کالم

لاہور کے تھیٹروں اورسینماؤں کی کہانی

 میم سین بٹ

    لاہور کسی زمانے میں سینما گھروں کا شہر کہلاتا تھا صرف میکلوڈ روڈ اور ایبٹ روڈ پر ہی درجن بھر سینما گھر پائے جاتے تھے ان میں سے بعض پرانے سینما گھر پہلے تھیٹر ہوا کرتے تھے اور پھر فلمی صنعت کے بحران کی وجہ سے متعدد سینما گھر اب تھیٹرز میں تبدیل ہو چکے ہیں حلقہ ارباب ذوق میں اس اتوار کو شہزاد فراموش نے لاہور کے سینما گھروں اور تھیٹروں کی کہانی سنائی جسے سن کر بزرگ دانشوروں کو اپنی جوانی کا زمانہ یاد آگیا جب وہ لاہور کے سینما گھروں میں فلمیں دیکھا کرتے تھے انہوں نے شہزاد فراموش کے مضمون میں فلمی صنعت کے بحران کی وجہ سے سینما گھر بند ہونے اور بعض سینما گھروں کے تھیٹرز میں تبدیل ہونے کا ذکر سن کر اسے نوحہ قرار دیا حلقے میں اجلاس کے دوران صدر محفل اور قائم مقام صدر کی 2 سینئر ارکان کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوگئی تاہم بات زیادہ نہ بڑھی تھی حلقے میں اس بار سیکرٹری شازیہ مفتی اور جوائنٹ سیکرٹری سلمان رسول نے ناصر بشیر کی زیرصدارت شہزاد فراموش کا مضمون اور ایوب عافی کی غزل رکھی تھی۔

     ہم شہزاد فراموش کے ساتھ پریس کلب سےاٹھ کر پاک ٹی ہاؤس پہنچے تو طارق کامران بھی آگئے ہم تینوں نے پرانی کتابوں کے سٹالز کا معائنہ کرنے کے بعد نئی و پرانی انارکلی کی آوارہ گردی شروع کردی اور پھر جب پاک ٹی ہاؤس کی گیلری میں پہنچے تو سیکرٹری شازیہ مفتی نے تھوڑی دیر بعد ناصر بشیر کی زیرصدارت حلقہ ارباب ذوق کی ہفتہ وارنشست کا آغاز کردیا جوائنٹ سیکرٹری سلمان رسول بھی چند منٹ بعد پہنچ گئے اور گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھنے لگے جس کی منظوری دینے کے بعد ناصر بشیر نے پہلے شہزاد فراموش کو مضمون پڑھنے کی دعوت دی، شہزاد فراموش نے لاہور کے سینما گھروں اور تھیٹروں کی مکمل تاریخ بیان کر دی. انہوں نے خوب تحقیق کی تھی ان کا مضمون شرکائے محفل نے بہت پسند کیا اور اس پر بھرپور گفتگو کی. بیشتر دانشور سینما گھروں اور فلم بینی کے حوالے سے اپنی یادداشتیں بیان کرتے رہے. صدر محفل ناصر بشیر نے بھی ملتان اور لاہور کے سینما گھروں میں دیکھی جانے والی فلموں کا حوالہ دیا۔

  شہزاد فراموش کے مضمون پر گفتگو کا آغاز ڈاکٹر کنول فیروز نے کیا اور بتایا کہ مضمون سن کر انہیں اپنا وہ دور یاد آگیا جب انہیں انگریزی فلمیں دیکھنے کا جنون ہوتا تھا. انہوں نے دسویں جماعت میں پہلی انگریزی فلم دیکھی تھی ان انگریزی فلموں میں جو سین دکھائے جاتے تھے وہ اردو فلموں میں نظر نہیں آتے تھے. ناصر بشیر نے لقمہ دیا کہ اردو فلموں میں ایسے سین سنسر ہو جاتے تھے. اکادمی ادبیات والے محمد جمیل نے سمن آباد کے الممتاز سینما اور باری سٹوڈیو کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے زیادہ فلمیں الفلاح سینما میں دیکھی تھیں الفلاح سینما کو بعدازاں تھیٹر بنا دیا گیا تھا. انہوں نے شہزاد فراموش کے مضمون پر رائے دیتے ہوئے اسے آئندہ نسلوں کیلئے فائدہ مند قرار دیا اور مزید تحقیق کر کے اسے تفصیلی بنانے کا مطالبہ کیا، طارق کامران نے بھی مضمون کو دلچسپ تحریر قرار دیتے ہوئے اس میں تھیٹروں کا ذکر کم ہونے کی نشاندہی کی، کنور عبدالماجد خان نے بتایا کہ انہوں نے لاہور کے سینما میں بھارتی فلم مغل اعظم دیکھی تھی جو آج تک ان کے حواس پر چھائی ہوئی ہے. انہوں نے مطالبہ کیا کہ فلمیں چونکہ تفریح کا باعث ہوتی ہیں لہذا نوجوان نسل کیلئے سینما گھروں کو بحال کرنا چاہیے۔

    اکرام حشمت مضمون سنتے ہوئے یادوں میں کھو گئے اور اپنے زمانے کے سینما گھروں میں دیکھی جانے والی فلموں کو یاد کرنے لگے انہوں نے مضمون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مضمون نگار نے بہت اچھا تحقیقی کام کیا ہے، آفتاب جاوید نے کہا کہ موبائل فون آنے سے پہلے سینما گھر اور تھیٹرز ہی ہماری تفریح کا باعث ہوتے تھے. جب سینما گھر آباد تھے تو لکشمی چوک میں بہت رونق ہوتی تھی. شہزاد فراموش نے مضمون میں تفصیل سے بتایا ہے کہ کون سا سینما پہلے تھیٹر ہوتا تھا، کس سینما گھر میں کون سی مشہور فلم لگی تھی اور کون سا سینما کب بند ہوا تھا. شہزاد فراموش نے مضمون کے ذریعے ہماری یادیں تازہ کر دی ہیں، میاں شہزاد جب مضمون پر اظہار خیال کرنے لگے تو پاک ٹی ہاؤس کے باہر مریض کو لے کر میو ہسپتال جانے والی ایمبولنس چیخنے چلانے لگی. نیلا گنبد کی طرف جانے والا راستہ زیرزمین پارکنگ کی تعمیر کے باعث بند تھا ایمبولنس جب دوسرے راستے سے میو ہسپتال چلی گئی تو میاں شہزاد کی آواز سنائی دینے لگی. وہ شاہدرہ کے سنگیت سینما بارے بتا رہے تھے کہ وہ ملیا میٹ ہو چکا ہے. میر محل سینما بھی تھیٹر میں تبدیل ہو چکا ہے. میاں شہزاد نے کہا کہ مضمون میں یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ جو سینما گھر اب موجود نہیں رہے وہ کن مقامات پر پائے جاتے تھے، زاہد ہما شاہ  نے کہا کہ شہزاد فراموش نے صرف فہرست سازی نہیں کی یہ معلومات کے حوالے سے بھرپور تحقیقی مضمون ہے. اس میں اضافہ کر کے اسے کتاب کی شکل بھی دی جا سکتی ہے، غالباً ایوب عافی نے مضمون کو آرٹ اور کلچر کا نوحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختتامی جملے سن کر تو آنکھوں میں آنسو ہی آ جاتے ہیں۔

    اچانک ناصر بشیر نے نشست چھوڑ دی اور اپنی جگہ زاہد ہما شاہ کو صدر محفل بنا کر گیلری کی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئے حلقے کے دیرینہ رکن دانشور نے مضمون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سینما گھر بند کیوں ہوئے اس پر غور کرنا چاہیے جنرل ضیاء کے دور میں آرٹ اور کلچر کو بہت نقصان پہنچا۔۔۔ قائم مقام صدر زاہد ہما شاہ نے ان کی بات کاٹ کر ناصر بلوچ کو اظہار خیال کی دعوت دے دی، ناصر بلوچ نے کہا کہ جب پاکستان بنا تو آئین ہی موجود نہ تھا۔۔۔ قائم مقام صدر نے انہیں بھی ٹوک کر ایک اور دانشور کو بات کرنے کی دعوت دے دی جس پر ناصر بلوچ غصے میں آ کر نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے اور گیلری کی سیڑھیوں کی طرف بڑھے تو اسی وقت ناصر بشیر گیلری میں واپس آگئے اور انہوں نے ناصر بلوچ کو ان کی نشست پر بٹھا کر حاضرین کو بتایا کہ ناصر بلوچ ان کے استاد ہیں. وہ نہیں چاہتے تھے کہ ناصر بلوچ اپنے شاگرد کو صاحب صدر کہہ کر مضمون پر بات کریں اس لئے ان کے اظہار خیال سے پہلے انہوں نے نشست چھوڑ دی تھی. ناصر بلوچ نے زاہد ہما شاہ سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جب 1966ء میں لاہور آئے تھے تو ان دنوں شمع سینما تعمیر ہوا تھا وہ ریڈیو کیلئے ڈرامے لکھتے رہے سینما گھر ختم ہو گئے اس کی وجوہات تلاش کرنے کی ضرورت ہے کسی حکومت نے ثقافتی پالیسی نہیں بنائی یہ اصل نوحہ ہے شہزاد فراموش کو اگلا مضمون کلچرل پالیسی کے حوالے سے لکھنا چاہیے۔

   پروفیسر ناصر بشیر نے شہزاد فراموش کے مضمون پر صدارتی رائے دیتے ہوئے کہا کہ بہت بھرپور مضمون تھا اس پر بھاری بھرکم آراء آئی ہیں کیونکہ مضمون کا موضوع ہمارے دل کے قریب تھا. خود انہیں یہ مضمون اس لئے بھی اچھا لگا کہ اس نے سننے والوں کی یادیں تازہ کر دی ہیں مضمون کو نوحہ قرار دیا گیا جو درست ہے پہلے سینما گھروں میں فیملیز بھی جایا کرتی تھیں پھر فیملیز نے سینما گھر جانا کم کر دیا تھا. جنرل ضیاء کے دور میں بھارتی فلم نورجہاں کی پاکستانی سینما گھروں میں نمائش ہوئی تھی بھارت کے فلمی اداکار پاکستان آتے رہے تھے اس دور میں پاکستانی اداکاروں کو بھارتی فلموں میں کام کرنے کیلئے بھی بھجوایا گیا. ناصر بشیر نے بتایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے گورنمنٹ کالج لاہور میں اپنے استاد پروفیسر مشکور حسین یاد کو چیئرمین فلم سنسر بورڈ مقرر کیا تو انہوں نے جا کر میاں صاحب سے کہا تھا کہ میری تو آنکھیں ہی کام نہیں کرتیں جس پر میاں نوازشریف نے مشکور حسین یاد سے کہا تھا کہ اسی لئے تو آپ کو چیئرمین فلم سنسر بورڈ لگایا گیا ہے کہ آپ سبھی فلمیں پاس کر دیا کریں (قہقہے). قبل ازیں صدر محفل کے اظہار خیال کے دوران ڈاکٹر کنول فیروز نظریہ پاکستان کے خلاف بولنے لگے تو ناصر بشیر نے انہیں خاموش رہنے کیلئے کہا مگر وہ مسلسل بولتے رہے جس پر ناصر بشیر نے کہا ڈاکٹر کنول فیروز کی عادت ہے کہ یہ ماحول کو خراب کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں. ناصر بشیر نے اپنے بارے میں بتایا کہ انہیں شاعر، صحافی اور استاد فلم بینی کے شوق نے بنایا تھا. زمانہ طالب علمی کے دوران ملتان میں انہیں والد صاحب نے پہلی بار فلم دیکھنے سینما بھیجا تھا اور انہوں نے جیمز بانڈ سیریز کی انگریزی فلم "سپائی ہو لوڈ می” دیکھی تھی جب وہ فیصل آباد سے لاہور آکر صحافی بنے تھے تو پاک ٹی ہاؤس میں حلقے کا اجلاس ختم ہونے کے بعد دانشور فلم دیکھنے میکلوڈ روڈ کے مون لائٹ سینما گھر جایا کرتے تھے (قہقہے)۔

   ایوب عافی کی غزل پر ہمیں علامہ اقبال کی شاعری کے اثرات محسوس ہوئے، غزل پر گفتگو کا آغاز واجد امیر نے کیا انہیں چھوٹی بحر کی یہ غزل اچھی لگی، زاہد ہما شاہ نے غزل میں شراب نوشی کے ذکر پر اعتراض کیا، آفتاب جاوید نے شراب نوشی کو تصوف سے جوڑا، میاں شہزاد کو غزل بہت سکون دینے والی لگی، کنور عبدالماجدخان کو بھی غزل نے متاثر کیا، ڈاکٹر ناصر بلوچ نے مکتب عشق کو مکتب شوق کرنے اور غالبا” بندگی والا شعر غزل سے نکالنے کا مشورہ دیا، پروفیسر ناصر بشیر کو بھی غزل اچھی لگی. انہوں نے صدارتی کلمات میں غزل کی زبان، تراکیب اور تغزل کی تعریف کی، بعدازاں پشاور سے آئے مہمان استاد پروفیسر ڈاکٹر قدرت اللہ خان خٹک نے بتایا کہ انہیں بھی شہزاد فراموش کا مضمون پسند آیا. وہ افسانہ، خاکہ اور ادبی کالم لکھتے ہیں انہوں نے خوشحال خان خٹک کے اشعار کا اردو ترجمہ سنایا آخر میں صدر محفل ناصر بشیر نے ڈاکٹر کنو فیروز کو متوجہ کرتے ہوئے اپنا کلام سنایا اور داد پائی ان کا ایک شعر تھا۔۔۔
عجیب لوگوں کی قربت میں رہنا پڑتا ہے
غلط بھی ہوں تو انہیں ٹھیک کہنا پڑتا ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button