
لاہور کا پہلا سینما گھر شیخ عزیز الدین نامی وکیل نے عزیز تھیٹر کے نام سے 1908ء کے دوران ٹکسالی دروازے میں تعمیر کرایا تھا۔ ملکہ ترنم نور جہاں نے بے بی نور جہاں کے نام سے عزیز تھیٹر میں ہی گائیکی کا آغاز کیا تھا۔ اس زمانے میں نور جہاں کا گھرانہ قصور سے لاہور آکر ٹکسالی دروازے میں ہی مقیم تھا جہاں سے یہ گھرانہ بعدازاں کلکتہ چلا گیا تھا۔ جب 1915ء میں خاموش فلمیں بننا شروع ہوئیں تو لاہور میں عزیز تھیٹر کو جوبلی تھیٹر کا نام دے دیا گیا تھا۔ بعدازاں 1931ء میں بولتی فلموں کے آغاز پر عزیز تھیٹر کو تاج محل ٹاکیز کے نام سے پکارا جانے لگا تھا پھر آزادی کے بعد اسے پاکستان ٹاکیز کا نام دے دیا گیا تھا اور 2014ء میں پاکستان ٹاکیز سینما بند کر دیا گیا تھا۔ کچھ عرصہ قبل ہم نے شہزاد فراموش کے ساتھ ٹکسالی دروازے پہنچ کر پاکستان ٹاکیز سینما کی عمارت دیکھی تھی۔ فلمی صنعت کے بحران کی وجہ سے بیشتر سینما گھر ہی بند ہو گئے تھے۔ پاکستان ٹاکیز لاہور کا پہلا سینما گھر تھا جو ایک صدی قبل قائم ہوا تھا مگر اپنے نام کی وجہ سے لگتا ہے کہ یہ آزادی کے بعد وجود میں آیا تھا۔ ملک تھیٹر کی طرح اس کا نام بھی عزیز تھیٹر ہی رہنے دیا جاتا تو اچھا ہوتا یا پھر اسے تاج محل ہی پکارا جاتا پاکستان ٹاکیز نام رکھ کر اس کی تاریخ ہی مسخ کر دی گئی تھی۔ پنجاب حکومت کو لاہور کے اس پہلے سینما گھر کا پرانا نام عزیز تھیٹر بحال کر کے اس کی عمارت میں ثقافتی عجائب گھر قائم کر دینا چاہیے۔
تقسیم ہند سے قبل لاہور میں ڈیڑھ درجن سنما گھر پائے جاتے تھے۔ آزادی کے بعد شہر کے سینما گھروں کی تعداد بڑھ کر 100 سے زائد ہو گئی تھی۔ آزادی کے وقت میکلوڈ روڈ پر 6 سینما گھر ریجنٹ، رٹز، رتن پیلس، صنوبر اور مون لائٹ سینما پائے جاتے تھے میکلوڈ روڈ کے آخر میں ریلوے اسٹیشن کے قریب ریوالی سینما ہوتا تھا جو پہلے منورما تھیٹر کہلاتا تھا۔ اب اس کی جگہ غالباً فلائی اوور بن چکا ہے۔ میکلوڈ روڈ کے وسط میں ملحقہ مشن روڈ پر آزادی کے بعد نگینہ اور نازسینما بنائے گئے تھے جنہیں بعدازاں تھیٹرز میں تبدیل کر دیا گیا تھا اب وہ دونوں بھی بند پڑے ہیں۔ آزادی کے بعد ایبٹ روڈ پر بھی 10 سینما گھر نشاط، اوڈین، کیپٹل، گلستان، نغمہ، میٹروپول، شبستان، پرنس، محفل اور مبارک سینما وجود میں آگئے تھے، مال روڈ پر ریگل، الفلاح اور ملحقہ کوئنز روڈ پر پلازہ سینما جبکہ شاہی محلے کے علاقے میں پاکستان ٹاکیز، ترنم اور سٹی سینما پائے جاتے تھے۔ اندرون اور بیرون لاہور کے سینما گھروں میں سے بیشتر بند پڑے ہیں اور چند مسمار کر دیئے گئے تھے جب کہ کچھ تھیٹرز میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ جن پرانے سینما گھروں کی عمارتیں ابھی موجود ہیں ان میں سے بھی صرف ایبٹ روڈ کے کیپٹل سینما اور بھاٹی چوک کے ملک تھیٹر سینما میں فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔
اندرون شہر، بیرون بھاٹی چوک، میکلوڈ روڈ، ایبٹ روڈ اور مال روڈ سے ہٹ کر لاہور شہر کے دیگر سینما گھروں میں گڑھی شاہو چوک کے تاج اور کراؤن، مصری شاہ کے نیلم اور صغیر، مغلپورہ کے سحر اور انگوری، چونگی امرسدھو کے کوہ نور، انمول اور گرین، ملتان روڈ کے وینس، لیرک، لیزا اور گلشن سینما، فیروز پور روڈ کے شمع، گلیکسی اور نیاگرا، شالیمار روڈ کے شبنم اور الریاض، موہنی روڈ کا صنم، راجگڑھ کا فردوس، سمن آباد کا الممتاز جبکہ شاہدرہ کے سنگیت، ساحل اور میر محل سینما گھر شامل تھے۔ بھاٹی چوک میں تقسیم ہند سے قبل 3 مشہور سینما گھر پائے جاتے تھے یہ پہلے ملک تھیٹر، کراؤن تھیٹر اور ڈائمنڈ تھیٹر کہلاتے تھے، بولتی فلمیں شروع ہونے کے بعد ان میں سے کراؤن تھیٹر پہلے سٹار ٹاکیز اور پھر پیراماؤنٹ سینما جبکہ ڈائمنڈ تھیٹر بعدازاں نگار سینما بن گیا تھا۔ داتا دربار کے قریب ملک تھیٹر کے سامنے اور نگار سینما غزنی سٹریٹ سے آگے سرکلر روڈ کی سروس روڈ پر پایا جاتا تھا۔ پیراماؤنٹ سینما بہت پہلے ختم ہو گیا تھا اس کی جگہ ویگنوں کا اڈا بن گیا تھا جبکہ نگار سینما چند برس قبل مسمار کر کے اس کی جگہ حلیمہ مارکیٹ تعمیر کر دی گئی تھی۔
ہم چند روز پہلے فلیٹ پر لیٹے شاہد ملک کی کتاب "یار سرائے” پڑھ رہے تھے کہ اچانک شہزاد فراموش نے موبائل فون پر دھماکہ کر دیا کہ ملک تھیٹر سینما کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ ارد گرد کے ہوٹل بھی گرائے جا رہے ہیں۔ ہم نے کہا کہ یقین نہیں آتا شہزاد فراموش کہنے لگے کہ سینئر شوبز صحافی ندیم سلیمی نے بھی تصدیق کر دی ہے، آپ ابھی پریس کلب آ جائیں ہم دونوں ابھی بھاٹی چوک جا کر تصدیق کر لیتے ہیں۔ ہم فلیٹ سے نکلے اور سڑک پار کرکے پریس کلب پہنچ گئے۔ پھر شہزاد فراموش نے ہمیں ساتھ لیا اور موٹر بائیک پر بھاٹی چوک روانہ ہو گئے۔ داتا دربار کے سامنے بھی تعمیراتی کام جاری تھا اور دوسری سڑک پر دوطرفہ ٹریفک چلائی جا رہی تھی۔ بھاٹی چوک میں چند روز پہلے پرندہ مارکیٹ مسمار کر دی گئی تھی اور پورے علاقے میں مختلف سرکاری محکمے تعمیراتی کاموں میں مصروف تھے۔ ہم داتا دربار کے سامنے سے گھوم کر بھاٹی دروازے کے سامنے سے گزرے اور بھاٹی چوک میں پہنچ کر دائیں جانب اندرونی سڑک پر مڑے تو ملک تھیٹر سینما کی عمارت صحیح سلامت کھڑی تھی بلکہ سینما میں اداکار شان کی پنجابی فلم "سرکاری راج” بھی لگی ہوئی تھی۔ باہر خوانچے والے بیٹھے تھے اور لوگ سینما کے اندر باہر آ جا رہے تھے۔ ہم دونوں نے بھی ملک تھیٹر کے اندر جا کر جائزہ لیا، کاؤنٹر کی کھڑکی کے اوپر ٹکٹ کا ریٹ باکس 100 روپے اور اسٹال 80 روپے لکھا ہوا تھا۔ گیٹ کیپر نے ہمارے دریافت کرنے پر بتایا کہ سینما گھر مسمار نہیں کیا جائے گا ۔
ہم نے بھاٹی چوک میں پہنچ کر وہاں کام کرنے والے سرکاری ملازم سے پوچھا تو اس نے بھی تصدیق کی کہ ملک تھیٹر سینما اور ملحقہ دکانوں کو نہیں گرایا جائے گا، صرف لوئر مال کی جانب والی دکانوں کو ختم کیا جا رہا ہے جو غالباً ناجائز طور پر تعمیر کی گئی تھیں۔ چند برس قبل بھاٹی چوک کا نگار سینما ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے منظر سے غائب ہو گیا تھا۔ ہم چند برس قبل اپنی تیسری کتاب ” لاہور۔ شہر بیمثال” کے ناشر علم وعرفان پبلشرز سے کتابیں لینے غزنی سٹریٹ اردو بازار آتے جاتے رہے تھے اور غزنی سٹریٹ کے کونے والی ذوالفقار شاپ سے پٹھورے کھانے کے بعد آگے جا کر نگار سینما پر بھی نگاہ ڈال لیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ہم پٹھورے کھا کر وہاں پہنچے تو نگار سینما کی جگہ کھلا میدان دیکھ کر ششدر رہ گئے تھے۔ وہاں دیواروں پر سیاسی شخصیات کے بڑے بڑے بورڈز لگے ہوئے تھے ہمارے دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ نگار سینما حال ہی میں مسمار کر کے وہاں سیاسی ڈیرہ بنا لیا گیا ہے کچھ عرصہ بعد دوبارہ وہاں سے گزرے تو دیکھا کہ اس جگہ اب بہت بڑی مارکیٹ بن چکی تھی۔
ملک تھیٹر سینما کے سامنے پائی جانے والی سڑک یقیناً سرکلر روڈ کا ابتدائی حصہ ہو گی جس کا آغاز عین داتا دربار کے سامنے سے ہوتا ہے۔ ملک تھیٹر کے ارد گرد مختلف دکانیں پائی جاتی ہیں جن میں کتابوں، کبابوں، حجاموں اور پان سگریٹ وغیرہ کی دکانیں بھی شامل تھیں۔ بیرون بھاٹی چوک کے اس علاقے میں لاہور کا پرانا ماحول دکھائی دے رہا تھا۔ بھاٹی چوک میں تعمیراتی کام جاری رہنے کی وجہ سے ملک تھیٹر سینما کے سامنے سڑک پر پانی اور کیچڑ پھیلی ہوئی تھی دور کھمبے پر لٹکنے والے بورڈ پر ایل ڈی اے، واسا، ٹیپا جیسے سرکاری اداروں کی جانب سے شہریوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ بھاٹی چوک اور ملحقہ علاقوں میں سڑکوں کی توسیع اور تعمیراتی کام کی وجہ سے عوام مشینری اور کھدائی والی جگہوں سے دور رہیں اور احتیاط کریں مگر کچھ لوگ احتیاط نہیں کر رہے تھے۔ وہ مشینری اور کھدائی والی جگہوں کے قریب سے گزر رہے تھے۔ ہم نے شہزاد فراموش کی تلاش میں اردگرد نگاہ دوڑائی وہ دور برگد کے نیچے کھڑے نئے موبائل کے کیمرے سے بھاٹی چوک کے مختلف مناظر کو محفوظ کررہے تھے جو مستقبل قریب میں یہاں کبھی دکھائی نہیں دینے تھے۔ ہم نے انہیں اشارہ کیا اور پھر کچھ دیر بعد ہم دونوں موٹر بائیک پر بیٹھے خوش خوش پریس کلب واپس جارہے تھے، ہم دونوں کو ملک تھیٹر سینما مسمار ہونے سے بچ جانے کی خوشی ہوئی تھی۔



