بازارکالملاہور

نئی و پرانی انارکلی کی سیر

میم سین بٹ

لاہور میں جب ہیلمٹ پہننے کی پابندی شروع ہوئی تھی تو ہم نے موٹر بائیک چلانا چھوڑ دی تھی کیونکہ ہیلمٹ پہننے سے ہمارا دم گھٹتا تھا. یوں ماضی کی طرح ہم اب بھی لاہور میں دوبارہ پیدل گھومتے پھرتے ہیں اور لاہور میں پیدل گھومنے پھرنے کا اپنا ہی مزہ ہے. اتوار کو حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں شرکت کیلئے پاک ٹی ہاؤس گئے تو طارق کامران بھی وہاں پہنچ گئے, پہلے تو ہم سٹال پر پرانی کتابیں دیکھتے رہے اور پھر چوک میں پہنچ کر انارکلی بازار میں داخل ہو گئے جہاں بائیں کونے پر سیلانی ٹرسٹ والوں نے دسترخوان سجا رکھا تھا, دائیں طرف باٹا شوز کی بالائی منزل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شہزاد فراموش نے بتایا کہ تقسیم ہند سے پہلے اس عمارت میں کتابوں کی دکان ہوا کرتی تھی جس کا مالک ہندو تاجر تھا. ہم نے عمارت کو غور سے دیکھا تو اس کی پیشانی پر انگریزی میں رام کرشنا اینڈ سنز بک سیلرز کے الفاظ سیمنٹ سے لکھے ہوئے دکھائی دیئے. ایک جانب یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ کتابوں کی دکان 1894ء میں قائم ہوئی تھی جبکہ دوسری جانب لکھا تھا کہ یہ عمارت 1911ء میں تعمیر کی گئی تھی. شہزاد فراموش نے بتایا کہ جب وہ ایف سی کالج کے طالب علم تھے تو اس جگہ آئیڈیل بک سنٹر ہوتا تھا اب یہاں جوتوں کی دکان بن چکی ہے ہم مایوسی سے سر جھٹک کر آگے بڑھ گئے۔

اتوار کی چھٹی کے باوجود نئی انارکلی میں چند دکانیں کھلی ہوئی تھیں البتہ دونوں فٹ پاتھوں پر جگہ جگہ سٹالز لگے ہوئے تھے. بازار میں خریداروں کا بے حد رش تھا جن میں خواتین اور نوجوانوں کی تعداد زیادہ تھی. بائیں جانب پنجاب ریلیجئیس بک سوسائٹی کی عمارت کے سامنے والے حصے پر سیمنٹ کا پلستر کر دیا گیا تھا جس سے عمارت بدصورت دکھائی دینے لگی تھی. ہم نے پنجاب ریلیجئیس بک سوسائٹی کے سامنے بازار کی دوسری جانب ایک گلی میں جاکر بالمیک مندر دیکھا تو اسے  نئے سرے سے تعمیر کر دیا گیا تھا. چند گلیاں چھوڑ کر ایک گلی میں جامعہ اشرفیہ کی پرانی عمارت واقع تھی جس کی بنیاد مفتی محمد حسن امرتسری نے 1947 میں رکھی تھی. انارکلی بازار میں ذرا آگے دائیں ہاتھ نگینہ بیکری ہوتی تھی جس میں مولانا صلاح الدین احمد، پروفیسر علم الدین سالک، عبداللہ قریشی، خواجہ عبدالوحید، باری علیگ، شیخ غلام محی الدین، شیخ عنایت اللہ اور ڈاکٹر سید عبداللہ جیسی علمی و ادبی شخصیات محفل جمایا کرتی تھیں. نگینہ بیکری کی جگہ نئی عمارت بن چکی ہے جس میں فیصل پراچہ کی کپڑے کی دکان پائی جاتی ہے. چوک میں پہنچ کر ہم رک گئے بائیں جانب سڑک پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس، اوریئنٹل کالج اور گورنمنٹ کالج کے سامنے سے گزر کر لوئر مال سے جا ملتی تھی جبکہ دائیں جانب چوک نیلا گنبد تھا جہاں زیر زمین پارکنگ کی تعمیر جاری تھی۔

نیلا گنبد چوک میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (اب یونیورسٹی) واقع ہے. علامہ اقبال کے سسر ڈاکٹر عطاء شیخ اسی طبی ادارے کے فارغ التحصیل تھے. اس زمانے میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ابھی لاہور میڈیکل سکول کہلاتا تھا, کسی زمانے میں ایف سی کالج (اب یونیورسٹی) بھی نیلا گنبد کے علاقے میں بینک سکوائر کی جگہ پر پایا جاتا تھا, اسے پہلے مشن کالج کہا جاتا تھا تقسیم ہند سے قبل مشہور انڈین اداکار پرتھوی راج کپور مشن کالج نیلا گنبد میں ہی پڑھتے رہے تھے جبکہ اداکار دیو آنند، اداکار و گلوکار سریندر، اداکار بلراج ساہنی وغیرہ گورنمنٹ کالج (اب یونیورسٹی) اور اداکار کرن دیوان دیال سنگھ کالج کے طالب علم رہے تھے. ایف سی کالج کے ایونگ ہاسٹل اور نیوٹن ہاسٹل کی خستہ حال عمارتیں اب بھی نیلا گنبد کے علاقے میں موجود ہیں، چوک نیلا گنبد سے میکلوڈ روڈ کی طرف جانے والی نپیئر روڈ پر اداکار شاہد کی پرانی رہائش گاہ واقع ہے. کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے سامنے ایوئنگ روڈ کے دوسرے کونے پر بہاولپور بینک کی نیلا گنبد چوک برانچ ہوتی تھی. بہاولپور بینک کی دوسری برانچ شاہ عالمی دروازے میں ہوا کرتی تھی, بہاولپور بینک کا نام بعد ازاں نیشنل بینک رکھ دیا گیا تھا انارکلی چوک اور نیلا گنبد چوک کے درمیان بائیں ہاتھ قدیمی محکم دین بیکری اب بھی موجود تھی جو 1879ء میں قائم ہوئی تھی ہم نے اس قدیمی بیکری کی تصویر کھینچ لی اور چوک پار کر کے آگے بڑھ گئے۔

انارکلی بازار کے اس حصے میں علامہ اقبال بھی کرایہ کے مکان میں کچھ عرصہ مقیم رہے تھے اس زمانے میں وہ گورنمنٹ کالج میں تدریس کے ساتھ ہائیکورٹ میں وکالت بھی کرتے رہے تھے انارکلی بازار سے پہلے وہ بھاٹی درواز میں مقیم رہے تھے اور انارکی بازار سے بعدازاں لکشمی چوک کے قریب میکلوڈ روڈ پر منتقل ہو گئے تھے اور اس کوٹھی سے وہ آخری دور میں میو روڈ پر جاوید منزل چلے گئے تھے انارکلی بازار میں مزید آگے جا کر دائیں طرف قدیمی دہلی مسلم ہوٹل بھی پایا جاتا تھا تقسیم ہند سے قبل یہ ہوٹل بہت اہمیت رکھتا تھا ہم نے گلی میں اندر جا کر دیکھا تو ہوٹل بند پڑا تھا لوگ اس کے عقب میں واقع مسجد میں نماز عصر کی ادائیگی کیلئے جا رہے تھے شہزاد فراموش نے بتایا کہ مہاراج کتھک دہلی مسلم ہوٹل میں رہتے تھے ان سے ملنے کیلئے ربع صدی قبل وہ یہاں آئے تھے ہم دہلی مسلم ہوٹل کی عمارات پر آخری نگاہ ڈالتے ہوئے انارکلی بازار میں واپس آگئے سامنے سڑک پار عمارت کا پرانا سا داخلی دروازہ دیکھ کر ہمیں یاد آیا کہ وہ نظام ہوٹل ہوا کرتا تھا اے حمید نے اپنے مضامین میں لکھا تھا کہ وہ احمد راہی کے ساتھ نظام ہوٹل میں آیا کرتے تھے. ذرا آگے بڑھے تو شہزاد فراموش نے بائیں طرف پرانی بند دکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تقسیم ہند سے قبل انارکلی بازار کی مشہور کرنال بوٹ شاپ ہوا کرتی تھی اب ملکیتی تنازع کے باعث نصف صدی سے بند پڑی ہے. ہم نے قریب جا کر دیکھا تو دروازے پر چسپاں پوسٹر پر وکلاء چوہدری عامر گجر اور شیخ زید الہٰی ایڈوکیٹس کے نام اور موبائل نمبر لکھے ہوئے تھے۔

ذرا آگے بڑھے تو دائیں جانب ایبک روڈ مڑتی تھی ہم بھی مڑ گئے. شہنشاہ ہند قطب الدین ایبک کا مزار دیکھ کر ہم ایک بار پھر انارکلی بازار میں لوٹ آئے. چند قدم ہی آگے گئے تھے کہ جوتوں کی دکان رفیق شوز کی بالائی منزل پر قدیمی جھروکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شہزاد فراموش نے بتایا کہ اس کے عقب میں بنسی دھر مندر پایا جاتا ہے اور عمارت کی بالائی منزل سے صاف دکھائی دیتا ہے. ہم سیڑھیاں چڑھ گئے اوپر دکانوں کے بجائے کسی خاندان کی رہائش گاہ تھی تاہم خاتون خانہ نے ہمیں بنسی دھر مندر کی تصاویر لینے کی اجازت دے دی تھی. انارکلی بازار میں اتر کر تھوڑا سا آگے گئے تو بائیں جانب ڈھول بجنے کی آواز نے ہمارے قدم روک لئے, ہم نے دیکھا تو لوہاری گیٹ چرچ کے باہر میلہ سا لگا ہوا تھا یہ چرچ غالبا” ایف سی کالج (مشن کالج) کے بانی پادری چارلس ولیم فورمین کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا. ہم آگے چل دیئے اور کچھ دیر بعد دور سے لوہاری دروازے کی مسلم مسجد کا بلند و بالا مینار دکھائی دینے لگا۔ ہم بنک الحبیب بلڈنگ کے ساتھ واقع پان منڈی کی گلی میں مڑ گئے جہاں تقسیم ہند سے قبل امرتا پریتم کے شوہر سردار پریتم سنگھ کی دکان ہوتی تھی۔ ہمیں پریتم سنگھ کی دکان کا تو سراغ نہ مل سکا البتہ ہندو ناشر راجپال کی دکان وہاں دیکھی جس پر غازی علم دین شہید کا بورڈ نصب تھا۔ ہم انارکلی بازار میں واپس آگئے سرکلر روڈ کے انارکلی والے کونے پر اخبارات کا پرانا سٹال سکڑ کر چھوٹا سا رہ گیا تھا، صرف تین چار بڑے اخبارات اور چند رسائل نظر آرہے تھے۔ اخبار  فروش نے بتایا کہ ماضی میں جنگ اخبار کے روزانہ 500 پرچے فروخت ہوتے تھے اب بمشکل 25 پرچے فروخت ہوتے ہیں اور باقی اخبارات کی سرکولیشن تو جنگ اخبار سے بھی بہت کم رہ گئی ہے ہم بوجھل دل کے ساتھ واپس چل دیئے۔

مال روڈ چوک میں پہنچ کر ہم نے ٹولنٹن مارکیٹ کے کونے پر ماضی میں پائے جانے والے اخبارات کے سٹال کو یاد کیا اور ٹورسٹ سٹریٹ میں داخل ہو گئے۔ پٹھوروں والی دکان کے باہر فٹ پاتھ پر اب بیٹھنے کی اجازت نہ تھی۔ دکاندار نے ہمیں سامنے واقع ملک ریسٹورنٹ میں بھیج دیا جہاں طارق کامران نے ویٹر کے ذریعے پٹھورے منگوائے جو ٹھنڈے اور بدمزہ تھے۔ ہم نے سوچا یہ نہ ہی کھاتے تو اچھا تھا۔ ملک ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر طارق کامران ہمیں ساتھ لے کر چوک پرانی انارکلی کی طرف چل دیئے جہاں کے میڈیکل سٹور سے انہیں دوا لینی تھی۔ ٹورسٹ سٹریٹ میں ابھی رونق شروع نہیں ہوئی تھی کیونکہ ابھی شام نہیں ڈھلی تھی۔ چوک پرانی انارکلی میں بائیں جانب میڈیکل سٹور کے باہر اخبار فروش نے زمین پر چھوٹا سا سٹال لگا رکھا تھا، طارق کامران اور شہزاد فراموش سٹال سے اخبارات اٹھا کر سرخیاں دیکھنے لگے۔ اخبارات کا یہ سٹال ماضی میں دوسرے کونے پر رحیم ٹی سٹال کے ساتھ لگایا جاتا رہا تھا اور بہت بڑا ہوتا تھا۔ پاک ٹی ہاؤس میں حلقہ ارباب ذوق کا اجلاس ختم ہونے کے بعد دانشور پرانی انارکلی کے رحیم ٹی سٹال پر آکر محفل جمایا کرتے تھے۔ ان دنوں ابھی یہاں ٹورسٹ سٹریٹ نہیں بنی تھی اب حلقے کے دانشور عباسی ٹی سٹال پر آکر بیٹھتے ہیں۔

چوک پرانی انارکلی سے واپسی کیلئے ہم نے نابھہ روڈ کا راستہ اختیار کیا اور موڑ مڑتے ہی ہمیں پرانی سی عمارت کی پیشانی پر کشمیر ایکشن کمیٹی کا سالخوردہ سا بورڈ دکھائی دیا تو ہمیں کیپٹن ڈاکٹر مظفر شاہ مرحوم  یاد آگئے جن کا یہاں کلینک ہوتا تھا۔ فوج کی میڈیکل سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے آبائی وطن مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے اپنی تنظیم کا ہیڈ آفس اسی جگہ بنا رکھا تھا۔ ہم تینوں آگے بڑھے تو المجید بیکرز کے سامنے رک گئے، شہزاد فراموش نے بتایا کہ یہ دکان آزادی کے بعد 1950ء میں قائم ہوئی تھی۔ طارق کامران نے المجید بیکرز سے 3 خطائیاں خریدیں جنہیں کھاتے ہوئے ہم آگے چل دیئے۔ چوک سے مڑ کر ہم میکلیگن روڈ پر آئے تو طارق کامران نے بائیں جانب ایک نئی عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس جگہ پرانی عمارت میں گرین ریسٹورنٹ ہوتا تھا جہاں غضنفر علی ندیم مرحوم اپنی ادبی تنظیم حلقہ تصنیف ادب کے اجلاس کروایا کرتے تھے اور سامنے سڑک پار نیشنل بینک بلڈنگ کی جگہ پر اظہر جاوید مرحوم کے ادبی جریدے تخلیق کا دفتر ہوا کرتا تھا۔ بعدازاں اظہر جاوید نے تخلیق کا دفتر پرانی انارکلی کی بھگوان سٹریٹ میں منتقل کر لیا تھا ہم تینوں تخلیق اور اس کے مدیر اظہر جاوید کی باتیں کرتے ہوئے چند منٹ بعد مال روڈ پار کر کے پاک ٹی ہاؤس واپس پہنچ گئے تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button