
اے حمید نے لاہور پر بہت زیادہ لکھا ہے بلکہ اردو میں شہر بے مثال پر سب سے زیادہ انہوں نے ہی لکھا ہے اس موضوع پر ان کی متعدد کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں جن میں ایک کتا ب ”لاہور کی باتیں“ (کچھ نئی کچھ پرانی) بھی شامل ہے جسے مقبول اکیڈمی نے 2008ء میں شائع کیا تھا، اے حمید نے اپنی اس کتاب کا انتساب طاہر لاہوری مرحوم کے نام کیا تھا جوخود بھی ”میرا سوہنا شہر لاہور“جیسی اہم کتاب کے مصنف ہیں، ”لاہور کی باتیں“ 14 مضامین پر مشتمل کتاب ہے جن کے عنوانات میرا لاہور، دیکھو شہر لاہور، ہوٹلوں کا لاہور، تہواروں کا لاہور، راوی کا میلہ، راوی بپھرتا ہے، وادیاں، بہارکی وادی، رت آئے رت جائے، سڑکیں اورکتبے، نومبرکی ایک رات، میں بھی حاضرتھا وہاں، ڈرامہ لیلیٰ مجنوں اصلی اورچہاردرویش ہیں، بنیادی طورپر یہ طنزیہ ومزاحیہ مضامین کا مجموعہ ہے یہ مضامین انہوں نے آزادی کے فوراَ بعد لاہور کے مختلف اخبارات وجرائد کیلئے لکھے تھے لیکن ان مضامین کے بیشترکردار، مقامات اور واقعات لاہور شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دیکھو شہر لاہور
کتاب کا دوسرا”مضمون وادیاں“راولپنڈی اورکومری میں ہونے والے مشاعروں کی روداد پر مشتمل ہے تاہم مشاعرے کے مہمان شعراء احمد ندیم قاسمی،ظہیر کاشمیری، قتیل شفائی، احمد راہی، شہرت بخاری، قمر اجنالوی اورقیوم نظروغیرہ سبھی لاہور سے گئے تھے، نواں مضمون ”بہارکی وادی“ بھی اے حمید کے راولپنڈی اور مری کے سفر کے احوال پر مبنی ہے، اے حمید مری میں لٹریری لیگ کے ادبی مباحثے میں بھی شریک ہوتے ہیں مباحثے کے دیگر شرکاء میں لاہور سے جانے والے اورئینٹل کالج کے استاد پروفیسر سید وقار عظیم اور پنجاب یونیورسٹی شعبہ صحافت کے استاد ڈاکٹرعبدالسلام خورشید بھی شامل تھے، اگلے مضمون ”راوی بپھرتا ہے“ میں اے حمید قارئین کو سیلاب سے شمالی لاہورکی بستیوں وسن پورہ، تاج پورہ، شاہدرہ، مصری شاہ، بادامی باغ اورفیض باغ وغیرہ میں ہونے والی تباہی سے آگاہ کرتے ہیں، پانچویں مضمون ”سڑکیں اورکتبے“ میں اے حمید مختلف ادیبوں، شاعروں اوردانشوروں کی قبروں کیلئے کتبے تجویز کرتے ہیں، انتظار حسین کیلئے انہوں نے یہ کتبہ تجویزکیا تھا ”آج وہ محاوروں کی تلاش میں بہت دور نکل گیا“ انتظارحسین بھی اب حیات نہیں رہے مگر خود اے حمیدان سے بہت سال پہلے دنیا چھوڑکر سفر آخرت پر روانہ ہوگئے تھے، اسی مضمون میں وہ ایک بزرگ محلے دارخاتون غلام فاطمہ کا بھی ذکر کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان بننے پر اپنا نام آزاد فاطمہ رکھ لیا تھا اور اے حمید کو اخبارمیں نام تبدیلی کا اشتہار دینے کی یاد دہانی کراتی رہتی تھیں۔

اگلے مضمون میں اے حمید لاہورمیں اخبار فروشوں کی ایک تقریب کے علاوہ منٹوپارک میں ہونے والے دنگل مقابلے کا بھی آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہیں جبکہ ”راوی کا میلہ“میں وہ دوستوں کے ساتھ دریا کنارے منائی جانے والی پکنک کا احوال لکھتے ہیں، نصف صدی پہلے لاہوریئے پکنک منانے راوی کنارے جایا کرتے تھے مگر اب دریا میں پانی ہی نہیں آتا صرف اس کے کنارے پرگٹروں اورفیکٹریوں کاغلیظ پانی گندے نالے کی صورت میں بہتا ہے جس کا تعفن وہاں سے گزرنے والوں کا ناک میں دم کئے رکھتا ہے، اے حمید اپنے مضمون ”رت آئے رت جائے“ میں نصف صدی پہلے برسات کے دوران لاہور شہرکی حالت زار سے آگاہ کرتے ہیں، ڈرامہ لیلیٰ مجنوں اورچہار درویش ان کے مزاحیہ مضامین ہیں جبکہ باب”دیکھو شہرلاہور“ میں اے حمید سینما گھروں میں نمائش پذیر عشقیہ داستانوں پر مبنی فلموں کا احوال بیان کرتے ہیں اس عنوان سے اے حمید کی ایک الگ کتاب بھی شائع ہوئی تھی۔
اے حمیدکتاب کے مضمون”میرالاہور“ میں شہر بے مثال کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ”لاہور کا ایک اپناکلچر ہے، اپنی زبان ہے، اپنی رسمیں ہیں، اپنے میلے ٹھیلے ہیں، اپنی خوشیاں اور اپنے غم ہیں، اگرآپ کبھی لاہور آئیں اور اس کی سیرکرنا چاہیں تو یہ لاہورآپ مال روڈ، میکلوڈ روڈ، لارنس روڈ، ٹیمپل روڈ، بیڈن روڈ، زمزمہ توپ، چیئرنگ کراس چوک، میٹرو، ارجنٹینا ریسٹورنٹ اور کافی ہاؤس میں نہیں ملے گا اس سے ملنے کیلئے آپ کو میکلوڈ روڈ کا دریا عبورکرکے جھکے جھکے چھجوں والی تنگ وپیچدار گلی کوچوں، ٹیڑھے میڑھے بازاروں، برگد کی ٹھنڈی چھاؤں میں سوئے ہوئے مزاروں، تکیوں اورشاہی کبابوں کی دھواں کھائی ہوئی دکانوں پر جانا پڑے گا، مال روڈ اور میکلوڈ روڈ کے لاہور میں آپ کو ہر آدمی وقت کے تعاقب میں بھاگتا، دوڑتا ہوا ملے گا لیکن موچی گیٹ، انارکلی اورگوالمنڈی کے لاہور میں آپ وقت کو سگریٹ منہ میں دبائے، میز پر ٹانگیں رکھے بڑے آرام سے کرسی پر نیم دراز پائیں گے، پرانا لاہورنئے لاہور سے بڑا مختلف ہے، نیا لاہور اگر ٹکسال سے نکلا ہوا نیا سکہ ہے تو پرانا لاہورکسی مغل شہنشاہ کے تاج سے گرا ہوا عقیق ہے، آموں کے جھنڈ میں چھپی ہوئی وہ بارہ دری ہے جس کے سفید پتھروں پر سیاحوں نے عشقیہ اشعارلکھے ہوں۔۔۔!“



