
لاہور کے زیر زمین راستے سید تنویر حسین گیلانی کی دوسری کتاب ہے جسے سید فیضان عباس نقوی نے تہذیب و تدوین کے بعد ادارہ لاہور شناسی پبلکیشنز بوستان کالونی دھرمپورہ لاہور کے تحت رواں سال اپریل میں شائع کیا۔ مسودے کی کمپوزنگ سیدہ عائشہ بتول جبکہ پروف ریڈنگ علی حسین بلوچ نے کی۔ کتاب میں لاہور کے انڈر پاسز کا تاریخی، سماجی اور ثقافتی جائزہ لیا گیا ہے اور اس کا انتساب ڈاکٹر غافر شہزاد کے نام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مولف نے چیئرمین لاہور شناسی فاؤنڈیشن (ناشر)سید فیضان عباس نقوی المعروف لاہور کا کھوجی کو ہدیہ سپاس پیش کیا ہے جنہوں نے کتاب کی تحریر سے اشاعت تک ہر قدم پر سید تنویر حسین گیلانی کی حوصلہ افزای ، رہنمائی اور سرپرستی کی۔ ناشر سید فیضان عباس نقوی نے کتاب پر رائے دیتے ہوئے انڈر پاسز کو عوامی منصوبے اور تاریخ و ثقافت کے مرقعے قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں راؤ جاوید اقبال مرحوم کے ساتھ کینال روڈ کے انڈر پاسز پر تحقیق کا موقع ملا تھا لیکن لاہور کے باقی انڈر پاسز پر لکھنے کا موقع نہ مل سکا تو انہوں نے سید تنویر حسین گیلانی کو یہ خیال پیش کیا جنہوں نے دو سال میں کتاب تیار کر لی۔
قدیم لاہور کے جدید انڈر پاسز کے عنوان سے دیباچہ ایل ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر رضوان عظیم نے تحریر کیا جس میں انہوں نے زیادہ تر انڈر پاسز کے ساتھ ہی میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین کے منصوبوں پر بھی تنقید کی ہے حالانکہ ان منصوبوں سے لاہور کے شہریوں سمیت دوسرے شہروں سے روزانہ لاہور آنے جانے والے لاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ڈاکٹر رضوان عظیم نے تاریخ لاہور کے مولف سید محمد لطیف کو اعزازی مجسٹریٹ لکھا ہے جبکہ ہم پڑھتے رہے ہیں کہ وہ انگریز دور میں سیشن جج رہے تھے اور سیشن جج غالباً اعزازی نہیں ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر رضوان عظیم نے جج سید محمد لطیف کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ دہلی سے لاہور آئے تھے، غالباً سید محمد لطیف کے والد سید محمد عظیم دہلی سے لاہور آئے ہوں گے جنہوں نے انگریز دور کے آغاز پر ہی لاہور میں پرنٹنگ پریس لگانے کے علاوہ انگریزی اخبار "لاہور کرانیکل” اور اردو اخبار ہفتہ وار "پنجابی” جاری کئے تھے۔ ڈاکٹر رضوان عظیم نے سید تنویر حسین گیلانی کی مختصانہ کوششوں کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے دعا کی ہے کہ یہ مختصر کتاب وقت کے ساتھ ساتھ تحقیقی دستاویز کی حیثیت اختیار کر لے جبکہ ڈاکٹر غافر شہزاد نے "لاہور کے انڈر پاسز اور فلائی اوورز” کے عنوان سے کتاب پر اپنے مضمون میں بتایا کہ شہر کا اولین انڈر پاس کینال روڈ اور جیل روڈ کے سنگم پر بنایا گیا تھا۔ انڈر پاسز نے جب ٹریفک کے شتر بے مہار کو لگام نہ دی تو پھر شہر میں فلائی اوورز بننے لگے تھے۔ تنویر گیلانی کی یہ کتاب نہایت جامعہ اور اپنے اندر تاریخ و تحقیق کے کئی پہلو لئے ہوئے ہے۔ اس سے پہلے انڈر پاسز اور فلائی اوورز پر ایسی شاندار تحقیق نہیں کی گئی میں نے بھی کتاب کے فارمیٹ کے حوالے سے چند مشورے دیئے جنہیں انہوں نے قبول کر لیا تھا۔
ابتدائیہ میں مولف سید تنویر حسین گیلانی بتاتے ہیں کہ انہوں نے انڈر پاسز کے حوالے سے معلومات کے لئے ایل ڈی اے کے چیئرمین، چیف انجینئر اور ڈائریکٹر تعلقات عامہ کو خطوط لکھے، ایڈمنسٹریٹر ڈی ایچ اے کو بھی ڈاک کے ذریعے درخواست بھیجی مگر سب سرکاری اداروں نے انہیں بنیادی معلومات تک عوامی رسائی کے آئینی حق سے محروم ہی رکھا۔ تحقیق کے دوران ایسے درجنوں انڈر پاسز تک ان کی رسائی ہوئی جن کی ابھی تک کوئی شناخت ہی نہیں ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ان بے نام انڈر پاسز کو لاہور سے تعلق رکھنے والے مشاہیر، ادبی شخصیات اور محققین کے نام سے منسوب کیا جائے۔ ڈیفنس انڈر پاسز کو فوجی شہداء کے نام سے منسوب کیا جائ۔ے مولف مزید بتاتے ہیں کہ کتاب تحریر کرنے سے پہلے اور بعد میں وہ لاہور کے ہر انڈر پاس کو کئی بار دیکھنے گئے، ان کے ساتھ اکثر پروفیسر ذیشان ہاشمی بھی ہوتے تھے۔ سلمان ملک نے ڈیفنس کے انڈر پراسز کی تصاویر بنانے میں ان کی معاونت کی تھی۔ کتاب میں انڈر پاسز کے گرد و نواح کے مشہور مقامات، تاریخی عمارات اور شاہراہوں کا بھی ذکر شامل کیا گیا ہے۔ مولف نے معلومات کی فراہمی پر یو ای ٹی کے استاد پروفیسر شجاعت علی، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیپا فرحان علی کے علاوہ اپنی والدہ، اہلیہ، صاحبزادی اور داماد کے ساتھ اظہار تشکر کیا ہے۔
کتاب کے آغاز میں مولف انڈر پاسز کی تعریف اور اقسام بیان کرتے ہیں اور اس کے بعد انڈر پاسز کی تعمیر کے حوالے سے معلومات فراہم کرتے ہیں۔ لاہور شہر میں سب سے پہلی زیر زمین گزرگاہ 1980ء کی دہائی میں ان دنوں کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف نے سرکلر روڈ پر لوہاری دروازے کے باہر بنوائی تھی۔ یہ پیدل گزرنے کے لئے زیر زمین راستہ بنایا گیا تھا جس کے ذریعے اندرون شہر کے لوگوں کو لوہاری دروازے کے ذریعے اس گزرگاہ کو استعمال کرتے ہوئے آسانی سے انارکلی بازار اور اردو بازار جانے آنے کی سہولت حاصل ہو گئی تھی۔ قبل ازیں نواز شریف نے سرکلر روڈ کو دو رویہ تعمیر کروایا تھا اور ایس پی ایس کے ہال کی پرانی عمارت بھی اس منصوبے کی زد میں آ جانے کے باعث منظر سے غائب ہو گئی تھی۔ آخری دور میں ایس پی ایس کے ہال کی عمارت کے اندر ٹریفک پولیس کا دفتر بھی قائم تھا۔ شہر کی پہلی پیدل گزر گاہ کے بعد تنویر گیلانی لاہور کے پہلے انڈر پاس کا ذکر کرتے ہیں جو جیل روڈ پر بنایا گیا تھا۔ اس کے قریب ہی چغتائی لیب و لائبریری، جیلانی پارک، ہوم اکنامکس کالج ، کنیرڈ کالج، عمر ہسپتال، سروسز ہسپتال، پنجاب کارڈیالوجی، اکرم میڈیکل کمپلیکس، ایرانی قونصل خانہ، خانہ فرہنگ ایران اور پی ایچ اے کے دفاتر پائے جاتے ہیں۔
لاہور میں پاکستان کے طویل ترین انڈر پاس کا ذکر کرتے ہوئے تنویر حسین گیلانی لکھتے ہیں کہ یہ نہر پر دھرم پورہ اور مغل پورہ کے درمیان بنایا گیا جو پہلے چوبچہ انڈر پاس کہلایا پھر اسے بیجنگ انڈر پاس کا نام دے دیا گیا تھا۔ پاک چین اکنامک کوریڈور منصوبے کے تحت ساڑھے 3 ارب روپے کی لاگت سے صرف 125 دن کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہونے والے اس انڈر پاس کا افتتاح 3 دسمبر 2017 ء کو ان دنوں کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور چین کے قونصل جنرل لونگ ڈنگ ین نے کیا تھا۔ تنویر گیلانی نے پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے قریب واقع وارث میر انڈر پاس کے نام کی تبدیلی کا واقعہ بھی بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پہلے اسے کیمپس انڈر پاس کے نام سے پکارا جاتا تھا پھر 2013ء میں حکومت نے اسے پنجاب یونیورسٹی شعبہ صحافت کے سابق چیئرمین اور کالم نگار پروفیسر وارث میر(مرحوم) سے منسوب کر دیا تھا تاہم بعدازاں 2018 ء میں تحریک انصاف کی حکومت نے پروفیسر وارث میر کے صحافی و کالم نگار بیٹے حامد میر کی جانب سے حکومت پر تنقید اور بنگلہ دیشی حکومت سے اپنے والد پروفیسر وارث میر کے نام جاری کردہ ایوارڈ وصول کرنے پر وارث میر انڈر پاس کا نام تبدیل کر کے کشمیر انڈر پاس رکھ دیا تھا حالانکہ پروفیسر وارث میر کے بزرگ بھی کشمیر سے ہی نقل مکانی کر کے پنجاب آئے تھے۔
کوئنز روڈ پر گنگا رام ہسپتال اور فاطمہ جناح میڈیکل کالج یونیورسٹی کے درمیان انڈر پاس اور جیل روڈ پر سروسز ہسپتال اور ریس کورس پارک کے درمیان انڈر پاس کے علاوہ مولف کتاب میں میٹرو بس اسٹیشن کی آزادی چوک، مزنگ چونگی، اچھرہ، مسلم ٹاؤن موڑ، کینال روڈ اور کلمہ چوک میں زیرزمین پیدل گزرگاہوں کا ذکر کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ رجسٹری برانچ اور ہائی کورٹ کی عمارتوں کے باعث اورنج لائن ٹرین کو چوبرجی سے لے کر میکلوڈ روڈ پر ہال روڈ چوک تک زیرزمین گزارہ گیا جس کے لئے پرانی انارکلی اور جی پی او چوک میں انڈرگراؤنڈ 2 اسٹیشن بنائے گئے، انہیں مولف نے درست طور پر سب سے خوبصورت اسٹیشن قرار دیا ہے۔ اورنج لائن ٹرین سروس کا منصوبہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے شروع کیا تھا تاہم حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ساتھ مل کر اس منصوبے میں رکاوٹیں ڈالی تھیں تاکہ یہ منصوبہ بروقت مکمل نہ ہو سکے لیکن قدرت کی ستم ظریفی کے باعث غیرملکی کمپنی سے معاہدے کے تحت تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے وزیراعلیٰ پنجاب کو ہی اکتوبر 2020 ء میں اس کا افتتاح کرنا پڑا تھا۔
پنجاب کے سابق نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے کینٹ کے خالد بٹ چوک میں کیولری گراؤنڈ کا انڈر پاس بنوایا تھا جسے مولف تنویر گیلانی نے خالد بٹ انڈر پاس کا نام دے دیا ہے۔ شہر کے انڈر پاسز ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور سیاسی رہنماؤں کے ناموں سے منسوب کئے گئے ہیں۔ ادیبوں، شاعروں میں سے حبہ خاتون، فیض احمد فیض، منیر نیازی، اشفاق احمد، سیاسی شخصیات میں سے چوہدری رحمت علی، سابق وزرائے اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان، سید حسین شہید سہروردی، سابق وفاقی وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل کے علاوہ میر چاکر اعظم رند بلوچ، مرزا حسن خان گلگتی، عبدالستار ایدھی، جسٹس اے آر کارنیلس، کیپٹن مبین شہید اور صوفی شعرا ء میں سے سندھ اور پنجاب کے شاہ عبداللطیف بھٹائی، لال شہباز قلندر اور وارث شاہ سے بھی انڈر پاسز منسوب کئے گئے لیکن بلھے شاہ اور شاہ حسین کے نام سے کسی انڈر پاس کو منسوب نہ کیا گیا۔ بلھے ” شاہ اپنے مرشد شاہ عنایت قادری سے ملنے اکثر لاہور آتے تھے، انہوں نے کہا تھا "عرش منور بانگاں ملیاں سنیاں تخت لہور” جبکہ شاہ حسین تو لاہور میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ساری زندگی لاہور میں بسر کی تھی اور لاہور میں ہی دفن ہوئے تھے شاید پنجابی زبان کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ صوفی شعراء ہونے کی وجہ سے پنجاب کی حکومتوں نے بلھے شاہ اور شاہ حسین کے نام لاہور کے کسی انڈر پاس کو منسوب نہ کیا تھا۔



