کالم

لاہور میں ادبی سرگرمیاں

میم سین بٹ

  لاہور آنے کے بعد ہم اس شہر بیمثال سے زیادہ دن دور نہیں رہے تھے مگر اب والدہ کی علالت کے باعث ہمیں چند ماہ فیصل آباد میں مقیم رہنا پڑا. اس دوران ہم موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے لاہوری دوست احباب کے ساتھ رابطے میں رہے تھے تاہم لاہور میں ہونے والی تقریبات میں شریک نہیں ہو سکے تھے بالخصوص حلقہ ارباب ذوق سے مسلسل  غیرحاضر رہے تھے سیکرٹری شازیہ مفتی ہر ہفتے ہمیں اجلاس میں شرکت کیلئے دعوت نامہ کی پوسٹ واٹس ایپ کرتی رہی تھیں لہذا لاہور واپس آتے ہی ہم جس سب سے  پہلی تقریب میں شریک ہوئے وہ پاک ٹی ہاؤس میں حلقہ ارباب ذوق کے تحت حسین نقی کی زیرصدارت الطاف احمد قریشی کا تعزیتی ریفرنس تھا جس میں حلقہ ارباب ذوق کے سابق سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سعادت سعید ، سابق سیکرٹری امجد طفیل، سابق جوائنٹ سیکرٹری حسن جعفر زیدی، حلقے کے رکن ممتاز راشد لاہوری اور محمد جمیل کے علاوہ بزرگ صحافی مجیب الرحمٰن شامی، کام نگار و تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی، طارق خورشید، یاسین خان سندس، شہرت بخاری کی صاحبزادی مقصومہ بخاری،  الطاف احمد قریشی کی صاحبزادی زیلف صولت قریشی اور صاحبزادے احمد جواد قریشی نے بھی اظہار خیال کیا تھا۔

    پاک ٹی ہاؤس میں ہی ممتاز راشد لاہوری نے ہمیں ڈی ایچ اے میں حلقہ ارباب ذوق کے سابق جوائنٹ سیکرٹری اور حلقہ ارباب ذوق پاکستان (مرکز) کے سابق سیکرٹری مبارک احمد کے نام پر انکے صاحبزادے ایرج مبارک کی جانب سے قائم کیا جانے والا "مبارک ورثہ گھر” دیکھنے کی دعوت دی اور جب ہم بعدازاں طارق کامران اور شہزاد فراموش کے ساتھ ڈیفنس پہنچے تو ممتاز راشد لاہوری نے اپنی ادبی تنظیم ادارہ خیال و فن کے تحت ہمارے اعزاز میں  طارق کامران کے زیرصدارت نشست رکھ دی تھی جس کا مہمان خصوصی شہزاد فراموش کو بنا دیا گیا تھا. نظامت کے فرائض ممتاز راشد لاہوری نے خود سرانجام دیئے تھے. اس موقع پر قیصر سلیم، آفتاب خان، فواد بشارت اور محمد جمیل اکادمی ادبیات والے نے بھی ہمارے بارے میں اظہار خیال کیا تھا جبکہ ایرج مبارک نے مبارک احمد اور انتظار حسین کے حوالے سے دلچسپ باتیں بتائیں اور ہمیں اپنے والد کی یادگار بائیسکل بھی دکھائی جو لاہور میں مبارک احمد کے زیر استعمال رہی تھی بعدازاں  سرفراز علی حسین کی زیر صدارت مشاعرہ کروایا گیا جس میں حاضر شرکاء نے اپنا کلام سنایا اور داد پائی تھی۔

   انہی دنوں ہمارے دوست پریس کلب کے سابق ممبر گورڈنگ باڈی، پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی اور پی یو جے کے سابق صدر قمر الزمان بھٹی نے ہماری سالگرہ والے دن کیک کاٹنے کا اعلان کر دیا اور کلب لائبریری میں تقریب رکھ دی جس میں پریس کلب کے قائم مقام صدر (سینئر نائب صدر )افضال طالب، سابق نائب صدر امجد عثمانی پی یو جے کے سابق جنرل سیکرٹری خواجہ آفتاب حسن، سابق خزانچی ندیم شیخ، فیلو شپ آف جرنلسٹس کے چیئرمین فواد بشارت، حلقہ ادب و صحافت کے سیکرٹری شہزاد فراموش، حلقہ احباب قلم کے سابق سیکرٹری طارق کامران، سینیئر صحافیوں سعید اختر، رفیق خان، جاوید ہاشمی اور پریس کلب کے اسسٹنٹ مینجر محمد عقیل نے بھی شرکت کی. اس موقع پر ہم سے قمرالزمان بھٹی اور فواد بشارت نے اپنے لائے ہوئے کیک بھی کٹوائے تھے۔

   پاک ٹی ہائوس میں اگلے اتوار کو یوم اقبال کے حوالے سے نشست رکھی گئی تھی جس کی صدارت معین نظامی نے کی. امجد طفیل نے علامہ اقبال کے شعری مجموعہ ضرب کلیم پر لیکچر دیا اور جاوید اقبال جاوید، عباس مرزا، غلام حسین ساجد، جاوید اطہر، میاں شہزاد، راشد طفیل  اور زاید ہما شاہ نے اظہار خیال کیا جبکہ واجد امیر اور غلام حسین ساجد نے نظم شکوہ و جواب شکوہ تحت اللفظ سنائی تھیں. آخر میں اسامہ چشتی اور انجم شیرازی نے کلام اقبال ساز و آواز کے ساتھ پیش کیا اور خوب داد پائی. اسی شب پریس کلب لائبریری میں حلقہ ادب و صحافت کی نشست کے دوران طارق کامران کی زیرصدارت ہم نے علامہ اقبال کی رومانی شاعری کے عنوان سے مضمون اور شہزاد فراموش نے پنجابی کہانی پیش کی جن پر حسنین اخلاق، فیصل سلہری، خالد منصور اور خواجہ حسان احمد نے رائے دی, قمرالزمان بھٹی اجلاس رکھوا کر غیرحاضر رہے تھے. چند روز بعد پریس کلب کے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں ایکٹ کمیٹی نے بزرگ صحافی عظیم قریشی کی سالگرہ منائی تھی تقریب میں سینئر صحافیوں چوہدری خادم حسین، چوہدری بخت گیر، علامہ صدیق اظہر،  شجاع الدین، پرویز الطاف،  سعید اختر، شفیق عوان، اظہر غوری، محمد علی اور کلب کے قائم مقام صدر (سینئرنائب صدر) افضال طالب نے بھی شرکت کی. اس موقع پر عظیم قریشی نے سالگرہ کا کیک بھی کاٹا. میزبان ایکٹ کمیٹی کے چیئرمین اور کلب کے سابق نائب صدر امجد عثمانی نے آخر میں مہمانوں کا شکریہ ادا کیا تھا. کمیٹی نے بعدازاں معروف  خاتون صحافی، کالم نگار، پریس کلب کی لائف ممبر،  ادیبہ، شاعرہ، محقق ڈاکٹر عارفہ صبح خان کے اعزاز میں تقریب بھی کروائی تھی جس میں ہم فیصل آباد آجانے کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے تھے۔

    حلقہ ارباب ذوق کی نومبر کے دوران جس تیسری نشست میں ہم شریک ہوئے, وہ پروفیسر لطیف ساحل کی زیرصدارت منعقد ہوئی تھی اور اس میں سبطین رضا نے نظم اور تیمور کاظمی نے غزل جبکہ ممتاز حسین نے افسانہ تنقید کیلئے پیش کیا تھا. ان تخلیقات پر غلام حسین ساجد، اظہر حسین، شازیہ مفتی، محمد جمیل، ڈاکٹر شاہد اشرف، کنور عبدالماجد خان، آفتاب جاوید، عبدالوحید اور توقیر عباس نے بھی اظہار خیال کیا تھا. افسانہ نگار ممتاز حسین نے این سی اے آڈیٹوریم میں غلام عباس کے افسانے اوورکوٹ پر بنائی جانے والی ٹیلی فلم دیکھنے کی دعوت دی تو اگلے روز ہم اور شہزاد فراموش بھی این سی اے پہنچ گئے ممتاز حسین نے بتایا کہ وہ جھنگ سے تعلق رکھتے ہیں این سی اے کے طالب علم رہے ہیں، یہاں 1984ء میں فلم کا مضمون نہیں پڑھایا جاتا تھا لہذا وہ امریکی اور برطانوی قونصل خانوں سے انگریزی فلمیں لا کر این سی اے آڈیٹوریم میں دکھایا کرتے تھے وہ بنیادی طور پر ڈیزائنر تھے، متعدد فرموں میں کام کرنے کے بعد کئی عشرے پہلے امریکہ چلے گئے تھے، مصوری بھی کرتے رہے، افسانے بھی لکھتے رہے اور بطور ڈائریکٹر سٹیج ڈرامے بھی کرتے رہے۔ انہوں نے کم سرمائےکے باوجود 9 ٹیلی فلمیں بنائیں قبل ازیں ممتاز حسین جھنگوی نے اوورکوٹ پر بنائی ٹیلی فلم سکرین پر دکھائی۔ اس میں صرف مرکزی خیال غلام عباس کے افسانے سے لیا گیا تھا افسانے میں غلام عباس کا مرکزی کردار لاہور میں مال روڈ پر پھرتا ہے جبکہ ٹیلی فلم میں مرکزی کردار امریکہ کی سڑک پر گھومتا دکھایا گیا۔ ایک طالب علم کے اعتراض پر ممتاز حسین نے اقرار کیا کہ وہ اگر اوورکوٹ پر اردو میں مال روڈ پر ٹیلی فلم بناتے تو اس میں ثقافت افسانے سے مختلف دکھائی نہ دیتی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button