
ورلڈ پنجابی کانگریس 2026ء کے دوسرے روز ہم قدرے تاخیر سے پاک ہیرٹیج پہنچے تو تقریب شروع ہو چکی تھی۔ سٹیج پر صدر محفل فخر زمان کے ساتھ طارق خورشید اور ڈاکٹر نظام الدین بطور مہمان خصوصی بیٹھے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر نظام الدین گزشتہ روز بھی سٹیج پر بٹھائے گئے تھے لیکن انہوں نے خطاب نہ کیا تھا۔ ڈاکٹر امجد علی بھٹی اپنی نثری نظم "ایہہ گلاں کہن دیاں نئیں” سنا رہے تھے۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر رزاق شاہد نے سٹیج سیکرٹری کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال کر خود ہی تلاوت کر کے تقریب کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر امجد بھٹی کی ورلڈ پنجابی کانگریس کی تاریخ پر لکھی کتاب کی آج رونمائی بھی ہوگی انہوں نے ماں بولی کیلئے طویل خدمات پر ورلڈ پنجابی کانگریس کے تاحیات چیئرمین فخر زمان کو بابائے پنجابی کا خطاب دے ڈالا جس پر چند شرکاء نے تالیاں بھی بجا دی تھیں۔ ڈاکٹر رزاق شاہدنہیں جانتے تھے کہ بابائے پنجابی کا خطاب ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کو بہت عرصہ پہلے دیا جا چکا تھا۔ انہیں فخر زمان کو کوئی دوسرا خطاب دینا چاہیے تھا۔ ہم نے ارد گرد نگاہ دوڑائی تو اکادمی ادبیات والے محمد جمیل، ایم آر شاہد، کلیان سنگھ کلیان، بابا نجمی، اقبال قیصر، زریں پنا، نجمہ شاہین، سعیدہ دیپ، اعجاز فکرال، بابا لاہوری، میاں آصف علی وغیرہ بیٹھے دکھائی دیئے۔
ڈاکٹر رزاق شاہد نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے آئے ہوئے مہمان ڈاکٹر حنیف خلیل کو بھی سٹیج پر بلوا لیا۔ بعدازاں ڈاکٹر جمیل احمد پال کے آنے پر انہیں بھی سٹیج پر بٹھا دیا۔ ڈاکٹر رزاق شاہد نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے آئے حیدر آباد سندھ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر منظور علی، گوجرانوالہ کے احسان اللہ تارڑ اور گجرات کے ڈاکٹر اظہر محمود کو بھی خوش آمدید کہا اور اپنے بارے میں بتایا کہ وہ قائداعظم یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر واحد بخش بزدار کے گومل یونیورسٹی میں شاگرد رہے تھے جہاں سے انہوں نے ایم فل کیا تھا۔ اس کے بعد ڈاکٹر رزاق شاہد نے گلوکار عمران شوکت علی کو حمد و نعت کی دعوت دے دی جو اپنے والد مرحوم گلوکار شوکت علی کے انداز میں حمدیہ و نعتیہ اشعار پڑھ کر سٹیج سے اترے اور زریں پنا سے مل کر اپنی نشست پر جا بیٹھے۔ ڈاکٹر رزاق شاہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور پنجابی بولنے والوں کی تعداد اتنی ہی تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں بولی جانے والی زبان کو مردم شماری میں سرائیکی قرار دے دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر رزاق شاہد کو یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ نیا نام پانے سے پہلے جنوبی پنجاب کی بولی پنجابی کا ہی لہجہ کہلاتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ پنجابی کانگریس 2026ء: (1)
ڈاکٹر نظام الدین مائیک سے ہٹ کر شاید دوسرے صوبوں کے مہمانوں کے موجودگی کے باعث پنجابی کے بجائے اردو میں بات کرتے رہے۔ ان کے دھیمے لہجے کے باعث ہمیں صرف ان کا یہی اعلان سنا گیا کہ وہ یونیورسٹی یا یونیورسٹیوں میں پنجابی زبان کے پروگرام کروائیں گے جس پر تالیاں بجائی گئی تھیں۔ اگلے مقرر ڈاکٹر جمیل احمد پال تھے جنہوں نے قائداعظم کے حوالے سے بتایا کہ ان کی مادری زبان گجراتی تھی مگر وہ انگریزی بولتے تھے۔ انہوں نے بنگال جا کر اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینے کا انگریزی میں ہی اعلان کیا تھا۔ اشفاق احمد نے 1980 کی دہائی میں علاقائی زبانوں کو قومی زبانیں قرار دینے سے روکنے کی کوشش کی تھی تاہم فخر زمان نے چیئرمین اکادمی ادبیات بن کر مقامی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دے دیا تھا۔ ڈاکٹر جمیل احمد پال نے وضاحت کی کہ جنہیں اردو زبان کے خلاف سمجھا جاتا ہے وہ دراصل اردو کی بالادستی کے خلاف ہیں۔ پنجاب میں بچوں کو مادری زبان پڑھنے کا حق ملنا چاہیے۔ ڈاکٹر رزاق شاہد نے بھی ڈاکٹر جمیل احمد پال کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اردو زبان کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں، اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینے پر بنگالیوں نے احتجاج کیا تھا اور خون خرابہ بھی ہوا تھا جس کے بعد اقوام متحدہ نے 21 فروری کو مادری زبانوں کا دن قرار دے دیا تھا۔
ڈاکٹر حنیف خلیل نے قومی زبانوں میں ہم آہنگی کے حوالے سے کہا کہ پنجابی، سندھی، بلوچی اور پشتو زبانوں میں عربی و فارسی کا ذخیرہ الفاظ کم ہے لیکن اردو میں بہت زیادہ ہے، اردو زبان کی تشکیل میں علاقائی زبانوں کا بھی بہت زیادہ حصہ ہے۔ پنجابی اور اردو، سندھی اور اردو، بلوچی اور اردو، پشتو اور اردو میں تعلق کے حوالے سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ماہر لسانیات حافظ شیرانی نے تقسیم ہند سے قبل تحقیق کر کے بتایا تھا کہ اردو نے پنجاب میں جنم لیا تھا۔ قدیم زمانے کی ہندوی زبان ہی اب اردو اور پنجابی کہلاتی ہے۔ اردو ادب میں پنجابی ادیبوں، شاعروں کا بہت زیادہ حصہ ہے۔ خیبر پختونخوا کے محسن احسان (احمد فراز اور خاطر غزنوی وغیرہ بھی) اردو شاعر کے طور پر مشہور ہوئے۔ پنجاب کے صوفی شعراء اور پشتو شاعر رحمان بابا کا کلام خاصا ملتا جلتا ہے، ادیب شاعر لوگ مختلف زبانوں کے صوفی شعراء کو ایک دوسرے کے قریب لا رہے ہیں پنجابی زبان کے فروغ کیلئے فخر زمان کا اہم کردار ہے!” ہمارے دائیں طرف ملنگوں جیسا سبز لباس پہنے اور ہاتھ میں عصا تھامے جواں سالہ خاتون بیٹھی ہوئی تھیں ہم نے ان سے نام پوچھا تو انہوں نے انمول گوہر علی بتایا۔ ہم نے اجازت لے کر ان کی تصویر بنا لی بعدازاں وہ شاعر انیس احمد کے ساتھ بیٹھی ہوئی دکھائی دیں۔
ڈاکٹر اظہر محمود نے بتایا کہ وہ نہ صرف ایم بی بی ایس ہیں بلکہ انہوں نے پنجابی زبان و ادب میں پی ایچ ڈی بھی کر رکھی ہے, یوں ڈبل ڈاکٹر ہیں (تالیاں). انہوں نے مزید بتایا کہ ورلڈ پنجابی کانگریس کے چیئرمین فخر زبان ان کی طرح گجرات سے تعلق رکھتے ہیں, صوی شاعر میاں محمد بخش بھی گجرات کے تھے. فخر زمان کے ساتھ سٹیج پر بیٹھے ہوئے ڈاکٹر جمیل احمد پال بھی گجرات کے علاقے لالہ موسی سے تعلق رکھتے ہیں. ڈاکٹر واحد بخش قائداعظم یونیورسٹی میں ان کے استاد رہے تھے، ڈاکٹر اظہر محمود نے مزید بتایا کہ انہوں نے گجرات میں سچ کے نام سے تنظیم بنا رکھی ہے جس کے پروگراموں میں بابا نجمی کو بھی بلایا کرتے ہیں. بعدازاں ڈاکٹر اظہر محمود نے سیف الملوک گا کر سنائی اور آغاز میں آلاپ بھی کیا، ان کی آواز زبردست تھی۔ ڈاکٹر اظہر محمود کے بعد عمران شوکت علی نے ہیر واث شاہ کے حوالے سے چند بول گا کر سنائے۔ اس دوران شہزاد فراموش پریس کلب کے الیکشن میں جرنلسٹ پینل کو ووٹ ڈال کر تقریب میں پہنچ گئے تھے اور شرکاء کی تصاویر بناتے دکھائی دے رہے تھے تاہم طارق کامران ابھی گھر سے ہی نہ آئے تھے۔ عمران شوکت علی نے یہ شعر پڑھا تو شرکائے محفل نے نعرے لگا کر خوب داد دی۔۔۔
مینوں دلا بھٹی آکھدے
میرا جگ وچ دھمیا ناں
کھانے کا وقفہ ہوا تو ہم نے دیکھا کہ مرتضٰی باجوہ بھی قلعہ سوبھا سنگھ سے آئے مہمان صحافی ڈاکٹر عبدالخالق چوہدری کے ساتھ تقریب میں پہنچے ہوئے تھے. ہم پہلے تو کھانے پر ان کے ساتھ گپ شپ کرتے رہے پھر سٹیج پر بیٹھے دانشوروں کے ساتھ تصاویر بناتے رہے. پنجابی کانگریس کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خالد اعجاز مفتی اور انمول گوہر علی اپنے مخصوص انداز کی وجہ سے سٹیج کے سامنے سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے. وقفے کے بعد تقریب شروع ہوئی تو مرتضی باجوہ اور ڈاکٹر عبدالخالق چوہدری پریس کلب روانہ ہو گئے. شہزاد فراموش بھی اچانک غائب ہو گئے ہم اعجاز فکرال کے پاس جا بیٹھے. ہماری اگلی نشستوں پر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے تینوں اساتذہ ڈاکٹر واحد بخش بزدار، ڈاکٹر حنیف خلیل اور ڈاکٹر منظور علی اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے. سٹیج پر فخر زمان کے ساتھ ڈاکٹر ظہیر وٹو، ڈاکٹر شبنم اسحاق اور نذیر قیصر کو بٹھا کر اسلم باہو کو فن کا مظاہرہ کرنے کی دعوت دی گئی جنہوں نے بلھے شاہ کی کافی”تیرے عشق نچایا” گانا شروع کی تو زریں پنا نے سٹیج کے سامنے پہنچ کر رقص کرنا شروع کر دیا. سعیدہ دیپ ہال سے باہر گئی ہوئی تھیں شہزاد فراموش بھی جا چکے تھے, اسلم باہو نے بلھے شاہ کے بعد ہیر وارث شاہ گائی مگر سلطان باہو کا کلام نہ گایا بعد ازاں ڈاکٹر شبنم اسحاق نے مذہب اور سیاست کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بولنے کی اجازت ہونی چاہیے. انہوں نے آپس میں مکالمہ کرنے پر زور دیا، ڈاکٹر واحد بزدار نے ہمیں کانگریس کی جانب سے جاری کردہ متفقہ اعلان نامے کی کاپی تھمائی جس میں وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ لوک ادب اور علاقائی زبانوں کے تحفظ و فروغ کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں. قائداعظم یونیورسٹی کے اساتذہ رخصت ہو گئے تو ہم بھی واپسی کے لئے اٹھ گئے تھے۔


