کالم

ورلڈ پنجابی کانگریس 2026ء (1)

لاہور میں ورلڈ پنجابی کانگریس کے نام سے تنظیم چار عشرے پہلے تشکیل دی گئی تھی جس کے چیئرمین فخر زمان بنائے گئے تھے اور وہ اب بھی تنظیم کے چیئرمین ہیں جبکہ صدر طارق خورشید، نائب صدر امجد علی بھٹی اور سیکرٹری جنرل خالد اعجاز مفتی ہیں. ورلڈ پنجابی کانگریس پاکستان کے علاوہ برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا اور یورپی ممالک میں بھی سالانہ کانفرنس کروا چکی ہے. گزشتہ دنوں 2 روزہ 36 ویں ورلڈ پنجابی کانگریس لاہور میں ڈیوس روڈ کے پاک ہیرٹیج میں منعقد ہوئی جس میں اس مرتبہ بھارتی ہی نہیں کینیڈا اور برطانیہ سمیت کسی ملک سے سکھ مہمان شریک نہ ہوئے بلکہ اس مرتبہ ورلڈ پنجابی کانگریس کے پہلے روز "پاکستان دیاں لوک داستاں تے پیار دا سنیہا” کے عنوان سے سیمینار میں پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی دانشوروں کو بلوایا گیا تھا۔

ہمیں شہزاد فراموش نے تقریب میں شرکت کی دعوت دے رکھی تھی. اکادمی ادبیات والے محمد جمیل نے بھی تاکید مزید کیلئے فون کر دیا تھا. سالانہ انتخابات کے سلسلے میں اتوار کو پولنگ کے انتظامات کیلئے ہفتے کے روز پریس کلب کو بند کر دیا گیا تھا لہذا طارق کامران نے بھی ورلڈ پنجابی کانگریس میں ہمارے ساتھ شریک ہونے کا پروگرام بنا لیا تھا. جب ہم پونےگیارہ بجے قبل دوپہر فلیٹ سے نکل کر پاک ہیرٹیج پہنچے تھے تو وہاں سب سے پہلے اکادمی ادبیات والے محمد جمیل، پھر ممتاز راشد لاہوری اور ان کے بعد انیس احمد، ایم آر شاہد اور خالد اعجاز مفتی ہم سے ملے، شہزاد فراموش اورطارق کامران ابھی نہیں پہنچے تھے ان دونوں سے پہلےاعجاز احمد فکرال، شفیق احمد خان، عباد نبیل شاد،  بابا نجمی۔۔۔ چاولہ اور نعیم بٹ ان دونوں سے پہلے پہنچ چکے تھے. ان کے بعد زاہدہ راؤ اور نوازکھرل بھی آگئے تھے ہماری اگلی نشستوں پر نیلم احمد بشیر اور زریں سلمان پنا بیٹھی باتیں کر رہی تھیں ہمارے پہنچنے کے کچھ دیر بعد تقریب شروع کر دی گئی تھی۔

پہلے سیشن کی نظامت انیس احمد اور دوسرے سیشن کی امجد بھٹی کو سونپی گئی تھی. انیس احمد نے سب سے پہلے صدر محفل فخر زمان، شاہد عمران،سعیدہ دیپ، ڈاکٹر نظام الدین اور ڈاکٹر واحد بخش بزدار کو سٹیج پر بٹھایا اور مائیک فخر زمان کے اگے رکھ دیا جنہوں نے ورلڈ پنجابی کانگریس کی تاریخ بیان کرنے کے بعد بتایا کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پرائمری تک بچوں کو پنجابی نصاب پڑھانا اور لاہور میں پنجابی یونیورسٹی بنوانا ان کی تنظیم کے اہداف میں شامل ہیں، طارق خورشید نے کہا کہ سماج میں رواداری کیلئے انہوں نے 1980ء کی دہائی میں کام شروع کیا تھا. سماج میں تقسیم دار تقسیم اور برداشت کا ختم ہونا افسوسناک ہے لوگوں کے پاس پیسہ تو آگیا ہے لیکن اخلاقی اقدار کھو گئی ہیں ہم پرسکون نہیں رہے اور دکھاوے میں پھنس گئے ہیں. آج صوفی ازم کی ضرورت بڑھ چکی ہے ہمیں صوفی شعراء کو پڑھنا ہوگا بابا گورونانک یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد عمران نے بتایا کہ گھر میں کلاسکی پنجابی شعراء کی کتابیں پڑھ کر ان کی ماں بولی سے جڑت ہوئی تھی انہوں نے پنجابی زبان میں پہلے مرثیہ لکھا پھر مزاحیہ نظم کہی اور بعدازاں مزید شاعری شروع کر دی تھی. ڈاکٹر شاہد عمران کی نظم کا ایک شعر تھا۔۔۔
رب رسول نوں بھل گئے بندے گلیاں دے وچ رل گئے بندے

ڈاکٹر امجد بھٹی نے کہا کہ ہم محبت کی کہانیوں کو پسند تو کرتے ہیں لیکن جب یہی کہانیاں ہمارے اپنے گھروں میں شروع ہو جائیں تو قتل وغارتگری پر اتر آتے ہیں. ہمارا اصل مسئلہ دوغلا پن ہے. ہماری لوک داستانوں کے مرکزی کردار باغی ہیں ہم لوگ داستانیں  صرف پڑھتے ہیں ان کے پیغام پر عمل نہیں کرتے. ڈاکٹر واحد بخش بزدار نے بلوچی لوگ داستان اور صوفی شاعری کے حوالے سے اظہار خیال کیا، ڈاکٹر صغریٰ صدف نے کہا کہ  صوفی شعراء کے زمانے میں لوک داستانوں کا بہت رواج پایا جاتا تھا ڈاکٹر صغری صدف نے داستانوں کا سیاسی، سماجی اور اخلاقی پہلو بھی بیان کیا،  پروفیسر اسماء حسن شیخ نے کشمیر کی پانچ داستانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دھرتی کا ذکر کر رہی ہیں جو زخم زخم ہے وادی کشمیر آج بھی قربانی مانگتی ہے، ڈاکٹر شاہدہ تارڑ نے نشاندہی کی کہ باقی صوبوں والے اپنی زبانیں بولتے ہیں لیکن پنجاب والے اردو بولتے ہیں. ڈاکٹر خورشید نگہت نارو نے کہا کہ پنجاب کے صوفی شعراء ساری دنیا میں سراہے جاتے ہیں, پنجابی زبان کی لوک داستانوں پر فلمیں اور ڈرامے تیار کئے گئے. سلمٰی خان نے اپنی پاٹ دار آواز میں بلھے شاہ کا کلام گا کر سنایا۔۔
نہ کر بندیا میری میری
نہ میری نہ تیری
دنیا دن چار دہاڑے
جوگی والی پھیری

کھانے کا وقفہ کرنے کے بعد دوسرے سیشن میں فخر زمان کے ساتھ اقبال قیصر، مدثر  اقبال بٹ، خورشید نگہت نارو اور ڈاکٹر منظور علی حیدر آبادی کو بھی سٹیج پر بٹھایا گیا. ڈاکٹر منظور علی نے بتایا ہے کہ سندھی قدیم زبان ہے جس میں متعدد لوک داستانیں پائی جاتی ہیں. سندھی لوک داستانوں میں پیار و محبت ہی نہیں ظلم کے خلاف مزامت بھی پائی جاتی ہے. ڈاکٹر صائمہ بتول نے بتایا کہ لوک داستانیں صرف کہانیاں نہیں ہوتیں یہ ثقافت کی عکاسی بھی کرتی ہیں، ہیر رانجھا کے بغیر پنجاب کی لوک داستانوں کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی. میاں محمد بخش نے بھی وارث شاہ کی شاعری کو سراہا تھا، ایک خاتون دانشور نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو لوک داستانیں نہیں پڑھاتے یہی وجہ ہے کہ وہ اس حوالے سے کچھ نہیں جانتے خاتون کے طویل خطاب کے دوران سٹیج کے عقب میں دیوار پر آویزاں کانگریس کی فلیکس اکھڑ کر فرش پر گر گئی. ڈاکٹر شاہد عمران نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ بھی پنجابی ہی بولتے ہیں. انہوں نے کہا کہ ہم جو زبان بولتے ہیں وہی پنجابی ہے ضروری نہیں کہ ہم وہ پنجابی زبان بولنے کی کوشش کریں جو صدی قبل بولی جاتی تھی. اس موقع پر بابا اسلم باہو جنڈیالہ شیر خان والے نے وارث شاہ کا کلام گانا شروع کیا تو شرکا جھومنے لگے زرین پنا، سعیدہ دیپ، نیلم بشیر اور شہزاد فراموش وغیرہ تو اٹھ کر باقاعدہ رقص کرنے لگے تھے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پنجابی زبان کے استاد ڈاکٹر کلیان سنگھ کلیان نے کہا کہ پنجاب میں سب سے پہلے رامائن، مہا بھارت اور رگ وید میں داستانیں ملتی ہیں. انہوں نے بتایا کہ پنجابی عورت بہت ڈاہڈی ہوتی ہے. تین پنجابی لڑکیوں نے ہی 1921ء میں احتجاج کے ذریعے عورت کو ووٹ کا حق دلوایا تھا۔ ان کے بعد بابا اقبال قیصر نے انکشاف کیا کہ عورت کو ووٹ کا حق دلوانے والی تین بہنیں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پوتیاں اور دلیپ سنگھ کی بیٹیاں تھیں۔ اقبال قیصر نے کہا کہ پنجاب کی داستانیں پیار اور محبت کی کہانیاں ہیں۔ صحافی میاں حبیب نے کہا کہ بچپن میں مائیں لوک داستانیں سنایا کرتی  تھیں اس زمانے میں میڈیا نہیں ہوتا تھا۔ ان لوک داستانوں کے ذریعے ہی واقعات لوگوں تک پہنچتے تھے ان لوک داستانوں کا انجام اصولوں پر ہوتا تھا۔ مدثر اقبال بٹ نے کہا کہ پنجاب میں پنجابیت پر بات کرنے کا آغاز فخر زمان نے کیا تھا خود ان کی پنجابیت سے جڑت فخر زمان کی وجہ سے ہوئی تھی۔ مدثر اقبال بٹ نے مزید کہا کہ پنجاب نے ہمیشہ مزاحمت کی، ہمیں پنجاب کی تاریخ مسخ  کرنے والوں کو جواب ضرور دینا چاہیے۔ لوک داستانوں کے حوالے سے جو باتیں کی گئیں ان سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے پنجاب کی لوک داستانیں ہمیں پیغام بھی دیتی ہیں۔ آخر میں ڈاکٹر امجد علی بھٹی نے اعلان کیا کہ ورلڈ پنجابی کانگریس کی 40 سالہ تاریخ پر ان کی کتاب کی رونمائی اگلے روز ہو گی۔ فخر زمان نے دوسرے سیشن سے اپنے صداتی خطاب کا وقت بابا اسلم باہو کو دے دیا تھا جو”ماں بولی کا نعرہ” لگانے لگے اور شرکائے محفل اٹھ کر چائے کے کاؤنٹر کی طرف جانے لگے تھے۔
(جاری)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button