
لاہور کے حوالے سے کتابیں لکھنے والوں میں ڈاکٹر غافر شہزاد کا نام سرفہرست ہے جن کی لاہور پر متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں. ان کی زیادہ تر کتابوں کا موضوع لاہور کی تعمیر و ترقی ہے. ان کی کتاب "لاہور : نئی صدی ، نیا شہر” کا بھی یہی موضوع ہے بلکہ اس کتاب کا حصہ اول "پاکستانی فن تعمیر” کے عنوان سے تحریر کیا گیا ہے حالانکہ اس پہلے حصے کو الگ کتاب کی صورت میں شائع کیا جانا چاہیے تھا. فکشن ہاؤس کے تحت 2025ء میں شائع ہونے والی اس کتاب کا انتساب ڈاکٹر غافر شہزاد نے غالباً اپنی بچیوں اقراء رسول اور عرش رسول کے نام کیا تھا۔ ڈاکٹر غافر شہزاد اب اپنی کتابوں کا دیباچہ یا فلیب کسی سے نہیں لکھواتے البتہ خود پیش لفظ ضرور تحریر کرتے ہیں۔ "لاہور۔ نئی صدی، نیا شہر” کے پیش لفظ "چند معروضات” میں لکھتے ہیں کہ اگر ہم سرکلر گارڈن کے بگاڑ کی تاریخ کو مرتب کریں تو معلوم ہو گا کہ لوگوں سے زیادہ حکومت اور حکومتی اداروں نے سرسبز ماحول کو آکسیجن کی لگاتار فراہمی کرنے والے سرکلرگارڈن کے ساتھ ایسا خوفناک سلوک کیا ہے جو فاتح قوم اپنے مفتوح علاقوں کے ساتھ بھی نہیں کرتیں !”
اندرون لاہور کے اطراف میں شہر کی فصیل کے ساتھ انگریز دور میں لگائے جانے والے باغ کی جگہ پہلے رنجیت سنگھ کے دور میں کشادہ چوڑی اور گہری خندق ہوتی تھی۔ آزادی کے بعد بیرون شہر سرکلر روڈ کے ساتھ ساتھ واقع جگہ پر دکانیں، کھوکے، مساجد، مدرسے، سکول، ٹیوب ویل، گرڈ اسٹیشن، پولیس کے دفاتر اور پٹرول پمپس وغیرہ وجود میں آگئے تھے۔ ڈاکٹر غافر شہزاد لکھتے ہیں کہ اگر سرکلر گارڈن نہ ہوتا تو یہ تمام عمارتیں، پٹرول پمپ، ٹیوب ویل، سکول، مدرسے، گرڈ سٹیشن، سوئی گیس کی تنصیبات معلوم نہیں کہاں جگہ گھیرتیں۔ ڈاکٹر غافر شہزاد اسے ظلم و بربریت کی اندوہناک داستان قرار دیتے ہوئے اس سے کچھ سیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں کہ ہمیں بگاڑ کی تاریخ مرتب کرنے اور محرکات کا بے رحمانہ تجزیہ کرنا ہوگا لگتا ہے۔ ڈاکٹر غافر شہزاد کا یہ پیش لفظ شاید وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پڑھ کر اپنے والد سابق وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی تھی جس نے اندرون اور بیرون لاہور کے علاقوں سے تجاوزات کا خاتمہ کر کے ان علاقوں کا اصل چہرہ بحال کرنے کا کام شروع کردیا ہوا ہے۔

تفنن برطرف ڈاکٹر غافر شہزاد چونکہ بنیادی طور پر آرکیٹیکٹ ہیں اور انہوں نے اسی موضوع پر پی ایچ ڈی بھی کر رکھی ہے لہذا ان کی تحریر میں تعمیر وترقی کا لازمی ذکر ہوتا ہے۔ اس کتاب میں شامل بیشتر مضامین اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں ان مضامین کے عنوانات ہی تعمیر و ترقی کے حوالے سے ہیں مثال کے طور پر لاہور۔ نواحی آباد کاری و توسیع، منصوبہ بحالی اندرون شہر لاہور، فوڈ سٹریٹ سے فوڈ بازار تک، سر گنگارام اور اعداد و شمار، ثقافتی و تعمیراتی اثاثے، شہر کی سڑکیں، عمارتیں کیوں جل بجھتی ہیں، سگنل فری آزادی چوک، ماڈل ٹاؤن سے ریور راوی زون تک اور کم خرچ گھروں کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں۔
شہر بیمثال پر لکھنے والے سینئر لکھاریوں میں ڈاکٹر عبداللہ چغتائی سے ڈاکٹر غافر شہزاد زیادہ متاثر لگتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ عبداللہ چغتائی کی تحریروں کا فوکس لاہور کی تاریخی تعمیرات رہا ہے چونکہ عبداللہ چغتائی ان کی طرح آرکیٹیکٹ نہیں تھے بلکہ تاریخ کے طالب علم تھے اس لئے عبداللہ چغتائی کی تحریروں میں بھی تاریخ بیانیہ انداز میں ملتی ہے البتہ غافر شہزاد کو ان کی کتابوں میں عمارات کے تعمیراتی سازو سامان کی تفصیلات ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ تزئین و آرائش کے فنی و جمالیاتی پہلوؤں پر بھی سیر حاصل بحث ملتی ہے۔ لہذا یہ ڈاکٹر عبداللہ چغتائی کی کتابوں کو فن تعمیر کی تاریخ نویسی کی سنجیدہ کوشش کا اولین پڑاؤ قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ چغتائی کے بعد ڈاکٹر غافر شہزاد محکمہ آثار قدیمہ کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر نبی احمد خان کی تعمیرات کی تاریخ پر لکھی جانے والی کتب کو اہم قرار دیتے ہیں۔ عبداللہ چغتائی اور نبی احمد خان کے بعد یہ این سی کے سابق استاد کامل خان ممتاز کے قائل نظر آتے ہیں اور ان کی انگریزی کتاب "آرکیٹیکچر اِن پاکستان” کو پاکستانی فن تعمیر کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیتے ہیں، کامل خان ممتاز کے مختلف سیمینارز اور کانفرنسز میں پیش کئے جانے والے مقالے بھی بعدازاں 1999ء میں آکسفوڈ پریس کراچی نے "ماڈرنٹی اینڈ ٹریڈیشن "کے نام سے کتابی صورت میں شائع کئے تھے۔
کتاب کا عنوان جس مضمون سے لیا گیا ہے دوسرے حصے کا آغاز اس سے ہوتا ہے، اس میں غافر شہزاد درست لکھتے ہیں کہ مغل حکمرانوں نے لاہور کو پہلی بار مختلف اور منفرد تشخص دیا تھا۔ شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد کی تعمیر نے لاہور کو بین الاقوامی شہرت کا شہر بنا دیا تھا۔ اسے سیاحوں کی نظر میں قدرومنزلت مل گئی تھی۔ بعدازاں سکھ حکمرانوں اور ان کے حواریوں کی لوٹ مار نے لاہور شہر کا چہرہ مسخ کر ڈالا تھا، پھر انگریزوں کا لاہور پر قبضہ ہونے کے بعد لاہور شہر کا ایک نیا تشخص ابھر کر سامنے آیا۔ ڈاکٹر غافر شہزاد انگریزی عہد حکومت کو لاہور شہر کی تعمیرِنو کا دور قرار دیتے ہیں اور واقعی مغل دور کے بعد لاہور میں انگریزی عہد کے دوران ہی اہم تعمیرات ہوئی تھیں۔ انگریزوں نے اندرون لاہور شہر کے بجائے بیرون لاہور شہر پر توجہ دی تھی اور مال روڈ جیسی اہم شاہراہ بنا کر اس کے اطراف میں جہازی سائز کی شاندار عمارتیں تعمیر کروائی تھیں جو آج بھی لاہور شہر کی شان و شوکت کا باعث ہیں۔
لاہور شہر کے نواح میں آباد کاری کے حوالے سے لکھے مضمون میں ڈاکٹر غافر شہزاد بتاتے ہیں کہ دریائے راوی کی طغیانیوں اور شمالی علاقوں سے آنے والے حملہ آوروں کے خوف کی وجہ سے شہر میں توسیع ہمیشہ جنوبی جانب ہوتی رہی بعدازاں دریائے راوی مڑ کر شاہدرہ چلا گیا جس سے شمالی لاہور شہر میں سیلاب کی روک تھام بھی ہو گئی لیکن لاہور شہر میں توسیع جنوب اور جنوب مشرق کی سمت ہی ہوتی رہی۔ فصیلِ شہر سے باہر آبادی کا آغاز مغل حکمران شہنشاہ ہمایوں کے دور میں ہی ہو گیا تھا۔ سب سے پہلے بیرون شہر محلہ لنگر خان بلوچ آباد ہوا تھا پھر مزنگ اور اس کے بعد محلہ موج دریا بخاری، محلہ شاہ چراغ اور محلہ شاہ شرف آباد ہوا تھا۔ شہنشاہ اکبر کے دور میں بیرونی شہر 27 محلوں پر مشتمل تھا۔ سکھوں کے ادوار میں تحصیل سے باہر کے محلے بھی لوٹ مار کے باعث ویران ہو گئے تھے۔ بالآخر انگریزی حکومت نے نہ صرف لاہور کو بحال کیا بلکہ جدید تعمیرات کے ذریعے لاہور کو شاندار شہر بنا دیا تھا۔ انگریزی دور میں ہی فصیل سے باہر سنت نگر، کرشن نگر، گوالمنڈی، محمد نگر جیسے محلے آباد ہوئے تھے۔ اسی دور میں ماڈل ٹاؤن اور مسلم ٹاؤن جیسی جدید رہائشی بستیاں وجود میں آئی تھیں۔
اندرون شہر کے قدیمی داخلی دروازوں کی بحالی کیلئے 2 عشرے پہلے ورلڈ بینک اور آغا خان ٹرسٹ فارکلچر کے تحت دلی دروازے کے اندر کام شروع کروایا گیا تھا جو گلی سُرجن سنگھ کی بحالی تک ہی محدود رہا، دلی دروازے کے بعد شاہ عالمی، لوہاری، موری، موچی، بھاٹی، ٹکسالی، شیرانوالہ، اکبری اور کشمیری دروازوں کو بحال کرنے کی نوبت نہ آ سکی حالانکہ ورلڈ بینک اور ایل ڈی اے نے 1988ء میں تیار کردہ گریٹر لاہور پلان کے تحت قدیمی فصیل کی نشاندہی، شاہی حمام، گوردوارہ باؤلی، حویلی دھیان سنگھ، دہلی دروازہ اور کشمیری بازار میں کام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ فوڈ سٹریٹ سے فوڈ بازار تک کے عنوان سے باب میں ڈاکٹر غافر شہزاد بتاتے ہیں کہ گوالمنڈی میں چیمبرلین روڈ پر فوڈ سٹریٹ کا افتتاح 28 اکتوبر 2000ء کو کیا گیا تھا ڈاکٹر غافر شہزاد تجدید لاہور کمیٹی کے تحت فوڈ سٹریٹ میں قدیم عمارات کی تزئین و آرائش کو لیپا ہوتی قرار دیتے ہیں اور ٹریفک کا راستہ روکنے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ پرانی انارکلی کو فوڈ بازار اور ٹورسٹ سٹریٹ بنا کر 14۔اگست 2002ء کو اس کا افتتاح کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر غافر شہزاد یہاں رہائش پذیر لوگوں کی نیند غارت کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر غافر شہزاد کی یہ کتاب فکشن ہائوس پبلشرز کے تحت ظہور احمد خاں نے 2015 ء میں شائع کی تھی۔



