
لاہور پریس کلب کے سالانہ انتخابات کے نتائج ہماری توقعات کے عین مطابق برآمد ہوئے ہیں اور اس کا اظہار ہم نے انتخابات سے قبل اپنے قریبی صحافی و ادبی دوستوں شہزاد فراموش اور طارق کامران کے ساتھ محفل میں تجزیہ کرتے ہوئے کر دیا تھا. جرنلسٹ پینل نے کلب الیکشن میں بالکل اسی طرح میدان مار لیا ہے جس طرح حکومت ضمنی الیکشن جیت لیا کرتی ہے پریس کلب کے اس الیکشن کو ریفرنڈم بھی قرار دے سکتے ہیں اس مرتبہ پریس کلب کے سالانہ انتخابات صحافی کالونی فیز 2 کی روڈا رہائشی سکیم کے ساتھ نتھی تھے اور فیز 2 سے تعلق رکھنے والے ووٹرز یعنی پریس کلب ممبرز کی تعداد سب سے زیادہ تھی انہیں پنجاب اسمبلی ایکٹ کے تحت پی جے ایچ ایف کے ذریعے پلاٹ درکار تھا تاکہ وہ کرایہ کے مکانوں سے نجات پا کر ذاتی گھر تعمیر سکیں اور انہیں پلاٹ صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کیا جانا تھا لہذا جب صوبائی وزیراطلاعات عظمٰی بخاری نے جرنلسٹ گروپ کے قائد اور صدارتی امیدوار کی تعریف وحمایت کر دی تھی تو پھر جرنلسٹ پینل کی واضح اکثریت سے کامیابی یقینی ہو گئی تھی۔
جرنلسٹ پینل کے صدارتی امیدوار ارشد انصاری 14ویں مرتبہ پریس کلب کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ ان کا ریکارڈ شاید ہی کوئی امیدوار مستقبل میں توڑ سکے گا۔ ان کے مقابلے پر پریس کلب کے سابق صدر و سابق سیکرٹری اعظم چوہدری امیدوار تھے ، ارشد انصاری ماضی میں صدر کے علاوہ نائب صدر، سیکرٹری اور خزانچی بھی رہے تھے۔ نومنتخب سینئر نائب صدر سلمان قریشی چند برس پہلے بھی اس عہدے پر تعینات رہے تھے بلکہ سلمان قریشی قبل ازیں نائب صدر اور ممبر گورننگ باڈی بھی رہ چکے تھے۔ جرنلسٹ پینل کے امیدوار سلمان قریشی نے پائنیر اتحاد پینل کی امیدوار صائمہ نواز کو ہرایا ہے۔ صائمہ نواز پہلے نائب صدر، جوائنٹ سیکرٹری اور ممبر گوننگ باڈی رہی تھیں، نومنتخب نائب صدر ناصرہ عتیق بھی پہلے اس عہدے پر تعینات رہی تھیں۔ ناصرہ عتیق قبل ازیں متعدد مرتبہ ممبر گورننگ باڈی بھی رہ چکی تھیں۔ چند برس قبل اعظم چوہدری کے مقابلے پر صدر کی نشست پر بطور امیدوار جرنلسٹ پینل الیکشن ہار گئی تھیں اس بار وہ پائنیرز اتحاد کی جانب سے الیکشن لڑ کر نائب صدر منتخب ہوئی ہیں، ناصرہ عتیق نے جرنلسٹ پینل کے امیدوار مدثر تتلہ کو ہرایا ہے جو پہلے ممبر گورننگ باڈی رہے تھے، نائب صدر کی خاتون نشست پر جرنلسٹ پینل کی امیدوار مدیحہ الماس نے پائنیر اتحاد کی امیدوار ثمینہ پاشا کو صرف چند ووٹوں سے شکست دی، دونوں خواتین امیدواروں میں بڑا سخت مقابلہ رہا۔
پریس کلب کے پہلے منتخب جنرل سیکرٹری افضال طالب نے پائنیرز اتحاد کے امیدوار عبدالمجید ساجد اور اپنے جرنلسٹ گروپ کے باغی امیدوار اعجاز مرزا کو بیک وقت شکست دی، افضال طالب ماضی میں کلب کے سینئر نائب صدر، نائب صدر، سیکرٹری اور خزانچی، عبدالمجید ساجد نائب صدر اور سیکرٹری جبکہ اعجاز مرزا ممبر گورننگ باڈی رہے تھے۔ جوائنٹ سیکرٹری کی نشست پر جرنلسٹ پینل کے امیدوار عمران شیخ دوبارہ منتخب ہوئے ہیں جو پہلے 9 مرتبہ ممبر گورننگ باڈی بھی رہے تھے ان کے حریف پائنیر اتحاد پینل کے امیدوار رانا اکرام غالباً پہلے بھی جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر الیکشن لڑ چکے ہیں۔ رانا کرام بھی ماضی بعید میں 7 مرتبہ ممبر گورننگ باڈی رہے تھے، دونوں امیدواروں میں صرف 43 ووٹ کا فرق تھا، فنانس سیکرٹری کی نشست جیتنے والے جرنلسٹ پینل کے امیدوار سالک نواز ماضی میں بھی خزانچی، جوائنٹ سیکرٹری اور ممبر گورننگ باڈی رہے تھے۔ ان کے حریف پائنیرز اتحاد پینل کے امیدوار حسنین چوہدری بھی ماضی میں 3 بار ممبر گورننگ باڈی رہ چکے تھے انہیں اب راجہ ریاض گروپ اور شہباز جندران گروپ کی بھی حمایت حاصل تھی۔ جرنلسٹ پینل کے امیدواروں کا پائنیرز اتحاد پینل کے جن امیدوار نے سخت مقابلہ کیا اور 50 ووٹ سے بھی کم فرق سے ہارے ان میں خاتون نائب صدر کی امیدوار ثمینہ پاشا، جوائنٹ سیکرٹری کے امیدوار رانا اکرام اور فنانس سیکرٹری کے امیدوار حسنین چوہدری بھی شامل ہیں۔
جرنلسٹ گروپ نے اس مرتبہ الیکشن میں صرف دستور گروپ کو دوبارہ اتحادی بنایا تھا اور اسے گورننگ باڈی کی 2 نشستیں دی تھیں جن پر دستور گروپ کے دونوں امیدوار سید سجاد کاظمی اور خواجہ سرمد فرخ بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے ہیں سجاد کاظمی پہلے اور خواجہ سرمد تیسرے نمبر پر جیتے ہیں، گورننگ باڈی میں دوسرے نمبر پر بھی جرنلسٹ پینل کے اقلیتی امیدوار آشر جان جیتے ہیں جو خود انگریزی صحافت سے وابستہ ہیں اور ان کے حریف امیدوار یعقوب عزیز اردو صحافت سے منسلک فوٹو جرنلسٹ ہیں۔ جرنلسٹ پینل کے ممبرز گورننگ باڈی میں سے تقریباً نصف امیدوار پہلے بھی الیکشن جیت چکے تھے ان میں خواجہ سرمد فرخ کے علاوہ الفت حسین مغل، اسد محمود گڈو، محمد احمد رضا اور ظہیر شیخ شامل ہیں بلکہ رابعہ عظمت بھی پہلے الیکشن لڑ چکی ہیں۔ پائنیر اتحاد کے گورننگ باڈی میں منتخب ہونے والے اکلوتے امیدوار سید بدر سعید بھی پہلے الیکشن جیت چکے ہیں بلکہ قبل ازیں 2 مرتبہ ممبر گورننگ باڈی رہے ہیں اور انہوں نے ممبر گورننگ باڈی بننے کی ہیٹ ٹرک مکمل کر لی ہے ان کا تعلق بنیادی طور پر پائنیرز گروپ کے اتحادی پروگریسو گروپ سے رہا ہے بلکہ پائنیرز گروپ بھی پہلے پروگریسو گروپ میں سے نکلا تھا، پائنیرز اتحاد پینل نے بھی پہلے گورننگ باڈی میں رہنے والے 3 امیدواروں امجد فاروق کلو، عالیہ خان اور شاکر اعوان کو دوبارہ ٹکٹ دیئے مگر تینوں امیدوار کامیاب نہ ہو سکے۔
پائنیرز اتحاد کے امیدوار عامر خان، سرفراز خان، رانا وحید اور رانا شفاق تو غالباً پہلے بھی الیکشن لڑ چکے تھے لیکن شہباز آرائیں اور ظفر سیال پہلی بار الیکشن لڑے تھے۔ آزاد امیدواروں میں سے اعچاز فاروقی نے بھی پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا تاہم شہزادہ خالد ماضی میں بھی الیکشن لڑتے رہے ہیں۔ جرنلسٹ پینل کے 2 امیدوار مرتضٰی ٌٌباجوہ اور فاطر شاہ ٹکٹ نہ ملنے پر پولنگ سے پہلے الیکشن سے دستبردار ہو گئے تھے۔ جرنلسٹ پینل کے ناکام رہنے والے گورننگ باڈی کے واحد امیدوار ریاض ٹاک بھی پہلے الیکشن لڑ چکے تھے، ان کا تعلق فیز 2 سے تھا بلکہ جرنلسٹ پینل نے گورننگ باڈی کیلئے تمام امیدوار فیز 2 سے نامزد کئے تھے جبکہ پائنیرز اتحاد پینل کے امیدواروں میں صحافی کالونی فیز 1 کے ایک امیدوار امجد فاروق کلو تھے اس پینل کے باقی تمام امیدواروں کا تعلق فیز ٹو سے تھا ان میں سے صرف ایک امیدوار بدر سعید کامیاب ہو سکے ہیں جن کا تعلق فیز 2 سے ہے، پریس کلب کے حالیہ سالانہ انتخابات میں جرنلسٹ پینل اور پائنیر اتحاد پینل دونوں نے گورننگ باڈی کیلئے صحافی کالونی ایف بلاک کا کوئی امیدوار نامزد نہ کیا تھا۔ ایف بلاک سے تعلق رکھنے والے اکلوتے امیدوار گورننگ باڈی شہزادہ خالد آزاد حیثیت سے الیکشن لڑے تھے، البتہ پائنیرز اتحاد پینل نے سینئر نائب صدر کی نشست پر ایف بلاک سے تعلق رکھنے والی صائمہ نواز کو امیدوار بنایا تھا جو گزشتہ برس پریس کلب کی نائب صدر رہی تھیں مگر اس مرتبہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔
پائنیرز گروپ نے کلب الیکشن لڑنے کیلئے زاہد شفیق طیب کے رائٹر گروپ اور احسن ضیا کے گروپ کو اتحادی بنایا تھا اور اتحادیوں کے امیدوار امجد فاروق کلو کو ٹکٹ دیا تھا جو ماضی میں ممبر گورننگ باڈی رہ چکے تھے مگر اس الیکشن میں امجد فاروق کلو پائنیرز گروپ کے سابق ممبرز گورننگ باڈی شاکر اعوان اور عالیہ خان بلکہ عامر خان، سرفراز خان اور رانا وحید سے بھی کم ووٹ حاصل کر سکے ہیں کیونکہ ان کا تعلق فیز 2 سے نہیں فیز 1 سے تھا، اقلیتی نشست کے ناکام امیدوار یعقوب عزیز کے بھی فاروق کلو سے تقریباًً سوا سو ووٹ زیادہ تھے۔ موجودہ گورننگ باڈی میں سجاد کاظمی، کامران خان، رابعہ عظمت اور آشر جان پہلی بار، خواجہ سرمد فرخ، اسد محمود گڈو اور ظہیر شیخ دوسری مرتبہ جبکہ محمد احمد رضا اور سید بدر سعید تیسری بار منتخب ہوئے ہیں۔ ہارنے والے امیدواروں میں سے بھی شاکر اعوان اور امجد فاروق کلو پہلے بھی ایک مرتبہ جبکہ عالیہ خان دو مرتبہ ممبر گورننگ باڈی رہی تھیں۔


