
لاہور کے جم پل سیاستدانوں میں سے نواز شریف سب سے زیادہ اہم ہیں کیونکہ لاہور کے باقی سیاستدان تو وزیر، مشیر، وزیر اعلیٰ اور گورنر وغیرہ رہے لیکن نوازشریف پہلے صوبائی وزیر پھر تین بار وزیر اعلیٰ اور بعدازاں تین مرتبہ وزیراعظم بھی بنے تھے. اب ان کاریکارڈ چھوٹے بھائی شہباز شریف برابر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان کی طرح تین مرتبہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد اب دوسری مرتبہ وزیراعظم بن چکے ہیں تاہم ایک حوالے سے شہباز شریف شاید اپنے بھائی کا ریکارڈ توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے وہ یہ کہ نواز شریف کی شخصیت کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھی جا چکی ہیں جو ان کے قومی لیڈر ہونے کا واضح ثبوت ہے. ان میں سے بیشتر کتابیں نواز شریف کے خلاف ہی لکھی یا لکھوائی گئی ہیں. سینئر صحافی خالد کاشمیری کی کتاب "نواز شریف: لاہور سے لانڈھی جیل تک” کا شمار بھی ایسی ہی کتابوں میں ہوتا ہے. یہ کتاب جنوری 2000ء میں شائع کی گئی تھی۔ اس کتاب میں نواز شریف کے کچھ حق میں اور کچھ خلاف ہی لکھا گیا تھا، اسے پڑھ کر محسوس ہوا کہ شاید کتاب کا ابتدائی حصہ نوازشریف دور میں لکھا گیا اور دیباچے سمیت اگلا حصہ جنرل پرویز مشرف دور میں لکھا گیا۔ ان دنوں نواز شریف اقتدار سے معزول کئے جانے کے بعد کراچی کی لانڈھی جیل میں قید تھے۔

مصنف خالد کاشمیری نے 176 صفحات پر مشتمل اپنی یہ کتاب غالباً خود ہی عکس جہاں پبلی کیشنز گلشن راوی لاہور کے تحت شائع کی تھی جس کا انتساب انہوں نے اپنے صحافی دوست بیدار سرمدی کے نام کیا تھا، حرف آغاز خالد کاشمیری نے خود تحریر کیا جس پر جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کو انہیں کوئی تمغہ یا نقد انعام ضرور دینا چاہیے تھا تفنن برطرف۔ خالد کاشمیری پہلے تو لکھتے ہیں کہ انہوں نے نواز شریف کو ظاہری شکل وصورت سے ہی نہیں بلکہ باطن میں بھی معصوم ، سیدھا سادہ، بھولا بھالا اور صاف گو پایا۔ ان کے الفاظ میں ایک ایسا شخص جو دوستوں سے اپنی کسی کمزوری یا لاعلمی کو نہ چھپاتا ہو، جس چیز کے بارے میں وہ بے خبر ہو وہ صاف لفظوں میں کہہ دینے والا یا اپنی لاعلمی دور کرنے کیلئے دوستوں سے رہنمائی لینے والا تھا، نواز شریف انسان دوست، نرم دل، ہمدرد اور غمگسار طبیعت کے مالک بھی تھے۔ "ہمارے خیال میں بعدازاں غالباً شہباز شریف کے رویے کی وجہ سے خالد کاشمیری بدظن ہو گئے تھے اس حوالے سے ایک جگہ خالد کاشمیری لکھتے ہیں کہ نواز شریف جس قدر سادہ دل، صاف گو اور معصوم تھے ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف بالکل الٹ تھے”۔
بہرحال خالد کاشمیری کو نواز شریف کی حراست کے دوران اپنے سابق دوست کے خلاف کتاب نہیں لکھنی چاہیے تھی بلکہ ہماری طرح جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے دوران مظلوم نواز شریف کے حق میں”نواز شریف: وزارت عظمیٰ سے جلاوطنی تک” جیسی کتاب لکھنی چاہیے تھی جو ہم نے فوجی آمریت کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں لکھی تھی۔ شاید خالد کاشمیری نے سمجھ لیا تھا کہ طیارہ کیس میں قید نواز شریف کو بھی بھٹو کی طرح سزائے موت دے دی جائے گی لیکن قسمت کے دھنی نواز شریف نہ صرف جان بچانے میں کامیاب ہو گئے تھے بلکہ تیسری مرتبہ وزیر اعظم بھی بن گئے تھے۔ انہیں فوجی آمر نے قید رکھنے اور عمر قید کی سزا دلوانے کے بعد جلاوطن بھی کیا لیکن وہ جلاوطنی ختم کرکے جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہی پہلے ستمبر 2007ء میں پاکستان واپس آئے تو فوجی آمر نے ان کا طیارہ اسلام آباد ائرپورٹ سے واپس بھجوا دیا تھا پھر دو ماہ بعد نواز شریف نومبر 2007ء میں طیارے کے ذریعے لاہور ائرپورٹ پر پہنچ گئے تھے۔ وہ اسی ماہ غالباً 27 نومبر کو جیو نیوز کے دفتر جا کر اظہار یکجہتی کرنے کے بعد واپسی پر کچھ دیر کیلئے لاہور پریس کلب میں بھی آئے تھے بلکہ یاد آیا قبل ازیں 2000ء میں بیگم کلثوم نواز بھی میٹ دی پریس کیلئے لاہور پریس کلب آئی تھیں۔ ان دنوں موجودہ صدر ارشد انصاری نائب صدر تھے۔ میاں نوازشریف اور بیگم کلثوم نواز کی سیاسی جانشین صاحبزادی مریم نواز کو بھی وزیراعلیٰ پنجاب بن کر اب لاہور پریس کلب کا جلد دورہ کرنا چاہیے اور صحافی کالونی ایف بلاک اور فیز 2 کے منصوبے جلد مکمل کرنے چاہئیں۔
خالد کاشمیری کتاب کے آغاز میں بتاتے ہیں کہ انہوں نے نواز شریف کو مولانا ظفر علی خان میموریل کمیٹی کا چیئرمین بنادیا تھا اور روزنامہ مشرق لاہور میں 24 فروری 1978ء کو نواز شریف کے نام سے دوکالمی خبر شائع کرد ی تھی جس میں نواز شریف نے گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل غلام جلانی خان کی جانب سے وزیر آباد کے گورنمنٹ کالج کو بابائے صحافت کے نام سے منسوب کرنے کا خیرمقدم کیا تھا، نواز شریف نے اخباری بیان میں اظہارتشکر اور مولانا ظفر علی خان میموریل کمیٹی کی جانب سے وزیرآباد کالج میں تقریب کی صدارت کیلئے دعوت دینے کی خاطر وفدکی صورت میں گورنر پنجاب سے ملاقات کرنے کا اعلان بھی کیا تھا، خالد کاشمیری نے بعد میں یہ نہیں لکھا کہ نواز شریف کی وفد کے ساتھ گورنر پنجاب سے ملاقات ہو سکی تھی یا نہیں اور کیا جنرل غلام جیلانی خان نے وزیر آباد میں کالج تقریب کی صدارت کی تھی؟ تاہم انہوں نے آگے چل کر یہ بتایا کہ گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی خان نے اپنی صوبائی مجلس شوریٰ کے رکن، تحریک پاکستان کے کارکن اور آل انڈیا کشمیری کانفرنس کے رہنما حکیم آفتاب حسن قرشی کے مشورے یا تجویز پر نواز شریف کو صوبائی وزیر خزانہ بنا دیا تھا۔
نواز شریف پنجاب کابینہ میں شامل ہونے سے پہلے آل انڈیا کشمیری کانفرنس کے خزانچی سے سیکرٹری جنرل بن چکے تھے۔ ان کے ساتھ میر علاؤ الدین نئے صدر، خواجہ زبیر احمد اور نواز بٹ نائب صدور، خواجہ بدر الدین بانڈے آرگنائزنگ سیکرٹری، منیر احمد بٹ سیکرٹری مالیات اور خالد کاشمیری رابطہ سیکرٹری منتخب کئے گئے تھے۔ دیگر اہم رہنماؤں میں خواجہ حامد سعید، خواجہ قمرالدین صحاف، ملک بشیر احمد، میراعظم، خواجہ خلیل، خواجہ اسلم، الیاس بٹ اور پرویز بٹ بھی شامل تھے۔ میاں نواز شریف کے دور میں ہی قدیمی تنظیم آل انڈیا کشمیری کانفرنس کا نام تبدیل کر کے آل پاکستان کشمیری کانفرنس رکھ دیا گیا تھا۔ قبل ازیں آزاد کشمیر کے صدر بریگیڈئر ریٹائرڈ محمد حیات لاہور کے دورے پر آئے تو آل انڈیا کشمیری کانفرنس کی طرف سے سیکرٹری مالیات نواز شریف نے ان کے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پر عشائیہ دیا تھا۔ خالد کاشمیری مزید لکھتے ہیں کہ صوبائی وزیر بننے کے بعد سیکرٹری جنرل نواز شریف کی آل پاکستان کشمیری کانفرنس سے دلچسپی کم ہوگئی اور غیر جماعتی عام انتخابات کے بعد جب انہیں وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا گیا تو انہوں نے کشمیری کانفرنس کی جانب سے نواز شریف کو استقبالیہ دینے کی تجویز دی جس پر شہباز شریف نے فوری طور پر ان کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔
بھٹو دور میں 1977ء کے دوران عام انتخابات کروائے گئے تھے تو نواز شریف اس وقت تحریک استقلال میں شامل تھے جس کی جانب سے نواز شریف کو گوالمنڈی کے انتخابی حلقے سے صوبائی اسمبلی کا پارٹی ٹکٹ دیا گیا تھا مگر قومی اسمبلی کے انتخابات میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی کے باعث حزب اختلاف کی جماعتوں نے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ لہذا نواز شریف یہ الیکشن نہیں لڑسکے تھے، ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان نے بعدازاں تحریک استقلال اور پیپلزپارٹی کے مشترکہ امیدوار کے طور پر گوالمنڈی کے انتخابی حلقے سے اپنے سابق پارٹی رہنما اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کے خلاف الیکشن لڑ کر شکست کھائی تھی۔ شاید بینظیر بھٹو نے اصغر خان سے جنرل ضیاء کے مارشل لاء میں اپنے والد ذوالفقار بھٹو کو کوہالہ کے پل پر پھانسی دینے کے مطالبے کا بدلہ لیا تھا۔ خالد کاشمیری نے کارگل کی جنگ اور جنگ بندی کے حوالے سے لکھتے ہوئے بھی فوجی حکومت کا موقف بیان کیا حالانکہ متعدد صحافی جانتے تھے کہ جنگ بندی کروانے کیلئے وزیر اعظم نواز شریف کو جی ایچ کیو میں بریفنگ دے کر آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے خود چکلالہ ایئرپورٹ سے امریکہ بھجوایا تھا کتاب کے آخر میں بیان کی جانے والی آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضے کی کہانی پڑھ کر لگتا ہے کہ یہ داستان خالد کاشمیری کو شاید میجر جنرل راشد قریشی نے لکھ کر دی تھی تفنن برطرف۔ یہ کتاب چھپنے کے ایک عشرے بعد جنرل پرویز مشرف کی اقتدار سے رخصتی کے ساتھ ہی کارگل جنگ اور اقتدار پر شب خون کے حقیقی واقعات میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آگئے تھے۔


