
لاہور میں مقیم چند معروف ادیب، شاعر، مصور اور صحافی دانشور سیالکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں، بی بی سی والے شاہد ملک بھی علامہ اقبال اور ہماری طرح سیالکوٹی کشمیری ہیں. یہ سیالکوٹ، واہ کینٹ، راولپنڈی اور لاہور میں زیر تعلیم رہے، کیڈٹ کالج حسن ابدال سے بھاگ نہ آتے تو شاید اس وقت ریٹائرڈ فوجی افسر ہوتے، یہ پہلے استاد رہے پھر سسر اور برادر نسبتی کی طرح صحافی بن گئے تھے جبکہ ان کی اہلیہ لیڈی ڈاکٹر رہی ہیں، شاہد ملک ڈیلی بزنس ریکارڈر کے چیف رپورٹر، سماء ٹی وی کے بیورو چیف اور وقت نیوز کے ڈائریکٹر نیوز کے علاوہ لندن میں بی بی سی کے پروڈیوسر/ براڈ کاسٹر، پی ٹی وی کے نمائندے ، اور پنجاب میں بی بی سی کے بیوروچیف بھی رہ چکے ہیں. اب لاہور کی مختلف یونیورسٹیوں میں انگریزی ادب اور صحافت کے مضامین پڑھاتے ہیں اور روزنامہ پاکستان میں کالم "خوش کلامی” لکھتے ہیں. ان کے مطبوعہ کالموں کا پہلا مجموعہ 2019 ء میں شائع ہو چکا ہے، شاہد ملک انگریزی زبان و ادب میں ایم اے کر کے سب سے پہلے برطانوی ہائی کمیشن میں ملازم ہوئے تھے تاہم جلد ہی انہوں نے فیڈرل گورنمنٹ سر سید کالج راولپنڈی میں تدریس شروع کر دی تھی جہاں زیادہ تر فوجی گھرانوں کے مستقبل میں فوجی افسر بننے والے بچے پڑھتے تھے مگر تین ماہ بعد جب پتہ چلا کہ وزارت تعلیم نے ان کے تقرر کی تو فائل ہی گم کر دی ہے تو انہوں نے استعفی دے دیا تھا. وزارت تعلیم کے افسروں کو شاید کسی نے بتا دیا تھا کہ یہ کیڈٹ کالج کے بھگوڑے طالب علم تھے, تفنن برطرف! شاہد ملک نے بعدازاں لاہور آ کر لاء کالج میں داخلہ لے لیا تھا۔
لاہور شاہد ملک کا ننھیالی شہر ہونے کے باوجود یہ لاہور کو بار بار چھوڑ کر بھاگ جاتے رہے. انہوں نے واہ کینٹ سکول سے میٹرک اور واہ کینٹ کالج سے انٹرمیڈیٹ جبکہ سیالکوٹ کے جناح اسلامیہ کالج سے بی اے کا امتحان پاس کر کے ایم اے انگریزی کیلئے لاہور آ کر گورنمنٹ کالج میں داخلہ لے لیا تھا۔ یہ کالج کے مجلہ راوی میں لکھتے رہے تھے اور مجلہ پطرس میں شعبہ انگریزی کے مدیر بھی رہے تھے۔ تاہم پارٹ ون کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور چھوڑ کر راولپنڈی کے گورڈن کالج چلے گئے تھے، شاہد ملک جب ایک بار پھر لاہور آ کر لا ء کالج میں پڑھ رہے تھے تو ان کا گورنمنٹ کالج شعبہ انگریزی میں بطور لیکچرار تقرر ہو گیا تھا۔ انہوں نے 2 سال پہلے پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان دے رکھا تھا جس کا انتہائی تاخیر سے نتیجہ نکلا تھا تاہم گورنمنٹ کالج لاہور کے سربراہ شعبہ انگریزی پروفیسر رفیق محمود سمجھے کہ انہیں سفارش پر تعینات کیا گیا ہے کیونکہ اس دور کے صوبائی وزیر تعلیم ملک غلام نبی بھی شاہد ملک کی طرح غالباً کشمیری تھے۔ پروفیسر رفیق محمود نے شاہد ملک کی گورنمنٹ کالج لاہور میں بطور لیکچرار تعیناتی میں رکاوٹ ڈالنے کی بھی کوشش کی تھی جسے پرنسپل فضا الرحمٰن نے ناکام بنا دیا تھا۔
ڈاکٹر خواجہ زکریا کی طرح شاہد ملک بھی جب لیکچرار بنے تھے تو کم عمری کے باعث اور شکل و صورت سے بھی طالب علم ہی لگتے تھے بلکہ گورنمنٹ کالج کے ایک طالب علم نے تو شاہد ملک کو اپنے جیسا طالب علم ہی سمجھ لیا تھا جس پر شاہد ملک نے سیاہ گاؤن پہن کر کلاس پڑھانا شروع کر دی تھی۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ انگریزی میں تدریس کے وقت پروفیسر مشکور حسین یاد، پروفیسر غلام الثقلین نقوی اور پروفیسر صابر لودھی جیسی ادبی شخصیات بھی شعبہ اردو سے وابستہ تھیں جن کے ساتھ شاہد ملک کالج کے اقبال ہاسٹل میس میں اکٹھے کھانا کھایا کرتے تھے۔ گورنمنٹ کالج اور لاہور شہر سے شاہد ملک نے ایک مرتبہ پھر راہ فرار اختیار کر لی تھی اور بطور لیکچرار راولپنڈی کے گورڈن کالج میں تبادلہ کروا لیا تھا۔ ان کے والدین غالباً واہ کینٹ چھوڑنے کے بعد راولپنڈی میں مقیم تھے۔ بعدازاں جب ان کی والدہ کا میکے لاہور سے دور راولپنڈی میں انتقال ہو گیا تو ان کے والد کچھ عرصہ بعد بڑے بیٹے شاہد ملک کے پاس لاہور منتقل ہو گئے تھے۔ اس زمانے میں شاہد ملک برطانیہ گھوم پھر کر ایک بار پھر لاہور آ چکے تھے۔ اب تو یہ لاہور کے ہی ہو کر رہ گئے ہیں اور غالباً زندگی کا باقی حصہ لاہور میں ہی بسر کریں گے اور ماضی کے برعکس اب لاہور کو چھوڑ کر بھاگ نہیں سکیں گے۔

شاہد ملک کی تحریر کردہ 14 شخصیات کے خاکوں پر مشتمل کتاب "یار سرائے” گزشتہ دنوں ہمارے زیر مطالعہ رہی۔ ان 14 شخصیات کی نصف تعداد کا تعلق کشمیری گھرانوں سے تھا۔ کتاب "یار سرائے کو ناشر صفدر حسین نے الحمد پبلی کیشنز چوک پرانی انارکلی لیک روڈ لاہور کے تحت 2020 ء میں شائع کیا تھا جس کا انتساب شاہد ملک نے بیلہ جی کے نام کیا، کتاب کا دیباچہ "در حدیث دیگراں” کے عنوان سے عارف وقار نے تحریر کیا جبکہ فلیپ محمد سلیم الرحمٰن، خواجہ محمد زکریا اور وجاہت مسعود نے تحریر کئے، عارف وقار درست نشاندہی کرتے ہیں کہ ان خاکوں میں مصنف کی اپنی زندگی کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں جنہیں اگر سلیقے سے جمع کیا جائے تو خود شاہد ملک کی شخصیت کا خاکہ سامنے آجائے گا بالخصوص ان کے والد کا خاکہ خود شاہد ملک کی اپنی داستان بھی ہے، محمد سلیم الرحمٰن اعتراف کرتے ہیں کہ شاہد ملک اپنا مافی الضمیر صفائی سے ادا کرنے پر قادر ہیں، خواجہ محمد زکریا کے مطابق شاہد ملک بہت اچھی نثر لکھتے ہیں جس میں وسعت مطالعہ اور کثرت مشاہدہ دونوں شامل ہیں جبکہ وجاہت مسعود لکھتے ہیں کہ شاہد ملک کی طبیعت نے بیک وقت کشمیر کی تہذیب اور پوٹھوہار کی لٹک سے فائدہ اٹھایا اور پھر اس آمیزے میں مغرب کی کم آمیز معروضیت کا ہلکا دھانی رنگ ایزاد کر دیا!”
کتاب میں جن شخصیات کے خاکے شامل ہیں ان میں فیض احمد فیض، مجید نظامی، خالد حسن، مسعود حسن، ضیا ڈار، خواجہ شاہد نصیر، نصر اللہ ملک، زمرد ملک، رفیق محمود، خرم قادر، آفتاب اقبال شمیم، علی احمد خاں اور شاہد ملک کے والد نذیر احمد ملک کے نام شامل ہیں جبکہ کتاب کا آخری مضمون شاہد ملک نے بی بی سی اردو کے بارے میں تحریر کیا جس کے ساتھ وہ لندن اور لاہور میں وابستہ رہے تھے، فیض احمد فیض کو شاہد ملک ادبی پیر قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان کے دنیا سے پردہ کرتے ہی ڈھیری پر ماڈرن مجاوروں نے قبضہ کر لیا، فیض کو شاہد ملک نے سب سے پہلے راولپنڈی کے ایم سی ہائی سکول کے مشاعرے میں دیکھا تھا پھر گورڈن کالج کے استاد پروفیسر مسعود خواجہ نے انہیں فیض احمد فیض سے ملوایا تھا اور فیض نے طلبہ شاہدملک، زمان ملک اور امانت ندیم کے مشترکہ شعری مجموعے”لوحِ سفال” کا فلیپ بھی لکھا تھا، ان دنوں فیض احمد فیض اسلام آباد میں نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے سربراہ تھے۔
خالد حسن کو شاہد ملک وکھری ٹائپ کا آدمی قرار دیتے ہیں جن کی والدہ شاہد ملک کے والد کی پھوپھی زاد بہن تھیں اور خالد حسن بھی شاہد ملک کی طرح پہلے ایم اے انگریزی کرکے لیکچرار بنے تھے، شاہد ملک سرسید کالج اسلام آباد ، گورنمنٹ کالج لاہور، گورڈن کالج راولپنڈی اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں پڑھاتے رہے جبکہ خالد حسن مرے کالج سیالکوٹ، اسلامیہ کالج لاہور، لارنس کالج گھوڑا گلی اور کیڈٹ کالج حسن ابدال میں استاد رہے تھے۔ خالد حسن بعدازاں مقابلے کا امتحان پاس کرکے محکمہ انکم ٹیکس میں افسر ہو گئے تھے اور پھر مزید دو تین سرکاری محکموں سے منسلک رہ کر پاکستان ٹائمز لاہور میں سینئر رپورٹر بن گئے تھے۔ قبل ازیں انہوں نے امریکہ جا کر صحافتی کورس کیا تھا بھٹو دور میں صدر مملکت کے پریس سیکرٹری، پیرس، اٹاوا اور لندن میں سفارت کار بھی تعینات رہے تھے اور جنرل ضیا کے مارشل لاء پر مستعفی ہو گئے تھے ، آزاد کشمیر کے سابق صدر کے ایچ خورشید ان کے تایازاد اور بہنوئی تھے، مجید نظامی کے خاکے میں شاہد ملک نے ان کی بیشتر خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کر دی بالخصوص روپے پیسے کے معاملے میں مجید نظامی کی کفایت شعاری پالیسی پر خوب روشنی ڈالی، شاہد ملک کے بی اے میں کالج استاد پروفیسر زمرد ملک اور واہ کینٹ کے ہمسائے خواجہ شاہد نصیر دونوں شاعر تھے اور غالباًدونوں ہی 50 سال سے کم عمر میں انتقال کر گئے تھے، گورنمنٹ کالج لاہور شعبہ انگریزی میں شاہد ملک کے ساتھ استاد رہنے والے ان کے دوست ضیاء ڈار بھی جلد دنیا سے رخصت ہو گئے تھے جن کے خاکوں میں ان کی یادیں تازہ کی گئی ہیں۔
پروفیسر رفیق محمود گورنمنٹ کالج میں ان کے استاد ہی نہیں بعدازاں کولیگ بھی رہے تھے، مسعود حسن شاہد ملک کے قریبی عزیز اور خالد حسن کے چھوٹے بھائی تھے. خالد حسن کی وفات کے بعد شاہد ملک اور مسعود حسن مشترکہ طور پر ان کے مسودے ایڈٹ کر کے کتاب تیار کر رہے تھے مگر مسعود حسن کے بھی انتقال کر جانے سے کتاب مکمل نہ ہو سکی تھی، پروفیسر آفتاب اقبال شمیم گورڈن کالج میں شاہد ملک کے کولیگ اور اس سے پہلے واہ کینٹ میں ہمسائے رہے تھے، صحافی علی احمد خاں بی بی سی میں شاہد ملک کے سینئر رہے تھے جبکہ ان کے دوست خرم قادر مدیر مخزن سر شیخ عبدالقادر کے پوتے تھے. سر عبدالقادر کو شاہد ملک نے صرف لاہور ہائیکورٹ کا جج لکھا ہے وہ بعدازاں بہاولپور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے تھے، شاہد ملک نے اپنے والد نذیر احمد ملک کے خاکے میں ساتھ ہی اپنے بچپن، جوانی اور ادھیڑ عمری کی کہانی بھی بیان کر دی ہے جو سیالکوٹ شہر سے شروع ہوتی ہے اور واہ کینٹ، راولپنڈی کے بعد لاہور پہنچ کر مکمل ہو جاتی ہے، شاہد ملک نے کتاب کے آخری مضمون میں بی بی سی اردو کے نامہ نگاروں کے مراسلوں اور تجزیوں پر مبنی پروگرام سیریبن کے خاتمے پر لکھا ہے جس میں شاہد ملک نے وضاحت کی ہے کہ ریڈیو پروگرام سیربین بند ہونے کے باوجود بی بی سی اردو کا ایف ایم پر اردو نیوز بلیٹن، ٹی وی پر حالات حاضرہ کا پروگرام اور آن لائن خبریں جاری رہیں گی!”


