کالملاہور

لاہور کے نئے تھیٹر ہالز

 میم سین بٹ

    لاہور میں سینما گھروں سے پہلے تھیٹرز تعمیر کئے گئے تھے جنہیں بولتی فلمیں شروع ہونے کے بعد ٹاکیز اور بعدازاں سینما گھر کا نام دے دیا گیا تھا. لاہور کے متعدد پرانے سینما گھر پہلے تھیٹر ہوا کرتے تھے, ایمپائر سینما پہلے گلوب تھیٹر، رتن سینما بلونت رائے تھیٹر، پلازہ سنما ساگر تھیٹر اور پاکستان ٹاکیز آغاز میں عزیز تھیٹر ہوتا تھا پھر اس کا نام رائل ٹاکیز اور آزادی کے فوری بعد پاکستان ٹاکیز میں تبدیل کر دیا تھا. فلمی صنعت زوال پذیر ہونے کے بعد  لاہور کے سینما گھر دوبارہ تھیٹرز میں تبدیل ہونا شروع ہو گئے تھے, سب سے پہلے شمع اور شیش محل سینما کے قریب لاہور تھیٹر بنایا گیا تھا بعدازاں الفلاح اور ناز سینما بھی تھیٹر بن گئے تھے. اس دوران تماثیل تھیٹر کی عمارت بھی تعمیر کر دی گئی تھی پھر بیدیاں روڈ پر شالیمار تھیٹر کے علاوہ شہر میں باری تھیٹر، لیاقت تھیٹر اور کمال تھیٹر کے نام سے بھی نئے تھیٹر وجود میں آگئے تھے. قبل ازیں ایبٹ روڈ کے محفل سینما کو بھی تھیٹر بنا دیا گیا تھا, کوئنز روڈ کے پلازہ سینما کی عمارت بھی مسمار ہونے سے پہلے تھیٹر میں تبدیل ہو چکی تھی. اب ایبٹ روڈ کے پرنس اور شبستان سینماکو بھی تھیٹرز میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔

    انگریز دور میں ریلوے برٹ انسٹی ٹیوٹ کے ہال میں سٹیج ڈرامے پیش کئے جاتے تھے جہاں آزادی کے بعد بھی سٹیج ڈرامے دکھائے جاتے رہے تھے. تقسیم سے پہلے ریٹی گن روڈ کے بریڈلا ہال میں بھی سٹیج ڈرامے کئے جاتے رہے تھے. اس کے علاوہ کلکتہ اور بمبئی کی تھیٹریکل کمپنیاں لاہور آکر رائل پارک اور قرب و جوار کے علاقے میں سٹیج ڈرامے دکھاتی رہی تھیں. ان میں آغا حشر کاشمیری کی شیکسپئر تھیٹر کمپنی بھی شامل تھی. آزادی کے بعد لارنس باغ کے اوپن ائر تھیٹر، الحمرا آرٹس کونسل کے ہالز میں بھی سٹیج ڈرامے دکھائے جاتے تھے, پھر سینما گھروں کو تھیٹر ہال بنایا جانے لگا اور نئے تھیٹر ہالز بھی وجود میں آنے لگے تھے جن میں آغاز پر بہت اچھے ڈرامے دکھائے جاتے رہے تھے. بعدازاں رقاصاؤں نرگس، دیدار اور ندا چوھری وغیرہ کے ناچ گانے اور جگت بازوں کی فحش جگت بازی نے سٹیج ڈراموں کو تباہ کر دیا تھا. فخری احمد، مسعود اختر، قوی خان، البیلا، امان اللہ، ببو برال، انور علی جیسے فنکار دنیا سے رخصت ہو گئے اور سہیل احمد، خالد معین بٹ، روبی انعم، افتخار ٹھاکر وغیرہ تھیٹر چھوڑ کر ٹی وی تک محدود ہو گئے اور تھیٹر ہالز پر رقاصاؤں اور جگت بازوں کا مکمل قبضہ ہو گیا تھا. اب مال روڈ کے الفلاح تھیٹر اور الحمرا آرٹس کونسل کے ہالز میں بھی اسٹیج ڈرامے نہیں دکھائے جاتے۔

   تقریباً اڑھائی برس قبل اگست 2023ء کے دوران نگران دور میں صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت اور لاہور پریس کلب کے سابق سیکرٹری عامر میر نے فحاشی پھیلانے کے الزام میں لاہور کے تمام تھیٹرز کو سیل کر دیا تھا. بیدیاں روڈ کا شالیمار تھیٹر فحاشی پھیلانے پر کئی بار سیل کیا گیا تھا. موجودہ پنجاب حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد نومبر 2024ء میں تھیٹر ڈراموں کو بیہودگی سے پاک بنانے کیلئے ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دی تھی اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات و ثقافت پنجاب طاہر رضا ہمدانی کو کمیٹی کا سربراہ جبکہ اداکار سیل احمد، نسیم وکی، افتخار ٹھاکر، ناصر چنیوٹی، سلیم البیلا، قیصر پیا، ماجد خان کو رکن بنایا گیا تھا اور 6 ماہ بعد گزشتہ برس کے اوائل میں صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے لاہور شہر کے متعدد تھیٹرز پر چھاپے مارے تھے جس کے دوران سٹیج ڈراموں میں غیر اخلاقی گانے چلانے اور نامناسب لباس پہننے پر چند فنکاروں اور فنکاراؤں کو شوکاز نوٹس بھی جاری کئے تھ۔

    سوموار کو ہم گلے کی خرابی پر الحمدڈسپنسری سے دوا لینے شہزاد فراموش کے ساتھ رائل پارک جانے کیلئے پریس کلب سے نکلے تو ایبٹ روڈ پر جاتے ہوئے مبارک سینما کی عمارت کو دیکھ کر شہزاد فراموش نے بتایا کہ اس شاہراہ پر پائے جانے والے تمام سینما گھروں میں اب فلمیں نہیں دکھائی جا رہیں. مبارک، گلستان، اوڈین، کیپٹل بند پڑے ہیں, نغمہ، نشاط اور میٹروپول منظر سے غائب ہو چکے ہیں جبکہ محفل، پرنس اور شبستان سینما گھروں میں اب سٹیج ڈرامے دکھائے جاتے ہیں ہم نے کہا کہ چند ماہ پہلے گلستان اور کیپٹل کے سامنے سے گزرے تھے تو ان میں فلمیں نمائش کیلئے پیش کی جا رہی تھیں. شہزاد فراموش کہنے لگے کہ کیپٹل سینما بھی اب بند ہو چکا ہے کیونکہ اس کے مالک  انتقال کر گئے ہیں. محفل تھیٹر کے گیٹ سے اندر داخل ہو کر ہم نے بورڈ دیکھا تو ڈرامہ "مس 2026 ء” چل رہا تھا جس کے نمایاں فنکاروں میں نسیم وکی، ظفری خان، مناہل خان، فریحہ خان اور ماہ نور چوہدری وغیرہ شامل تھے۔

     محفل تھیٹر سے نکل کر ہم سڑک پار کرنے کے بعد پرنس تھیٹر اور شبستان تھیٹر کے مشترکہ احاطے میں داخل ہو گئے. پرنس تھیٹر میں ندا چوہدری، فیروزہ علی، وجیہہ علی، نایاب خان، شاہد خان اور قیصر پیا وغیرہ کا ڈرامہ "چلاکو "چل رہا تھا جبکہ شبستان تھیٹر میں صبا چوہدری، رینا ملتانی، ناعمہ راجہ، عروج خان، امبر شاہ، آصف اقبال، گلفام اور روبی انعم وغیرہ کا ڈرامہ "بدمعاشی بند” دکھایا جا رہا تھا. ہم ایبٹ روڈ پر واپس آگئے, میٹروپول سینما کی جگہ میدان دکھائی دے رہا تھا جسے گاڑیوں کی پارکنگ کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا. نغمہ سینما کی جگہ بہت عرصہ پہلے گاڑیوں کا شوروم بن چکا تھا. ہم دونوں گلستان سینما کے احاطے میں داخل ہوئے تو وہاں گاڑیوں کا پارکنگ سٹینڈ بن چکا تھا, سینماگھر بند پڑا تھا گلستان سینما کی کنٹین دیکھ کر ہم نے پارکنگ سٹینڈ کے انچارج الطاف حسین کو مشورہ دیا کہ گلستان سینما کی عمارت کو بھی تھیٹر اور اس کنٹین کو تکہ کباب ریسٹورنٹ بنا لیا جائے تو انہوں نے کہا کہ مالکان یہ نہیں چاہتے. شہزاد فرمائش نے ہمیں یاد دلایا کہ ہم دونوں نے چند برس قبل طارق کامران کے ساتھ گلستان سینما میں پاکستانی فلم ایکٹر ان لاء دیکھی تھی۔

     منٹگمری روڈ کا چوک پار کر کے ہم کیپیٹل سینما کے سامنے پہنچے تو پہلے گیٹ پر لاہوری دیگی چنے پلاؤ کا بورڈ دکھائی دیا پھر سینما کے ماتھے پر شان، معمر رانا اور صائمہ کی پنجابی فلم  "پیو بدماشاں دا” کا بورڈ آویزاں نظر آیا. ہم کیپٹل سینما کے دوسرے گیٹ سے اندر چلے گئے جہاں گاڑیوں کی پوشش کا کام ہو رہا تھا. ہم نے سینما کے ملازم سے پوچھا کہ فلم دکھائی جا رہی ہے تو اس نے اثبات میں جواب دیا. شہزاد فراموش نے پوچھا کہ مالک چوہدری اعجاز کامران کی وفات کے باعث کیپٹل سینما بند .ملازم نے کہا کہ کیپٹل سینما کا مالک چوہدری اعجاز کامران نہیں تھا یہ مہر غلام دستگیر لک کی ملکیت ہے بلکہ سامنے والے اوڈین سینما کے بھی وہی مالک ہیں. ہم نے شہزاد فراموش کو بتایا کہ مہر غلام دستگیر لک سرگودھا کے رہنے والے اور سابق صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ہیں. شملہ پہاڑی چوک کی مشہور عمارت ایمپریس ٹاور کے بھی وہی مالک ہیں. ایمپریس ٹاور انہوں نے امتیاز رفیع بٹ سے خریدا تھا، کیپٹل سینما سے نکل کر ہم دونوں نے سڑک پار کی اور اوڈین سینما میں داخل ہو گئے اس سینما گھر میں ہم دونوں نے کئی برس قبل اداکار شان کی پنجابی فلم "شیرِ لاہور” دیکھی تھی اور تماشائیوں میں ہم دونوں کے علاوہ صرف پانچ سات افراد شامل تھے۔

    اوڈین سینما بھی بند پڑا تھا. اس کے احاطے اور اطراف کی گلی میں رکشے اور گاڑیاں کھڑی تھیں اور ورکشاپس بنی ہوئی تھیں جہاں پر گاڑیوں کی ڈینٹنک پینٹنگ کا کام ہو رہا تھا. شہزاد فراموش نے بتایا کہ اوڈین سینما کی سکرین کے پیچھے کسی بزرگ کا مزار پایا جاتا ہے. ہم نے عمارت کے عقب میں جا کر دیکھا تو وہاں پیپل کے چار درخت کھڑے نظر آئے مگر کسی مزار کی نشانی دکھائی نہ دی. ورکشاپ کے ملازم نے ہمارے دریافت کرنے پر بتایا کہ بزرگ کا مزار اوڈین سینما کی عقبی دیوار کے پار واقع ہے. ہم دونوں عمارت کے اندر چکر لگا کر ایبٹ روڈ پر نکل آئے. دائیں طرف نیشنل ہوٹل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شہزاد فراموش نے بتایا کہ اس جگہ ماضی میں نشاط سینما ہوتا تھا جس کی نشانی سامنے سڑک پر کیفے نشاط کی صورت میں باقی رہ گئی ہے ہم سڑک پار کر کے نشاط ریسٹورنٹ سے ملحقہ گلی میں داخل ہو کر جب رائل پارک کی الحمد ڈسٹنسری کے سامنے پہنچے تو اسے بند پایادروازے پر چسپاں نوٹس کے ذریعے مریضوں کو اطلاع دی گئی تھی کہ ڈاکٹر صاحب کی مصروفیت کے باعث ڈسپنسری سوموار اور منگل کو بند رہے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button