
لاہور کے ادیبوں، شاعروں، نقاد دانشوروں میں سے اے حمید، ممتاز راشد لاہوری اور غافر شہزاد نے شہر بیمثال پر سب سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں، اے حمید امرتسر اور غافر شہزاد جہلم میں پیدا ہوئے تھے جبکہ ممتاز راشد لاہوری کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے لاہور میں ہی جنم لیا اور اپنے شہر پر بہت زیادہ لکھا ورنہ لاہور پر لکھنے والے بیشتر لکھاری دوسرے شہروں سے نقل مکانی کر کے یہاں آئے تھے یا پھر تقسیم ہند کے موقع پر شرنارتھی بن کر لاہور سے باہر چلے گئے تھے۔ لاہور کے بیشتر مقامی ادیبوں ، شاعروں اور صحافی دانشوروں نے اپنے شہر کو نظرانداز ہی کئے رکھا تھا، ممتاز راشد لاہوری نے زندگی کا نصف حصہ بیرون ملک بسر کیا، ان کی اپنے شہر پر پہلی کتاب "لاہور کے نئے پرانے رنگ” 2003ء میں چھپی تھی۔ اب اس کتاب کا نیا ایڈیشن بھی جلد شائع ہونے والا ہے۔ لاہور کے حوالے سے ان کی کتابیں "لاہوری بولیاں” اور "لاہوری ٹپے” بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے ادبی جریدے "خیال و فن” کے 2022 ء اور 2023ء میں 2 عدد لاہور نمبر بھی چھاپ چکے ہیں۔ 2025ء میں ان کی کتاب "لاہوری چہرے” شائع ہوئی، اب "لاہوری ماہیے” اور "منظوم لاہور” کے نام سے ان کی مزید 2 کتابیں زیرترتیب ہیں۔
ممتاز راشد لاہوری کی نئی کتاب "لاہوری چہرے” زیب نظر پبلی کیشنز باغبانپورہ لاہور کے تحت شکیل احمد زیب نے شائع کی جس کا انتساب مصنف نے لاہور کے سب خیرخواہوں کے نام کیا ہے اور دیباچہ بھی خود تحریر کیا ہے. "لاہوری چہرے کا رنگ روپ” عنوان سے ممتاز راشد لاہوری دیباچے میں بتاتے ہیں کہ ان کی پہلی کتاب 1982ء میں چھپی تھی "لاہوری چہرے” ان کی 33 ویں کتاب ہے ان کی نصف کتب شاعری پر مشتمل ہیں. وہ مزید لکھتے ہیں کہ کسی بھی شہر کے بارے میں کتاب لکھی جائے تو اس کے بنیادی طور پر 3 موضوعات شخصیات، مقامات اور واقعات ہوتے ہیں. ان کی زیرنظر کتاب شخصیات کے بارے میں ہے اگلی کتب میں لاہور کے مقامات اور واقعات کو بھی موضوع بنائیں گے. وہ لاہور کے اداروں پر بھی ایک کتاب تیار کر رہے ہیں تبصرہ کتب کے حوالے سے ان کی 2 کتابوں میں بھی لاہور کے متعدد لکھاریوں کا تعارف دیا گیا تھا اور سہ ماہی خیال و فن کا تو انہوں نے انٹرویو نمبر بھی شائع کیا تھا۔
کتاب "لاہوری چہرے” میں تقریباً سوا سو شخصیات کا مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے. ممتاز راشد لاہوری نے کتاب میں جہاں علم و ادب اور صحافت و ثقافت سمیت مختلف شعبوں کی شخصیات کا تعارف کروایا ہے وہاں لاہور کی سیاسی شخصیات کا مختصر تعارف بھی کتاب میں شامل کر دیتے تو اچھا ہو جاتا. کتاب پڑھتے ہوئے لاہور کی سیاسی شخصیات کا ذکر موجود نہ پاکر تشنگی کا احساس ہوا بالخصوص بھارت کے سابق وزیراعظم گلزاری لال نندہ کا ذکر پڑھ کر ہم نے سوچا کہ لاہور سے تعلق رکھنے والے پاکستانی وزرائے اعظم کا ذکر بھی کیا جانا چاہیے تھا. گلزاری لال نندہ سیالکوٹ کے رہنے والے تھے اور تقسیم ہند سے قبل لاہور آکر ایف سی کالج میں زیرتعلیم رہے بلکہ بعدازاں مادر علمی میں کچھ عرصہ اقتصادیات کے استاد بھی رہے تھے. بھارت کے ایک اور سابق وزیراعظم اندر کمار گجرال بھی تقسیم ہند سے قبل لاہور میں مقیم رہے تھے جو جہلم کے رہنے والے تھے, انہیں لاہور پریس کلب نے اعزازی ممبر بنا رکھا تھا مگر لاہور کے جم پل پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کو اعزازی ممبر نہیں بنایا. کتاب "لاہوری چہرے” میں سابق وزیراعظم نواز شریف ہی نہیں ان کے بھائی موجودہ وزیراعظم شہباز شریف، ڈپٹی وزیراعظم / وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے علاوہ سابق وزیراعظم عمران خان کا نام بھی شامل ہونا چاہیے تھا. شہباز شریف اور اسحاق ڈار تو لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔

لاہوری چہرے میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی کا نام بھی شامل کیا گیا ہے جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے مرزا غلام احمد قادیانی سے مناظرہ کرنے آئے تھے اور6 ماہ تک لاہور میں مقیم رہے تھے مگر اسی دور کے قومی شاعر علامہ اقبال کا نام کتاب میں شامل نہیں کیا گیا جو سیالکوٹ سے اعلیٰ تعلیم کیلئے لاہور آئے تھے پھر اورینٹل کالج، گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج میں پروفیسر رہے، لاہور ہائیکورٹ میں وکالت کرتے رہے, لاہور شہر کے انتخابی حلقے سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور باقی ساری زندگی اسی شہر بیمثال میں گزار کر لاہور کی خاک اوڑھے ابدی نیند سو رہے ہیں, انہیں ایرانی دانشور "اقبال لاہوری” کا خطاب بھی دے چکے ہیں. اسی طرح کتاب میں بانو قدسیہ کا تعارف تو دے دیا گیا ہے لیکن بانو قدسیہ کی طرح تقسیم ہند پر مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے آنے اور باقی ساری زندگی لاہور میں گزارنے والے ان کے شوہر معروف ادیب اور ڈرامہ نگار اشفاق احمد کا نام شامل نہیں کیا گیا. لاہور کے جم پل شاعروں، ادیبوں یونس ادیب، رحمان مذنب، شہرت بخاری، انور سجاد ، امجد طفیل اور عاصم بٹ وغیرہ کے نام بھی ہمیں کتاب میں دکھائی نہیں دیئے. امید ہے کہ ممتاز راشد لاہوری کتاب "لاہوری چہرے” کے اگلے ایڈیشن میں ان کا تعارف بھی دیں گے یا کتاب کی دوسری جلد میں ان کا تعارف ضرور شامل کریں گے۔
علمی، ادبی اور صحافتی شخصیات کی ترتیب میں ان کی سینارٹی کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے تھا. مورخ لاہور کے طور پر مفتی غلام سرور لاہوری اور کنہیا لال ہندی کا نام تو شروع میں دے دیا گیا ہے لیکن علامہ تاجور نجیب آبادی، حکیم احمد شجاع، پطرس بخاری، میرزا ادیب، وقار انبالوی، اختر شیرانی، ایم ڈی تاثیر، چراغ حسن حسرت، صوفی تبسم، شورش کاشمیری، وقار عظیم، اقبال ساجد، سجاد باقر رضوی، مشیر کاظمی، شہزاد احمد، خدیجہ مستور، جمیلہ ہاشمی، رضیہ بٹ، بپسی سدھوا، مقبول جہانگیر، انور سدید، خواجہ پرویز، شفقت تنویر مرزا، انیس ناگی، اجمل نیازی، یونس جاوید، جعفر بلوچ، محسن نقوی، خالد شریف، عاشق رحیل، مشتاق صوفی، اقبال راہی وغیرہ کے تعارف جونیئر لکھاریوں کے بعد دیئے گئے ہیں اور موجودہ عہد کی سب سے بڑی ادبی شخصیت عطاء الحق قاسمی کا تو کتاب میں ذکر ہی نہیں کیا گیا. "لاہوری چہرے” میں نیلما درانی، پروین سجل، نبیلہ اکبر، جاوید قاسم ، عمران نقوی، عباس مرزا، انیس احمد، عینی راز، عروج زیب، نرگس نور، تبسم ناز اور عثمان بیگ کا مختصر تعارف بھی دیا گیا ہے. لاہور پر تحقیق کے حوالے سے راؤ جاوید اقبال، ان کے شاگرد فیضان عباس نقوی، سعد زاہد اور شہریار جبکہ کرکٹرز میں سے حفیظ کاردار، فضل محمود اور نذیر جونیئر کے نام شامل کئے گئے ہیں. لاہور پر کتاب لکھنے والوں میں سے یونس ادیب، ڈاکٹر اعجاز انور، انیس ناگی، عطاء الحق قاسمی، نعیم مرتضٰی، عتیق الرحمٰن وغیرہ کی بھی زندگی لاہور میں ہی گزری ہے۔
اسد سلیم شیخ لاہور کے گورنمنٹ کالج میں زیرتعلیم رہے تھے اور ڈاکٹر غافر شہزاد بھی اعلی تعلیم کے لئے جہلم سے لاہور آنے کے بعد اسی شہر میں سرکاری ملازمت کرتے رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد اب لاہور میں ہی مقیم ہیں البتہ کبھی کبھار برطانیہ کا چکر لگا لیتے ہیں، بھارتی شاعر اور فلمی گیت نگار کیفی اعظمی عالمی مشاعرے میں شرکت کیلئے جب دوحہ (قطر) گئے تھے تو ان کی ممتاز راشد لاہوری سے بھی ملاقات ہوئی تھی ان کا نام بھی انہوں نے کتاب میں شامل کر دیا ہے حالانکہ کیفی اعظمی جب کبھی پاکستان آتے تھے تو کراچی میں رشتے داروں کے پاس قیام کرتے تھے لیکن لاہور نہیں آیا کرتے تھے. لاہور کے صحافیوں میں سے ایم ایس ناز، عاشق چوہدری، شہباز انور خان، غلام زہرا، ملیحہ سید، آئینہ مثال جبکہ ٹی وی اینکرز میں سے رضی دادا، بلال قطب، اقرار الحسن کا تعارف دیا گیا ہے. کراچی میں اے آر وائی پر پروگرام کرنے والے اقرار الحسن کے بارے میں ممتاز راشد لاہوری انکشاف کرتے ہیں کہ وہ لاہور میں مقیم معروف شاعر باقی احمد پوری کے بھتیجے ہیں جن کا تعلق بہاولپور سے ہے اور لاہور کی جدید بستی ڈیفنس میں بھی ان کی کوٹھی موجود ہے. اقرار الحسن کا جو سیاسی سفر شروع کروایا گیا ہے ان کی تو اب چاروں صوبوں اور اسلام آباد میں بھی کوٹھیاں موجود ہو سکتی ہیں، ثقافت کے شعبے سے کتاب میں بابا چشتی، ملکہ پکھراج، شعیب ہاشمی، عاصم بخاری، راشد ڈار، سلطان راہی، آئرن پروین، استاد بدرالزمان، طافو خان، فریال گوہر اور عدیل برکی وغیرہ کا تعارف دیا گیا ہے۔


