائف ممبرشپ کی فہرست چیک کی تو ہمارا ووٹ نمبر 321 تھا۔ سالانہ انتخابات کیلئے پولنگ 2 روز بعد ہونی تھی لہذا پریس کلب میں خوب گہما گہمی دکھائی دے رہی تھی چیئرمین الیکشن کمیٹی شفیق اعوان کلب میں گھوم پھر کر انتظامات کا جائزہ لے رہے تھے۔ ہم نے طارق کامران اور شہزاد فراموش کو ساتھ لیا اور پریس کلب سے نکل کر ڈیوس روڈ پر آگئے، دائیں کونے والی عمارت میں پہلے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے دفاتر پائے جاتے تھے جبکہ کوئین میری کالج روڈ والی نکڑ پر بیکرز کارنر کنفیکشنرز اینڈ گروسریز سٹور پایا جاتا تھا جہاں سے ہم خریداری کیا کرتے تھے۔ یہ رات ایک بجے تک کھلا رہتا تھا طارق کامران نے بتایا کہ وہ ادبی اجلاسوں کیلئے بسکٹ، چپس اور نمکو وغیرہ اس سپر سٹور سے منگوایا کرتے تھے۔ شہزاد فراموش نے کہا کہ وہ بھی حلقہ ادب و صحافت کیلیے اس دکان سے خریداری کیا کرتے تھے چند برس قبل یہ سپر سٹور اچانک بند کر دیا گیا تھا۔
تصویر: میم سین بٹ

بیکرز کارنر کنفیکشنرز اینڈ گروسریز سے ذرا آگے سڑک کنارے سائیکل پر اخبارات بیچنے والے اخبار فروش سے ہم روزنامہ آج کل اور روزنامہ جناح کے پرچے خریدا کرتے تھے جن میں ہمارے کالم شائع ہوتے تھے۔ ہم پنجاب فارمیسی کے سامنے پہنچے تو طارق کامران بلڈپریشر کی گولیاں خریدنے اندر چلے گئے، پنجاب فارمیسی سے ملحق جاز فرنچائز پوائنٹ پر ہم چند مرتبہ گئے تھے اس سے آگے واقعہ ایمبیسڈر ہوٹل کی چند تقریبات میں ہم بھی شریک ہوئے تھے۔ شہزاد فراموش نے بتایا کہ ایمبیسڈر ہوٹل کچھ مدت تک بند رہنے کے بعد کھلا ہے اور وہ بھی ورلڈ پنجابی کانگریس اور دیگر تنظیموں کی اس ہوٹل میں ہونے والی متعدد تقریبات میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ ایمبیسڈر ہوٹل سے آگے ڈیوس روڈ کا دوسرا پٹرول پمپ غالباً بند پڑا تھا اور وہاں پر پٹھانوں نے خشک میوہ جات کی فرشی دکان سجا رکھی تھی، سامنے سڑک پار مساوات اخبار والی گلی کے داخلی راستے پر روزنامہ قوت اخبار کا بڑا سا بورڈ نصب تھا۔ اس گلی کے آغاز میں کبھی نظام ٹی وی کا دفتر ہوتا تھا جہاں غالباً سلیم بٹ مرحوم بھی کام کرتے تھے، روزنامہ صحافت اور بعدازاں روزنامہ وقت کا دفتر بھی اسی گلی کے شروع میں ہوتا تھا۔ اس گلی میں روزنامہ مساوات کا دفتر بھی کئی سال تک رہا تھا طارق کامران بھی اس زمانے میں روزنامہ مساوات اور روزنامہ وقت میں کام کیا کرتے تھے۔

طارق کامران نے بتایا کہ ان کے اخبار روزنامہ وقت کا دفتر بھی پہلے اسی گلی میں رہا تھا پھر جب مالک علیم خان نے اسے میر شکیل الرحمٰن کو فروخت کر دیا تھا تو پھر 6 ماہ بعد روزنامہ وقت کا دفتر جنگ بلڈنگ میں منتقل کر دیا گیا تھا جہاں چند سال بعد میڈیا بحران کے باعث جنگ گروپ نے روزنامہ وقت کو بند کر دیا تھا جس سے وہ تمام عملے سمیت بیروزگار ہو گئے تھے، روزنامہ وقت کا دفتر جب مساوات والی گلی میں ہوتا تھا تو ہم اپنے بھائی فیاض کاشر کو ڈیوس روڈ پر ایمبیسڈر ہوٹل کے سامنے کار میں چھوڑ کر سڑک پار کرنے کے بعد چیف نیوز ایڈیٹر سعید چوہدری کو سی وی دینے گئے تھے تو ہمارے بھائی کو راہزن لوٹ گئے تھے۔ ہم تینوں جنگ بلڈنگ کے سامنے پہنچے تو اس کی ویران حالت دیکھ کر حیران رہ گئے کسی زمانے میں یہ بڑی پر رونق عمارت ہوتی تھی نچلی منزل پر روزنامہ وقت کا دفتر ہوتا تھا بالائی منزل پر روزنامہ جنگ اور دی نیوز کے دفاتر پائے جاتے تھے  پریس کلب کے سالانہ الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران جنگ کے نیوز روم، میگزین اور رپورٹنگ روم میں جانے کا موقع ملتا تھا۔ کچھ عرصہ پیشتر روزنامہ جنگ کے بیشتر عملے کو فارغ کردیا گیا تھا اب جنگ اخبار کی کاپی کراچی میں تیار ہوتی ہے۔ لاہور میں صرف نامہ نگاروں کی خبروں پر مشتمل اندرونی 2 صفحات تیار کئے جاتے ہیں، طارق کامران اپنے دفتر کی یادوں میں کھو گئے تھے۔
ڈیوس روڈ پر روزنامہ جنگ کی عمارت۔ تصویر: میم سین بٹ
ہمیں کسی نے بتایا تھا کہ جنگ بلڈنگ کے دفاتر سامنے سڑک پار روزنامہ آواز کی عمارت میں منتقل کر کے جنگ بلڈنگ غالباً کسی بینک کو کرایہ پر دی جا رہی ہے۔ جنگ گروپ نے روزنامہ وقت کے ساتھ روزنامہ انقلاب بھی بند کر دیا تھا، اب کچھ عرصہ قبل جنگ گروپ نے روزنامہ آواز بھی بند کر دیا ہے جس کے بعد اس عمارت میں صرف جیو نیوز کا دفتر ہی باقی رہ گیا ہے۔ آواز بلڈنگ سے اگلی کے ایس بی بلڈنگ میں برسوں ایم سی بی کی برانچ رہی تھی جس میں ہمارا اکاؤنٹ بھی تھا ہم نے جب تقریباً ربع صدی قبل ایم سی بی میں اکاؤنٹ کھلوایا تھا تو اس وقت یہ برانچ آواری ہوٹل میں ہوتی تھی۔ شہزاد فراموش نے بتایا کہ ایم سی بی کی برانچ کے ایس بی بلڈنگ سے ڈیوس روڈ پر ہی آگے کسی گلی میں منتقل ہو چکی ہے ہم نے کے ایس بی بلڈنگ کی طرف دیکھا تو اس پر کے ایس بی پمپس کمپنی کے بورڈ نصب تھے۔ اسی قطار میں آگے کیپٹل ٹی وی کا دفتر ہوتا تھا جس کے پہلے شاداب ریاض اور پھر شہباز میاں بیوروچیف رہے تھے۔ کیپٹل ٹی وی کے ساتھ ندیم اقبال زاہد اور زاہد علی شاہ بھی وابستہ رہے ہیں۔
کیپٹل ٹی وی والی عمارت سے ذرا آگے پاک ہیرٹیج ہوٹل کی چند تقریبات میں ہمیں شرکت کا اتفاق ہو چکا ہے۔ اس کے بعد ڈیوس ہائٹس بلڈنگ میں اسلام آباد کے اخبار روزنامہ نیوز مارٹ کا دفتر ہوا کرتا تھا جس کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر شیر افضل بٹ رہے تھے ڈیوس ہائٹس بلڈنگ میں غالباً یاسین مغل کا دفتر بھی پایا جاتا ہے۔ ڈیوس ہائٹس کے سامنے  سڑک پار محکمہ زراعت کی عمارت میں سیکرٹری زراعت اور مختلف شعبوں کے چار پانچ ڈائریکٹر جنرل کے دفاتر بھی پائے جاتے ہیں زراعت ہائوس سے آگے ڈیوس روڈ کے تیسرے پٹرول پمپ سے ملحقہ مسلم لیگ ہاؤس پایا جاتا ہے جس کا ایک گیٹ چوک میں ڈیوس روڈ اور دوسرا گیٹ ٹھنڈی سڑک پر پایا جاتا ہے ٹھنڈی سڑک والے گیٹ کے دائیں بائیں چوہدری ظہور الہی، چوہدری شجاعت حسین اور ان کے بیٹوں اور پارٹی رہنمائوں کے بڑے بڑے تصویری بورڈز نصب تھے۔ جنرل پرویز مشرف کی فوجی آمریت کے دوران مسلم لیگ (ق) نے اس عمارت کا مسلم لیگ (ن) سے قبضہ لے لیا تھا اور مسلم لیگ (ن) نے بعد ازاں 2 مرتبہ برسر اقتدار آنے کے باوجود مسلم لیگ ہاؤس کا قبضہ واپس نہ لیا تھا۔ چوہدری پرویز الہیٰ کے تحریک انصاف کے صدر بننے اور چوہدری شجاعت حسین سے الگ ہونے پر مسلم لیگ ہاؤس سے ان کا تعلق ختم ہوگیا تھا حالانکہ مسلم لیگ ہاؤس پر چوہدری پرویز الہیٰ نے ہی قبضہ کیا تھا ہم تو مسلم لیگ ہاؤس کے اندر کبھی نہیں گئے تھے لیکن طارق کامران نے بتایا کہ وہ کئی برس قبل مسلم لیگ ہاؤس میں منعقدہ مشاعرے میں شرکت کر چکے ہیں۔ مسلم لیگ ہاؤس والے چوک سے لے کر کلب روڈ چوک مال روڈ تک ڈیوس روڈ کے دائیں طرف گورنر ہاؤس اور بائیں جانب ایچی سن کالج کی طویل دیوار پائی جاتی ہے۔ بائیں طرف مال روڈ  سے ذرا پیچھے دیوار میں ہمیں ایک گیٹ دکھائی دیا جس پر پرنسپل ہاؤس کی پلیٹ آویزاں تھی۔ ایچی سن کالج کی بنیاد 1886ء میں انگریز لیفٹننٹ گورنر پنجاب سرچارلس ایچی سن نے رکھی تھی اسے چیف کالج بھی کہا جاتا رہا ہے اس تعلیمی ادارے میں نوابوں، جاگیرداروں، زمینداروں اور سیاسی اشرافیہ کے بچے تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں جنہیں سول سروس اور فوج وغیرہ میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جاتا تھا۔ آزادی کے بعد  گورنمنٹ کالج میں پڑھنے والے سول سروس اور سیاست میں آنے لگے تھے اب ایچی سونین جیل میں اور اولڈ راوینز اقتدار میں پائے جاتے ہیں، ہم مال روڈ پر کلب چوک پہنچ کر واپس پریس کلب لوٹ آئے تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button