
لاہور پر ہم نے اب تک جتنی بھی کتابیں پڑھی تھیں وہ تمام نثر پر مشتمل تھیں اور ان کی تعداد 75 سے زائد بنتی ہے. چند کتب میں شاعری کا تھوڑا سا حوالہ ضرور پایا جاتا تھا لیکن لاہور کے حوالے سے شاعری پر مکمل کتاب "لاہور کے رنگ، شاعری کے سنگ” ہمیں اب پڑھنے کو ملی ہے البتہ اس سے پہلے لمز نے ناصر عباس نیئر، شائستہ حسن اور زاہد حسن کی مرتبہ کتاب "لاہور کی کہانی شاعری کی زبانی”شائع کر رکھی تھی مگر اسے ہم ابھی تک نہیں پڑھ سکے. اب "لاہور کے رنگ، شاعری کے سنگ” کے عنوان سے کتاب محمد شاہد حنیف ایم اے (لائبریری سائنس) نے مرتب کی ہے. اس تحقیقی کتاب کو ادارہ تحقیقات لاہور کے تعاون سے بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل (ننکانہ) کے تحت شائع کیا گیا ہے جس کی کمپوزنگ اقصٰی شاہد اور تزئین محسن یوسف نے کی، مولف محمد شاہد حنیف نے "عرضِ مرتب” کے عنوان سے کتاب کا ابتدائیہ، سید ذیشان ہاشمی نے "لاہور پر شاعری، ابتدائی جائزہ” کے عنوان سے پیش لفظ، زاہد اقبال بھیل نے ” لاہور: محبت، تاریخ اور احساسات کا شہر” کے عنوان سے دیباچہ تحریر کیا جبکہ پروفیسر شبیر حسن زاہد نے کتاب اور مولف کے بارے میں نظم لکھی جس کے اندرونی صفحات پر 10 جبکہ پس سرورق پر 4 شعر شائع کئے گئے ہیں ان میں سے 2 شعر ہیں۔۔۔
لاہور باکمال ہے سارے جہان میں
شہرایسا لامحال ہے سارے جہان میں
شاہد حنیف نے مرتب کی ہے کتاب
مرقع باجمال ہے سارے جہان میں

پیش لفظ میں ادارہ تحقیقات لاہور کے صدر/ چیئرمین ذیشان ہاشمی لکھتے ہیں کہ زیر نظر مجموعہ میں جمع کردہ شعری مواد سے لاہور شہر کی مکمل ادبی تصویر پیش کی گئی ہے۔ یہ کتاب محض ادبی مجموعہ نہیں لاہور کے تہذیبی مزاج کا ایک منظوم شاہکار ہے۔ اس کے ذریعے شہر کے ادبی رنگ اور شاعری کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے، سید ذیشان ہاشمی نے کتاب کے آخر میں ادارہ تحقیقات لاہور کا تعارف بھی پیش کیا ہے۔ مولف و مرتب محمد شاہد حنیف "عرضِ مرتب” میں تحریر کرتے ہیں کہ برصغیر پاک و ہند کے شہروں میں سے لاہور پر بہت زیادہ کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہ قدیم شہر ہونے کے علاوہ تہذیب و ثقافت اور دیگر وجوہات کی بنا پر ایک الگ حیثیت رکھتا ہے جس کا اندازہ آپ کو اگلے صفحات میں پیش کئے جانے والے اشعار سے بھی بخوبی ہو جائے گا۔ کتاب میں لاہور پر قدیم شاعری کے ساتھ ساتھ غیر مطبوعہ اور جدید کلام بھی پیش کیا گیا ہے! "ہمارے خیال میں جدید شاعری کے سلسلے میں درج ذیل شعر کی مثال دی جا سکتی ہے۔۔۔
لاکھوں ہیں شہر لیکن کب اور تیرے جیسا
ڈھونڈے نہ ملے ہم کو لاہور تیرے جیسا
بھیل ادبی سنگت ننکانہ کے صدر، مجلہ قرطاس و قلم کے مدیراعلیٰ اور کتاب کے ناشر زاہد اقبال بھیل لاہور کو محبت، تاریخ اور احساسات کا شہر قرار دیتے ہوئے اپنے طویل مضمون میں علامہ اقبال، اختر شیرانی، ناصر کاظمی، ظہیر کاشمیری، شہرت بخاری، الطاف مشہدی، حبیب جالب، حمایت علی شاعر اور دیگر شعراء کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شعراء نے لاہور کو صرف شہر ہی نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک کیفیت، ایک عشق اور دل کی سلطنت قرار دیا ہے۔ زاہد اقبال بھیل نے علامہ اقبال کا بلبل خاموش کے حوالے سے جو شعر درج کیا ہے وہ علامہ اقبال نے اپنے لئے نہیں لاہور میں مقیم دہلوی شاعر استاد مرزا ارشد گورگانی کے بارے میں کہا تھا۔ زاہد اقبال بھیل آخر میں مولف کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ محمد شاہد حنیف نے لاہور کے رنگوں کو صرف جمع نہیں کیا بلکہ انہیں تحقیق، محبت اور ذوق ادب کے ساتھ مرصع کیا ہے، ایسے کام شہروں کی شناخت کو مضبوط اور آئندہ نسلوں کے لئے ثقافتی حوالوں کا ذخیرہ مہیا کرتے ہیں !”
مولف و مرتب محمد شاہد حنیف ایون اقبال کی لائبریری سے منسلک ہیں۔ بنیادی طور پر تحقیق کے آدمی ہیں "لاہور کے رنگ، شاعری کے سنگ” ان کی پہلی تحقیقی کتاب ہے جس کیلئے انہوں نے مختلف رسائل وجرائد میں سے لاہور شہر پر شائع ہونے والی شاعری تلاش کی ہے۔ یہ شاعری اردو، پنجابی، عربی اور فارسی زبانوں پر مشتمل ہے۔ البتہ انگریزی زبان میں لاہور پر شاعری کتاب میں شامل نہیں تاہم خلاف توقع عربی زبان میں لاہور پر شاعری موجود ہے جو کہ ہمارے لئے حیرت کا باعث ہے ہم نے سوچا کہ مولف محمد شاہد حنیف کو عربی زبان سے ضرور خصوصی دلچسپی ہوگی۔ انہوں نے جن شعراء کی کتب سے شاعری کا انتخاب کیا ان کی طویل فہرست بھی کتاب کے آخر میں درج کی ہے۔ ان میں مشہور مجلے اور رسالے نیرنگ خیال، نقوش، خیال و فن، چراغاں، لاہور شناسی، احوال لاہور، اقدام، سیارہ، محدث، دستاویز، شاہکار اور سویر وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جی سی یونیورسٹی لاہور کی طالبہ سعدیہ نور کے پی ایچ ڈی مقالے "لاہور کی شاعری میں ہیت و اسلوب کے تجربات” سے بھی مدد لی گئی ہے۔
کتاب میں شامل بیشتر شاعری کتب و جرائد اور مجلوں سے حاصل کی گئی ہے تاہم چند شعراء نے کتاب کیلئے مولف و مرتب کو اپنی غیرمطبوعہ نظمیں بھی فراہم کی تھیں۔ ان شعراء میں اثر انصاری فیض پوری، خبیب زاہد، شبیر حسین زاہد، زاہد اقبال بھیل، صفدر علی خان انشاء اور متین کاشمیری کے نام شامل ہیں۔ کتاب میں شاہ مراد لاہوری، کنہیا لال ہندی، علامہ اقبال، استاد امام دین گجراتی، جگن ناتھ آزاد، فیض احمد فیض، عبدالحمید عدم، حفیظ جالندھری، حفیظ ہوشیار پوری، رئیس امروہوی ، یزدانی جالندھری، نعیم صدیقی، شورش کاشمیری، ہوش ترمذی، انجم رحمانی، صادقین، جیلانی کامران، قیوم نظر، منیر نیازی ، جون ایلیا، جعفر بلوچ، وحید الزمان طارق، میر تنہا یوسفی، ظفر علی راجا، حامد یزدانی، آفتاب حسین، ممتاز راشد لاہوری، ڈاکٹر عظیم بخاری، پروین وفا ہاشمی، فاطمہ غزل، فاطمہ مہرو، فاعقہ حسن، عقیلہ شاہین، فخر عباس، رحمٰن فارس، ناصر بشیر وغیرہ کی لاہور شہر پر اردو شاعری اور استاد دامن، صفدر میر، ڈاکٹر فقیر محمد فقیر، سائیں اختر، انور مسعود، انیس ناگی، منیر نیازی، عارف پروہنا، عدل منہاس لاہوری وغیرہ کی پنجابی شاعری بھی شامل کی گئی ہے جبکہ لاہور شہر پر عربی شاعری احمد حسن نصراللہ اور حافظ خبیب زاہد نے کی ہے۔ ان کے ساتھ مولف و مرتب شاہد حنیف کے اظہار تشکر سے پتہ چلا کہ دونوں ہی موجودہ عہد کے شاعر ہیں ورنہ پہلے ہم انہیں زمانہ قدیم کے عربی شعراء ہی سمجھے تھے۔
اردو شاعری میں شامل فیض احمد فیض کی نظم” اے روشنیوں کے شہر” لاہور نہیں کراچی کے بارے میں کہی گئی تھی کیونکہ اس زمانے میں کراچی پاکستان کا وفاقی دارالحکومت تھا، فیض احمد فیض نے پنڈی سازش کیس کے تحت 1954ء میں منٹگمری (ساہیوال) جیل میں اسیری کے دوران یہ نظم کہی تھی۔۔۔
سبزہ سبزہ سوکھ رہی ہے پھیکی زرد دوپہر
دیواروں کو چاٹ رہا ہے تنہائی کا زہر
دور افق تک گھٹتی بڑھتی اٹھتی رہتی ہے
کہر کی صورت بے رونق دردوں کی گدلی لہر
بستا ہے اس کہر کے پیچھے روشنیوں کا شہر
فلموں کےمعروف موسیقار، کہانی نویس اور ہدایت کار خواجہ خورشید انور کی 1962ء میں بنائی جانے والی فلم "گھونگٹ” کیلئے شاعر تنویر نقوی کا لکھا اور گلوکار مہدی حسن کا گایا ہوا مشہور گیت "اے روشنیوں کے شہر بتا” بھی کراچی کے حوالے سے ہی تھا، روشنیوں کا شہر ہمیشہ سے کراچی کو کہا جاتا رہا ہے، لاہور پر اردو شاعری میں باپ بیٹےکی نظمیں بھی شامل ہیں ساہیوال سے لاہور منتقل ہونے والے ادیب، شاعر اور صحافی سید عبدالرشید المعروف یزدانی جالندھری نے نظم "لاہور” جبکہ ان کے صاحبزادے حامد یزدانی نے غزل کہی تھی۔ اپنی غزل کے مطلع میں حامد یزدانی نے کہا تھا کہ لاہور کی حسین فضاؤں سے دور ہوں لگتا ہے جیسے ماں کی دعاؤں سے دور ہوں جبکہ ان کے والد مرحوم یزدانی جالندھری کی نظم "لاہور”کا ایک شعر ہے۔۔۔
باندھا تجھ سے روح نے پیمان زندگی
لاہور ۔۔۔۔۔۔۔۔! تیرا نام ہے عنوان زندگ



