
لاہور کو دریافت ہوئے صدیاں بیت گئیں گم شدہ تو شاید یہ کبھی تاریخ میں بھی نہ ہو ا ہو لیکن اس کے چاہنے والوں نے اسے امر بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لاہور شہر کی بازیافت کے لیے ضروری نہیں کہ اسے تنکا تنکا کریدا جائے۔ تاریخ دانوں نے اس کی پیدائش اور پرورش پر پہلے ہی بہت کچھ لکھ چھوڑا ہے۔ لاہور کی تاریخی حیثیت مسلمہ ہے جسے کوئی بدل نہیں سکتا بس اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ کشید کر کے سامنے لایا جا سکتا ہے۔ اب تک آپ نے لاہور کے سب معروف مقامات کے بارے میں پڑھا اور سنا ہو گا یا شاید کچھ کو دیکھا بھی ہو مگر کچھ مقامات پھر بھی پوشیدہ ہیں جنہیں اب والڈسٹی پراجیکٹ نے اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اندرون لاہور کا نام لو تو اکثریت کے چہرے ایک نام سوچ کر تمتما جاتے ہیں، ڈھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں اور کچھ کے ماتھے پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں۔ یہ نام کسی غیر معروف شے کا نہیں بلکہ شاہی محلے یعنی ہیرامنڈی کا ہے۔ اب یہ محلہ بس ایک ہی تنگ گلی پر محیط ہے کیونکہ اصل چوبارے اور کوٹھے تو وقت کی دھول میں اٹ چکے ہیں۔ ان گم شدہ جگہوں کو سجا سنوار کر وہاں فوڈ سٹریٹ بنا دی گئی ہے جہاں شکم سیری کو آنے والے پرانے لاہور کی قیمتی جگہوں کا دور سے ہی نظارہ کرتے ہیں۔ لاہور کی دیگر معروف جگہوں میں بادشاہی مسجد، شیش محل، راجا رنجیت سنگھ کی سمادھی ، حضوری باغ، دیوار مصور وغیرہ شامل ہیں۔ پرانے لاہور کی جدید طرز پر آرائش و زیبائش کا ذمہ لینے والے والڈ سٹی اتھارٹی کے ممبران نے اسے کافی سجا دیا ہے۔ اب یہاں تانگے نہیں بلکہ رنگیلے رکشے چلتے ہیں جو اپنے مہمانوں کو بادشاہ کے دربار میں پہنچا دیتے ہیں۔ پھر یہاں سے شروع ہوتی ہے رقص و سرود کی محفل اور مجمعے کا ہر فرد تقریباً دو ہزاردے کر اس تماشے سے مستفید ہو سکتا ہے۔ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے ٹورزم ڈیپارمنٹ کے سینئر ٹورزم آفیسر محمد جاوید نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اس مضمون کے لیے بہت سی معلومات فراہم کیں۔ محمد جاوید کو اگر لاہور کی دایہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ کنہیا لال کپور کے بعد اگر کسی اور نے لاہور کی بازیافت کی ہے تو وہ محمد جاوید ہیں جو نہ صرف یہاں کے رہائشی ہیں بلکہ والڈ سٹی کے ملازم ہونے کے باعث لاہور کی گلیوں کے بھیدی بھی ہیں۔
بارہ دروازے اور ایک موری
لاہور باغوں کا شہر ہی نہیں بلکہ بارہ دروازوں اور ایک موری پر مشتمل تھا۔ یہ تاریخی دروازے اکبر بادشاہ نے تعمیر کروائے تھے جو نو میٹر اونچی دیوار پر مشتمل تھے۔ یہ تقریباً ۱۵۵۶ء سے لے کر ۱۵۹۰ء کی باتیں ہیں۔ کچھ دیواریں اور دروازے ٹوٹ گئے جن میں سے چھ کو تعمیر کیا گیا۔ حضوری باغ کی جانب منہ کیے ہوئے روشنائی دروازہ، بھاٹی گیٹ، دہلی گیٹ، شیرانوالہ گیٹ، لوہاری گیٹ اور کشمیری گیٹ انگریز دور میں تعمیر ہوئے تھے۔ بادشاہی مسجد سے باہر نکلتے ہوئے سیڑھیاں اترتے ہوئے سفید رنگ کی عمارت کو حضوری باغ کہا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے عالمگیری گیٹ ہے جس کا عکس پچاس روپے کے نوٹ کے پیچھے بھی موجود تھا۔ بائیں طرف دیکھیں تو گوردوارے کی طرف ایک بڑا سا دروازہ ہے جو ایک بڑی سی آرچ کی شکل میں موجود ہے۔ یہ اکبر کے دور کا روشنائی دروازہ کہلاتا ہے۔ یعنی روشنائی دروازے دو ہیں ایک اکبر کے زمانے میں تعمیر ہونے والا جو، جوں کا توں موجود ہے اور دوسرا انگریز دور کی یاد دلانے والا حالیہ فوڈ سٹریٹ کے سامنے کھلتا ہے۔ بھاٹی گیٹ سے لاہوری گیٹ کی طرف جاتے ہوئے، اردو بازار کے سامنے بائیں طرف ایک بازار جاتا ہے جسے موری گیٹ کہا جاتا ہے۔ یعنی بارہ دروازے اور ایک موری۔ پرانے لاہور کا سارا سیوریج یہیں بہہ کر آتا تھا اس جگہ نالے پر ایک گیٹ لگایا تھا جو اب موجود نہیں ہے۔
گلی سورجن سنگھ
پرانے لاہور کی بازگشت سننی ہو تو گلی سورجن سنگھ چلے آئیں جسے والڈ سٹی لاہور نے اس قدر خوبصورت بنا دیا ہے کہ قدامت کے ساتھ جدت کی آمیزش آنکھوں کو بھلی لگتی ہے۔ دہلی گیٹ سے داخل ہوتے ہی دائیں طرف تقریباً دو سو قدموں کے فاصلے پر ایک تنگ گلی آباد ہے جسے ترک طرز کی سرخ اینٹوں کے فرش اور پرانے جھرکوں پر معلق گلدستوں سے آراستہ کیا گیا ہے۔ اس گلی کی آرائش و زیبائش کا کام سال۲۰۰۷ ء میں شروع ہوا۔ حکومت پنجاب نے آغا خان ٹرسٹ فار کلچر کے تعاون سے ایک شراکتی معاہدے پر دستخط کیے۔ والڈ سٹی لاہور کے ساتھ مل کر شروع کیا گیا یہ منصوبہ محمدی محلے کو مرمت کرنے کے بعد بحال کیا گیا۔ سورجن سنگھ پیشے کے اعتبار سے حکیم تھے اور تقسیم سے قبل یہیں رہائش پذیر تھے۔ ان کے ایک مرلہ مکان میں حافظ ضیاء الدین قریشی رہتے ہیں۔ اب یہاں ہمہ وقت سیاحوں کی آمدو رفت جاری رہتی ہے کیونکہ والڈ سٹی اتھارٹی نے یہاں سیاحوں کے بیٹھنے کا بھی انتظام کر رکھا ہے۔ لوک گائیک غلام سرور گھڑے کی دھن پر سیاحوں کی تفریح طبع کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ اس گلی کی خوبی یہ ہے کہ یہاں بجلی کی تاریں اب زیر زمین ہیں اور سیوریج کا نیا نظام بھی متعارف کروا دیا گیا ہے۔
حویلی الف شاہ
گلی سورجن سنگھ کے اختتام پر عین ٹکر پر واقع حویلی الف شاہ بھی اپنے اندر ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے جہاں سے چہلم کا تابوت نکلتا ہے۔ ان گلیوں میں یہ واحد امام بارگاہ ہے جہاں سے چہلم کا تابوت برآمد ہوکر کربلا گامے شاہ جا کر ختم ہوتا ہے۔ ۱۸۶۴ء میں پہلی بار انگریزوں نے اسے اہل تشیعہ کو مذہبی رسومات کا لائسنس دیا۔ مغلیہ دور کی یہ حویلی اب اپنی اصل حالت میں نہیں ہے اسے مقامی رہائشیوں نے اپنے مطابق بدلا ہے۔ حویلی بزرگ الف شاہ کے نام سے منسوب ہے اور ان کا تابوت بھی یہاں موجود ہے۔ اس حویلی کے صحن میں ایک قدیمی درخت موجود ہے جس پر سیندور کے نشانات ملتے ہیں اس کے بارے روایات مشہور ہیں کہ اس درخت پر سیندور چڑھانے سے شادی میں بندش ختم ہو جاتی ہے۔ قوالی کی محفل سجتی ہے اور خواتین اپنی عرض گزاشتیں پیش کرتی ہیں۔ خواتین کے مطابق اس درخت پر ہندو چڑیل کا سایہ ہے اور نوچندی جمعرات کی شام وہ یہاں اپنے مسائل لے کر آتی ہیں۔ رشتہ ہونے کے صورت میں منت کے طور پر سائلہ سیندور چڑھانے آتی ہے۔ چراغ جلانے اور مٹھائی بانٹنے کی رسم بھی نبھائی جاتی ہے لیکن آج کل یہ روایتی رسم نامعلوم وجوہات کی بنا پر بند کر دی گئی ہے۔
نو گزے کی قبر اور ویران مندر
دو سو سال پہلے کی یہ قبر آج بھی سوالیہ نشان ہے۔ کنہیا لال کی کتاب میں اسے کسی صوفی بزرگ کی قبر سے منسوب کیا گیا ہے اور اس لمبائی اس زمانے میں بھی کافی تھی۔ انگریز دور میں سڑک کو چوڑا کرنے کے لیے ہیرا منڈی چوک سے آگے بائیں طرف اس مزار کو تھوڑا کم کیا گیا تو قبر مبارک تھوڑی چھوٹی ہو گئی۔ اعظم کلاتھ مارکیٹ سے گزرتے ہوئے چونا منڈی کی طرف جاتے ہوئے موتی بازار سے ذرا پہلے بائیں طرف ایک باریک گلی کے سامنے ایک مندر کھڑا ہے۔ جس کا نام ہنو مان کا مندر ہے جہاں اب مقامی لوگوں کا قبضہ ہے۔ اس مندر کا کلس قریب آنے سے زیادہ نظر آتا ہے اب اس کے اندر دکانداروں کے سامان کا انبار لگا ہوا ہے اور یقیناً یہ لوگ اجنبی لوگوں سے محتاط بھی ہیں۔
قدیم کولہو اور گوردوارہ صاحب
اعظم کلاتھ مارکیٹ میں دائیں طرف چونا منڈی چوک سے ذرا پہلے ایک باریک گلی ہے جس میں گھستے ہی’’ رڑا غ محلہف تیلیاں‘‘ کے نام سے منسوب ہے ۔ ایک کولہو موری گیٹ کی طرف بھی موجود ہے یعنی قدیم لاہور کی پہچان میں یہ دو کولہو بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔ مسجد وزیر خان سے تھوڑا آگے کی طرف جائیں تو دائیں اور بائیں دو راستے بانہیں پھیلائے آپ کے منتظر ملتے ہیں ۔ بائیں طرف کو جاتا راستہ کشمیری گیٹ کی طرف آنکھ کھولتا ہے ۔ جہاں اب دورکپڑوں ، جوتوں اور زیورات کی دکانیں آنکھیں چندھیا دیتی ہیں ۔ دائیں طرف کو مڑتی ہوئی گلی مشہور زمانہ اعظم کلاتھ مارکیٹ ہے جو ایک چوک پر جا کر ختم ہوتی ہے ۔ یہاں بھی ہول سیل کاروبار والوں کی دکانیں سجی ہوئی ملتی ہیں ۔ اس گلی کے دائیں طرف ایک بہت پرانا کولہو ہے جو آج بھی موجود ہے جبکہ اس گلی سے تھوڑا آگے چلیں تو بائیں طرف ایک گردوارہ رام داس صاحب آتا ہے ۔
گرو نانک دیو جی ، گرو انگت ، گرو امر داس ، گرو رام داس اور پانچویں گرو ارجن دیو آتے ہیںجنہوں نے آدی گرنتھ صاحب کو مکمل کیا ۔ گرو تن تن سری رام داس جی کا گردوارہ ہے جہاں ان کی پیدائش ہوئی اور انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ وہیں گزارا۔ لفظ ’’تن تن سری ‘‘ سکھ مت میں عزت ماب کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ لاہور میں دو گردوارے موجود ہیں ایک تو یہی ہے جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ تن تن سری گرو ارجن دیو جی پانچویںگرو ہیں جن کا گردوارہ بادشاہی مسجد کے پاس گولڈن رنگ کی عمارت گردوارہ ڈیرہ صاحب کے نام سے موسوم ہے ۔ روایت کے مطابق گرو ارجن دیو جی سن ۱۶۰۶ء میں دریا بردغالوپف ہو گئے تھے ۔ ان کا نام و نشان کسی کو نہیں ملا اسی لیے بادشاہی مسجد کے پاس جو عمارت ہے اسے گردوارہ کہا جاتا ہے یعنی اس وقت دریا کے اس کنارے جہاں گرو جی دریا میں اترے اس جگہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے گردوارہ بنا دیا ۔
شاہی حمام
دلی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی بائیں طرف شاہی حمام آتا ہے جو شاہ جہاں کے دور میں ۱۶۳۴ء میں تعمیر ہوا۔ جس کی تعمیر کا سہرہ اس وقت کے گورنر شیخ علیم الدین انصاری کے سر ہے جنہیں وزیر خان کا لقب بھی دیا گیا۔ یہ حمام عام لوگوں اور مسافروں کے لیے تعمیر کروایا گیا تھا۔ ایک ہزار سے زائد مربع میٹر پر قائم یہ ایک منزلہ عمارت اکیس کمروں اور غسل کے لیے آٹھ گرم اور آٹھ ٹھنڈے تالابوں پر مشتمل ہے۔ اس کی چھتوں اور دیواروں کی چھت پر پھولوں کی شاندار تصویریں نمایاں ہیں ۔ پرتعیش مساج کے لیے خصوصی کمرے بھی موجود تھے جہاں زنانہ غسل کے لیے بھی دن مخصوص تھے۔ حمام کی کھدائی کے بعد یہاں چینی مٹی اور مٹی کے نوادرات، بھٹیوں کے جال، پانی کی پیچیدہ گزر گاہیں، گرمی سے محفوظ کرتی اینٹیں، بھاپ کا نظام اور ٹھنڈے پانی کے فوارے دریافت ہوئے۔ اس کی بحالی کے پہلے مرحلے میں یہ عقدہ کھلا کہ آٹھ فٹ نیچے مغلیہ دور کی سڑک اور حمام کا اصل نظام یہاں موجود تھا۔ پانی کو تین انگیٹھیوں پر گرم کیا جاتا اور گرم پانی کی بھاپ کو ضائع کرنے کے بجائے عمارت کی دوسری جانب چمنی سے گزارا جاتا تھا۔ ٹھنڈا اور گرم پانی ایک ہی ٹینک سے لیا جاتا اور تمام کمروں کا نکاس بھی ایک ہی پائپ کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ شاہی حمام میں پانی کی نکاسی کے لیے بیس فٹ گہرا گڑھا کھودا گیا تو سترہ فٹ گہرائی پر ایک سوراخ سے پورے حمام کو پانی مہیا کیا جاتا تھا۔ پانی کی حرارت کا نظام سکھ عہد میں تباہ ہوا جس کی بحالی میں برطانوی حکمرانوں نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اب یہاں کاریگروں نے لوہے کے پینلز تیار کر کے ان میں شیشہ نصب کیا ہے تاکہ سیاح ان راستوں پر چل کر حمام کا اندرونی منظر بھی دیکھ سکیں۔ اس حمام کی بحالی کے لیے ساڑھے چھ کروڑ کی رقم ناروے کی حکومت نے دی جبکہ اس میں والڈ سٹی اتھارٹی کی معاونت بھی شامل ہے۔ شاہی حمام کے ساتھ اکبری منڈی کی طرف ایک سرائے بھی تعمیر کروائی گئی اور وزیر خان کی مسجد بھی اسی دور کی یادگاریں ہیں۔ اس حمام کو مسجد وزیر خان کے لیے وقف کیا گیا تھا۔ شاہی حمام اندر سے جتنا وسیع و عریض ہے اتنا ہی اس دور کے جدید تقاضوں سے مزین بھی ہے۔
مسجد وزیر خان
مسجد وزیر خان شہر لاہور کی شان ہے جو دلی گیٹ سے داخل ہوکر چوک رنگ محل اور موچی دروازے سے تقریباً ایک فرلانگ کی دوری پر واقع ہے۔ یہ مسجد شاہ جہاں کے گورنر علم الدین انصاری عرف نواب وزیر خان سے منسوب ہے۔ مسجد کی بیرونی جانب ایک وسیع سرائے جسے چوک وزیر خان کہا جاتا ہے۔ چوک کے تین محرابی دروازے ہیں۔ اوّل مشرقی جانب چٹا دروازہ، دوم شمالی طرف راجا دینا ناتھ کی حویلی سے منسلک دروازہ، سوم شمالی زینے کا نزدیکی دروازہ۔ مسجد کے مینار ایک سو سات فٹ اونچے ہیں، یہ مسجد دسمبر ۱۶۴۱ء میں سات سال کی طویل مدت کے بعد پایہ تکمیل کو پہنچی۔ اس مسجد کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں دلکش کانسی کاری اور کاشی کاری کی گئی ہے۔
فقیر خانہ میوزیم
بھاٹی گیٹ سے آگے دو سو قدموں کے فاصلے پر ہمیں علامہ اقبال کے نام سے منسوب ایک تھڑا ملتا ہے۔ جہاں علامہ صاحب ۱۹۰۱ء سے ۱۹۰۵ء تک رہے، اسی جگہ سے انھوں نے اپنی شاعری کا آغاز کیا۔ اسی راستے پر ہمیں پانچ چھ سومیٹر پیدل سفر کے بعد ایک حویلی دکھائی دیتی ہے جو فقیر خانہ میوزیم اور نقش سکول آف آرٹس اور مبارک حویلی ہے۔ اکبر بادشاہ کے دور میں راجہ ٹوڈر مل کی ملکیت تھی یہ فنانس دیکھتا تھا۔ بعد ازاں ۱۷۴۰ء میں کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے ایک خاندان نے یہاں آباد کاری کی۔ میاں عزیز الدین، میاں امام الدین اور میاں فقیر الدین اس حویلی کے مالک ہیں۔ یہ تینوں بھائی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں وزیرداخلہ، وزیر معیشت اور وزیر تجارت بنے۔ یہ حویلی اب پاکستان کا پہلا نجی عجائب گھر ہے جہاں باقاعدہ اجازت نامہ لے کر جانا پڑتا ہے۔ سید سیف الدین یہاں کا انتظام سنبھالتے ہیں انھوں نے اپنے نجی عجائب گھر سے متعدد چیزیں لاہور میوزیم کو بھی دی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس تیس ہزار سے زائد قیمتی چیزیں موجود ہیں جن میں قالین، زیورات، رنجیت سنگھ کی بیوی رانی جنداں کی شال، قرآن پاک کے قدیم نسخوں میں سونے کے پانی سے لکھا ہوا قرآن مجید بھی ہے۔ اس حویلی میں سکھ دور کی قیمتی نوادرات بھی موجود ہیں۔
حویلیاں
اندرون لاہور کو صرف اس کے دروازوں کی وجہ سے ہی پہچان نہیں ملی بلکہ یہاں واقع گیارہ حویلیاں بھی قابل دید ہیں۔ اگرچہ وقت نے ان حویلیوں کو ان کی اصل شان و شوکت سے محروم کر دیا ہے لیکن پھر بھی ان کی حقیقت اور اہمیت میں کوئی کمی پیش نہیں آئی۔ کچھ حویلیاں تاحال قابل دید حالت میں ہیں لیکن کچھ اب اپنا پہلے جیسا مقام و مرتبہ کھو چکی ہیں۔ بہت سی حویلیاں مغل اور سکھ طرز تعمیر کا نمونہ ہیں جن میں سے کچھ کے نام اور تفصیل درج ذیل ہے۔ مبارک حویلی، چونا منڈی حویلی، نونہال سنگھ حویلی، نثار حویلی، حویلی بارودخانہ، سلمان سرہندی کی حویلی، لال حویلی متصل موچی باغ، مغل حویلی رہائش گاہ مہاراجہ رنجیت سنگھ، حویلی سر واجد علی شاہ نزد نثار حویلی، حویلی میاں خان رنگ محل اور حویلی شیر گڑھیاں نزد لال کھُو شامل ہیں۔
مبارک حویلی
موچی دروازے سے داخل ہوتے ہی ایک بہت مشہور چوک نواب صاحب آتا ہے جو نواب علی رضا قزلباش سے منسوب ہے۔ یہاں سے سامنے کی جانب دو راستے مڑتے ہیں۔ ایک اکبری دروازے کی جانب بڑھتا ہے اور بائیں طرف سبز دروازے کی عظیم الشان حویلی نظر آتی ہے اور درحقیقت یہی مبارک حویلی ہے۔ میر برادران نے مغل حکومت کے آخری دور میں اس حویلی کی بنیاد رکھی جن کے نام میر بہادر، میر نادر اور میر بہار علی تھے۔ مغل حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی یہ حویلی بھی رنجیت سنگھ کی تحویل میں آ گئی، اسی حویلی میں مہا راجا نے دنیا کا بیش قیمت ہیرا کوہ نور چھینا۔ بعد ازاں یہ حویلی نواب علی رضا قزلباش کے حصے میں آ گئی۔ جس کے کچھ حصوں میں تبدیلی کر کے ان میں سے باورچی خانے والی جگہ کو الگ کر کے نثار حویلی بنا دیا گیا۔ یہاں یکم تا دس محرم تک غرباو فقرا میں کھانا تقسیم کیا جاتا تھا۔ حویلی کے موجودہ متولی منصور علی قزلباش کا کہنا ہے کہ نواب صاحب نے یہ حویلی ۱۸۶۳ء میں دوبارہ تعمیر کروائی۔ نواب رضا علی خان نے ۱۸۵۰ء میں لاہور میں ذوالجناح کے جلوس کی ابتدا کی جو اب بھی اسی حویلی سے برآمد ہوتا ہے۔
حویلی نونہال سنگھ
رنجیت سنگھ نے اپنے پوتے نونہال سنگھ کے لیے جو حویلی تعمیر کروائی اسے نونہال سنگھ کی حویلی کہا جاتا ہے۔ یہ تقریباً ۱۸۴۰ ء کے لگ بھگ بنائی گئی جو نونہال سنگھ کی ذاتی رہائش گاہ تھی ۔ برطانوی نوآبادیاتی دور کے بعد سے یہ عمارت وکٹوریہ گرلز ہائی سکول کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ یہ حویلی موری دروازہ کے قریب واقع ہے جبکہ بھاٹی دروازہ اور لوہاری دروازہ بھی اس کے قریب ہیں۔ اس حویلی کے بڑے بڑے دالان، شہ نشینیں، تہہ خانے اور بالا خانے بنے ہوئے ہیں۔ کمروں کی چھتوں پر بہت عمدہ شیشے اور پتھروں کا کام بھی ہوا ہے۔ یہ چار منزلہ عمارت ہے جس کی آخری منزل شیش محل کہلاتی ہے جس کی تعمیر کا مقصد شہر کا نظارہ کرنا اور تازہ ہوا سے لطف اندوز ہونا تھا۔
حویلی راجہ دھیان سنگھ
یہ حویلی ٹکسالی دروازے سے اندر داخل ہو کر چوک سے پیر نو گزہ دربار کے قریب سے گزرتے ہوئے آتی ہے جو سید مٹھا ٹیچنگ ہسپتال کے سامنے واقع ہے۔ حویلی خوشحال سنگھ اور تیجا سنگھ، دھیان سنگھ کی حویلی کے قریب ہی ہیں۔ ماضی میں یہ تینوں حویلیاں کافی بڑی تھیں اور شاید آپس میں متصل بھی تھیں۔ حویلی دھیان سنگھ کے رقبے پر اب غالباً تین محلے آباد ہیں جن میں کشمیری محلہ، گجر ویڑہ اور ہندوستانی محلہ شامل ہیں۔ ایک روایت کے مطابق اس حویلی کے جس حصے میں راجا دھیان سنگھ کا دربار تھا اس کے نیچے تہہ خانے میں تھیٹر بھی بنایا گیا تھا اور اس کے اندر ایک سرنگ تھی جو لاہور قلعے تک جاتی تھی جسے بعد ازاں بند کر دیا گیا۔ خوشحال سنگھ اور تیجا سنگھ کی حویلیوں میں اب گورنمنٹ فاطمہ جناح گرلز کالج المعروف چونا منڈی قائم ہے۔ اس حویلی کے ضمن میں اہم بات یہ ہے کہ ۱۸۵۴ء میں یہاں ایک سکول کھولا گیا پھر کچھ عرصے بعد اس حویلی میں گورنمنٹ کالج کا قیام ہوا اور سرگنگا رام اسی حویلی میں زیر تعلیم رہے۔ اورئینٹل کالج کی ابتدا بھی اسی حویلی میں ہوئی۔ یہ بات رسالہ نقوش کے لاہور نمبر میں درج ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کالج کی ابتدا اسی حویلی سے ہوئی اور اخبار بھی پہلے پہل اسی جگہ سے نکلا۔
حویلی بارود خانہ
راجا رنجیت سنگھ کی رہائش گاہ اصل میں حویلی بارود خانہ کہلاتی ہے جہاں بارود رکھا جاتا تھا۔ یہ حویلی پانی والا تالاب اور کوچہ لہنگا منڈی کے درمیان ہے۔ اس تاریخی ورثے کو لوگ میاں صلی کی حویلی کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔ کسی زمانے میں یہ لاہور کا بڑا اسلحہ خانہ تھا, سترھویں صدی کی اس مغلیہ سوغات کو میاں صلاح الدین نے بڑی حد تک سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ آپ علامہ محمد اقبال کے نواسے اور میاں امیر الدین کے پوتے ہیں۔ ۲۳۰ سال پہلے اس حویلی کو سکھ فوج کے کمانڈنگ جنرل کے لیے بنایا گیا تھا۔ شاہی قلعہ سے باہر یہ بارود اور اسلحہ کا ڈپو تھا۔ جب علامہ اقبال کے آباؤ اجداد کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ اور پھر لاہور آئے تو ۱۸۷۰ء میں یہ حویلی ان کی ملکیت بنی۔ اب یہ حویلی فن و ثقافت کا بہترین نمونہ ہے۔
میاں سلطان کی حویلی اور شیش محل
حویلی الف شاہ سے گزر کر چند قدم ہی آگے بائیں طرف کو بڑھیں تو تنگ راستوںمیں جکڑی ایک حویلی آتی ہے جسے میاں سلطان کی حویلی کہتے ہیں۔ یہ اس دور کا ٹھیکیدار تھا جس نے برطانوی دور میں ریلوے سٹیشن اور دلی گیٹ کو تعمیر کروایا تھا۔ یہ ۱۸۶۰ ء سے ۱۸۶۴ء کی بات ہے جب اس نے اپنی حویلی بھی تعمیر کروائی۔ فن پہلوانی میں ماہر اس ٹھیکیدار نے اپنی حویلی کی تیسری منزل کی چھت پر چھوٹے چھوٹے شیشوں کا کام کروایا یہ کمرہ لگ بھگ پندرہ فٹ لمبائی میں ہے لیکن دیکھنے میں یہ فن اور فن کار کی کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک شیش محل آپ کو شاہی قلعے میں ملتا ہے اور دوسرا عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے کیونکہ اب یہاں کے رہائشی اس پر ٹکٹ لگا کر ایک کمرے کو بھی اپنی دسترس سے دور کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔
استاد دامن کی بیٹھک
ٹیکسالی گیٹ سے آگے آئیں تو ایک چوک سے دو سڑکیں دائیں اور بائیں جاتی ہوئی ملتی ہیں۔ ایک شیخوپورہ بازار ہے اور دوسری سڑک پر اونچا چیت رام روڈ اور نیچا چیت رام روڈ کی تختیاں آویزاں ہیں۔ یہاں گھوڑیوں اور بگھیوں والے اپنا ڈیرہ جمائے ہوئے ہیں اور اسی جگہ کو استاد دامن کی بیٹھک کہا جاتا ہے۔ استاد دامن پیشے کے اعتبار سے درزی تھے لیکن اس جگہ ان کا بسیرا ادب کا گہوارہ رہا۔ یہاں فیض احمد فیض جیسے بڑے بڑے شاعر آتے تھے۔ ایک مرتبہ کسی جج نے انھیں عدالت طلب کر کے سرزنش کرنا چاہی۔ جج صاحب نے استاد دامن سے فی البدیع شعر سنانے کو کہا۔ استاد صاحب بے ساختہ بولے و مجاں گاواں دے کھمب نکلے۔ جج صاحب نے حیرت سے پوچھا ’’اوہ کیویں؟ ‘‘ جواب ملا جیویں استاد دامن دے گھروں بمب نکلے۔
سیٹھوں والا محلہ
پانی والا تالاب اور ہیرا منڈی سے آگے جاتے ہوئے میاں یوسف صلی کی حویلی کی پشت پر تقریباً پندرہ سو سے دو ہزار نفوس پر مشتمل موسیقاروں کا محلہ ہے جسے سیٹھوں والی گلی بھی کہا جاتا ہے۔ دیکھنے میں یہ گلی انگریزی میں ٹی شکل سے مشابہہ ہے۔ طبلہ، سارنگی، باجا اور ستار جیسے مزید آلاتِ موسیقی بجانے والے فنکار اس محلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ زمانے کے معیار اور پسند و نا پسند نے ان لوگوں کی شناخت کو بھی متاثر کیا ہے۔ موسیقی سے لطف اٹھانے والے اس طبقے کو عزت و تقریم دینے پر راضی نہیں ہوتے جس کا اثر یہاں رہنے والوں پر بھی ہوا ہے۔ ایک رہائشی موسیقار نے زمانے کی تلخی کو کچھ یوں بیان کیا کہ اگر کوئی ہم سے پوچھے آپ کون ہیں تو ہم اپنے تعارف میں کہتے ہیں ہم بھی قومی ترانہ پڑھنے والوں میں سے ہیں ۔ سامنے والا جانچ لیتا ہے کہ مخاطب خاں صاحب ہے۔
مریم زمانی مسجد
یہ مسجد سن ۱۶۱۴ء میں بادشاہ جہانگیر نے اپنی ماں اور المعروف جودھا بائی کی یاد میں تعمیر کروائی۔ یہ مسجدمستی گیٹ عبور کرتے ہی تقریباً دو سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ بہت بلند و بالا میناروں والی مسجد نہیں ہے، اس سے آگے موتی بازار آ جاتا ہے۔ اس کے دو راستے ہیں: ایک شمال کی طرف اور دوسرا مشرق کی جانب، اگر اس مسجد کے مغرب میں دیکھیں تو اکبری گیٹ نظر آنے لگتا ہے۔ یہ لاہور کی پہلی قدیم مسجد ہے جس میں تزئین و آرائش کا کام بھی کافی دیدہ زیب ہے۔
لاہور کی سیر کرنے نکلیں تو شاید ہر گلی ایک نئی کہانی لے کر نیا موڑ اختیار کر لے گی۔ لاہور شاید ایک نشہ ہے جو حرام نہیں اسی لیے اس کے قد و کاٹھ کو ناپنے اور جانچنے والے دور دور سے آتے ہیں۔ خوش آئند بات تو یہ ہے کہ لاہور ٹوریزم ڈیپارٹمنٹ اور والڈ سٹی اتھارٹی نے جتنا اندرون لاہور کی رونقیں آباد کر کے اسے عام عوام کے لیے کھولا ہے اس سے ان کے زیر مبادلہ میںبھی فرق پڑا ہے۔ آپ جب کبھی پرانے لاہور آئیں تو ضرور دیکھیں گے کہ آپ کے دائیں یا بائیں ہاتھوں میں کیمرے پکڑے اور کھلے منہ لیے گورے کس حسرت اور حیرانگی سے یہاں کے چپے چپے کو کھنگالتے ہیں۔ درویشوں کے دل سے صدا نکلتی ہے کہ اے میرے لاہور تیری رونقیں آبا درہیں۔ آمین۔


