
اے حمیدکی عمر کا بیشتر حصہ امرتسر کے بعد لاہور میں بسر ہوا تھا ان دونوں شہروں کے ادب و ثقافت پر انہوں نے بہت زیادہ لکھا ہے، لاہور پر لکھی جانے والی ان کی کتابو ں میں ”دیکھو شہر لاہور“ بھی شامل ہے جسے القریش پبلی کیشنز نے 2008 ء میں شائع کیا تھا اس میں شامل تمام تحریریں پہلے وہ اپنے اخبار کے سنڈے میگزین میں شائع کرتے رہے تھے جن کا بعد ازاں کتابی صورت میں انتخاب چھاپا گیا تھا اور 32 ابواب پر مشتمل اس کتاب کاانتساب اے حمید نے اپنے بھانجے ندیم خواجہ کے نام کیا تھا جبکہ اس کا فلیپ حمید اختر نے تحریر کیا تھا جس میں وہ لکھتے ہیں ”اے حمید کا قاری عمر اور تجربے کے ایک خاص مقام پر اس سے ملاقات کرتا ہے اور پھر آگے نکل جاتا ہے، اس کے بعد پڑھنے والوں کی ایک اور نسل آ کر اے حمید کے فن کی مداح اور اسیر ہو جاتی ہے، احمد ندیم قاسمی کے بقول اے حمید اپنے خوبصورت رومانی طرز تحریر کیلئے معروف ہے ہی لیکن شخصیت نگاری میں بھی اس نے اپنے فن کے معیار کو قائم رکھا ہے اس کے علاوہ اس نے قدیم لاہور شہر کی ثقافت اور تہذیبی روایات پر جو مضامین لکھے ہیں اور ا ن میں ماضی کے لاہور کے جو مناظر پیش کئے ہیں وہ لاہور کی ثقافتی تاریخ کا بیش قیمت سرمایہ ہیں!“
”دیکھو شہر لاہور“ بنیادی طور پر اے حمید کی اپنے مرحوم اور زندہ ادبی دوستوں کے ساتھ لاہور کے ہوٹلوں، دفتروں اور باغوں میں گزارے ہوئے دنوں کی حسین یادیں ہیں، پہلے باب میں وہ پرانے انگریزی اور اردو اخبارات کے دفاتر کا ذکر کرتے ہیں اور وہاں کام کرنے والے ادیب صحافیوں کا احوال بیان کرتے ہیں وہ سول اینڈ ملٹر ی گزٹ، ڈیلی ٹربیون، روزنامہ امروز اورروزنامہ آفاق کا بھی تفصیلی ذکر کرتے ہیں یہ چاروں اخبارات اب بند ہو چکے ہیں، اے حمید بتاتے ہیں کہ سول اینڈ ملٹری گزٹ کا دفتر مال روڈ پر ریگل اور چیئرنگ کراس چوک کے درمیان پینوراما سینٹر کے قریب ہوتا تھاجبکہ روزنامہ امروز کادفتر پہلے ایبٹ روڈ پر نشاط سینما کے پہلو میں ہوتا تھا بعدازاں اس چھتے ہوئے احاطہ سے میو ہسپتال کے سامنے رتن چند سٹریٹ کی بھارت بلڈنگ میں منتقل کر دیا گیاتھا جہاں آزادی سے پہلے ٹربیون کا دفتر ہوا کرتا تھا جبکہ روزنامہ آفاق کا دفتر تقسیم ہند کے بعد مال روڈ پر دیال سنگھ مینشن کے قریب ہوتا تھا اور55۔1954ء کے دوران انتظار حسین، ناصر کاظمی، علی سفیان آفاقی وغیرہ کے ساتھ خود اے حمید بھی اس اخبار میں کام کرتے رہے تھے ان کے شفٹ انچارج قیوم قریشی ہوا کرتے تھے جنہیں وہ خبروں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرنے کے حوالے سے اپنا پہلا استاد قرار دیتے تھے، آزادی کے بعد بھی نیوز ایجنسیاں اخبارات کو صرف انگریزی میں خبریں بھجواتی رہی تھیں اب تو اے پی پی، این این آئی، آئی این پی، اے این این حتی کہ بی بی سی نے بھی اخبارات کیلئے اردو نیوز سروس شروع کر دی ہوئی ہے لیکن کتاب میں اے حمید روزنامہ امروز کے زمانے میں گاندھی سٹریٹ گوالمنڈی کے رہائشی حسرت نامی نوجوان کا ذکر کرتے ہیں جس نے لاہور میں سب سے پہلے اردو سروس شروع کی تھی اور اس کا دفتر اپنے گھر کی بیٹھک میں بنا رکھا تھا وہ نوجوان پہلے شہر میں گھوم پھر کر خبریں اکٹھی کرتا تھا پھر انہیں کاربن پیپرز لگا کر اپنے ہاتھ سے اردو میں لکھتا تھا اور بعد ازاں کاربن کاپیاں مختلف اخبارات کے دفاتر میں دے آتا تھا۔
دوسرے باب میں آزادی کے بعد لاہورمیں ہونے والی تعمیر نو کو موضوع بنایا گیا ہے اس حوالے سے اے حمید لکھتے ہیں ”لاہور قیام پاکستان کے بعد شہر کی چار دیواری کے باہر بہت بدل گیا ہے اور بہت تیزی سے بدل رہا ہے جن لوگوں نے قیام پاکستان سے پہلے کے بیرون بھاٹی، شاہ عالمی، ٹکسالی گیٹ، بادامی باغ، مسلم ٹاؤن اور ماڈل ٹاؤن کو دیکھ رکھا ہے وہ آج ان علاقوں کو دن کے وقت بھی پہچان نہیں سکیں گے رات کے وقت تو گلبرگ، شادمان، فیصل ٹاؤن، علامہ اقبال ٹاؤن، جوہر ٹاؤن، ڈیفنس، جیل روڈ، فیروز پور روڈ کلمہ چوک میں اس قدر روشنیاں ہوتی ہیں کہ تنویر نقوی کے بقول یوں لگتا ہے کہ جیسے چاندنی کی بارات زمین پر اتر آئی ہے، تعمیر نو کے اس عمل سے لاہور کہیں تو پہلے سے زیادہ دلفریب، دلکش اور کشادہ ہو گیا ہے لیکن کہیں کہیں کچھ ایسے تاریخی اور ثقافتی و ادبی منظر بھی غائب ہو گئے ہیں جو لاہور کی صدیوں پرانی تاریخ کا نشان تھے اور جن کا باقی رہنا ضروری تھا!“
اس کے بعد اے حمید چوک انارکلی سے پاک ٹی ہاؤس کی طرف آتے ہیں اور مال روڈ کی ذیلی سڑک پر سیٹلائٹ بلڈنگ میں واقع کافی ہاؤس اور چائنیز لنچ ہوم کا نوحہ لکھتے ہوئے بتاتے ہیں ”کافی ہاؤس میں پروفیسر، مصور، وکیل اور صحافی دانشور جبکہ چینی لنچ ہوم میں ادیب،شاعر، فنکار بیٹھتے تھے اور تندوری روٹی کے ساتھ سری پائے کھاتے تھے پھر چائنیز لنچ ہوم بند ہو گیا، کافی ہاؤس کی جگہ بھی بعدازاں مہران بنک کھل گیا، نیلا گنبد میں ٹائروں کے کاروبار کی یلغار ٹی ہاؤس تک پہنچ چکی ہے لگتا ہے کہ جلد وہ وقت آنے والا ہے جب پاک ٹی ہاؤس کی جگہ اس کی پیشانی پر پاک ٹائر ہاؤس لکھا ہو گا!“یہ تحریر لکھنے کے چند برسوں بعد اے حمید کی زندگی کے آخری دنوں میں پاک ٹی ہاؤس کو پاک کلاتھ ہاؤس میں تبدیل کر دیا گیا تھا، زاہد سراج تو پاک ٹی ہاؤس بند کرنے کے بعد وہاں ٹائروں کی دکان ہی کھولنا چاہتے تھے لیکن ادیبوں، شاعروں کی مزاحمت پر وہ پاک ٹی ہاؤس ہمسایہ دکاندار بشیر سنزکو فروخت کر کے خود بیرون ملک چلے گئے تھے بشیر سنز والوں نے پاک ٹی ہاؤس کو کپڑے کا گودام بنا لیا تھا، تاہم عطاء الحق قاسمی کی کوششوں سے معزول وزیراعظم میاں نواز شریف کے حکم پر وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کی پنجاب حکومت نے بشیر سنز سے پاک ٹی ہاؤس کا قبضہ واپس لے کر اس کی تعمیرو مرمت اور تزئین و آرائش کرانے کے بعد کے بعد اسے دوبارہ ادیبوں، شاعروں، دانشوروں کیلئے کھول دیا تھا اور اس کا افتتاح میاں نواز شریف نے کیا تھا جو ابھی تیسری مرتبہ وزیر اعظم نہیں بنے تھے۔
تیسرے باب میں اے حمید لاہور ہوٹل کا ذکر کرتے ہیں جہاں وہ فلیمنگ روڈپر رہائش کے زمانے میں اکثر شام کو اپنی بیگم ریحانہ قمرالدین کے ساتھ فیملی کیبن میں بیٹھ کر چائے پیا کرتے تھے اس حوالے سے وہ لکھتے ہیں ”لاہور ہوٹل کی دم کی ہوئی چائے بڑی خوشبودار اور رومانٹک ہوتی تھی فل سیٹ بارہ آنے میں ملتا تھا ایک آنے کی بڑی لذیذ اور خالص پیسٹری ہوتی تھی اور ایک آنے ہی کی پیٹیز ملتی تھی بیرے کو چونی ٹپ ملتی تھی تو وہ بڑا خوش ہوتا تھا!“ اس زمانے میں لاہور ہوٹل کے قرب و جوار میں بہت سے اخبارات و رسائل کے دفاتر پائے جاتے تھے جن میں روزنامہ زمیندار، روزنامہ مشرق، ہفتہ وار چٹان، ہفتہ وار سکرین لائٹ اور ماہنامہ جاوید وغیرہ شامل تھے، اے حمید اپنے دوست نصیر انور کے ساتھ ماہنامہ جاوید کے عملہ ادارت میں شامل ہوتے تھے یہ ادبی جریدہ بعدازاں منٹو کا ایک متنازعہ افسانہ چھاپنے پر حکومت کے مقدمہ کرنے کی وجہ سے بند ہو گیا تھا، روزنامہ زمیندار کا وہ آخری دور تھا اس زمانے میں فکاہیہ کالم نگار حاجی لق لق کے علاوہ اے حمید کے دوست ظہور الحسن ڈار اور منیر نیازی بھی روزنامہ زمیندار میں کام کرتے تھے،کچھ عرصہ بعد لاہور کے علمی، ادبی و ثقافتی ورثے کا امین یہ قدیمی اخبار بند ہو گیا تھا اور پولیس لائن کی گراؤنڈ سے متصل روزنامہ زمیندار کی عمارت میں ہوٹل کھل گیا تھا اب ہفت روزہ چٹان اورسکرین لائٹ بھی روزنامہ زمیندارکی طرح منظر سے غائب ہو چکے ہیں۔
کتاب کے چوتھے باب میں پہلے ریگل اور جی پی او کے درمیان پائی جانے والی مال روڈ کی چند پرانی عمارتوں کا ذکر کیا گیا ہے، اے حمید آغاز میں ای پلومر کیمسٹ شاپ، مجید المکی اور حمید المکی کے پرنٹنگ پریس آفس، فوٹو گرافر زیدی کے سٹوڈیو اور گنگا رام مینشن میں سٹار نیوز ایجنسی کے علاوہ دیال سنگھ مینشن میں ہفتہ وار نظام اخبار کے دفتر کا ذکر کرتے ہیں، ہفتہ وار نظام تقسیم ہند سے قبل بمبئی میں بھنڈی بازار سے شائع ہوتا تھا اور اس میں ترقی پسند ادیبوں، شاعروں کی تخلیقات کے علاوہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے ادبی اجلاسوں کی کارروائی بھی شائع ہوتی تھی جسے حمید اختر لکھا کرتے تھے، آزادی کے بعد نظام اخبار جب مالکان نے لاہور سے جاری کیا تو ترقی پسندوں کے بجائے انتظار حسین اور پھر اے حمید کواس کا ایڈیٹر بنایا گیا تھا غالباَ مالکان ترقی پسندی سے تائب ہو گئے تھے بعدازاں انجمن ترقی پسند مصنفین کے مقابلے میں آزاد خیال مصنفین کے نام سے نئی ادبی تنظیم بھی ہفتہ وار نظام کے دفتر میں ہی قائم کی گئی تھی جس کے کرتا دھرتا نظام اخبار کے مالک قدوس صہبائی تھے غالباَ عبدالمتین عارف بھی ترقی پسندی سے جان چھڑانے کے بعد آزاد خیال اور پھر اسلام پسند ہو گئے تھے اور باریش ہو کر نعتیں بھی لکھنے لگے تھے، اے حمید چونکہ بنیادی طور پر رومانی افسانہ نگار تھے اس لئے ترقی پسندوں نے انہیں رجعت پسند قرار دے رکھا تھا جبکہ رجعت پسند انہیں ترقی پسند سمجھتے تھے کیونکہ ان کی ادب برائے ادب کے قائل ادیبوں، دانشوروں کے علاوہ ادب برائے سیاست کا نظریہ رکھنے والے اشتراکی دانشوروں سے بھی دوستی تھی۔
پانچویں باب میں لاہور کے چند پرانے ہوٹلوں عرب ہوٹل، میٹرو، لارڈز اور کیفے ڈی اورئنٹ کو یاد کیا گیا ہے عرب ہوٹل ریلوے روڈ پر اسلامیہ کالج کے صدر دروازے کے سامنے ہوتا تھا جس کے بارے میں اے حمید لکھتے ہیں ”یہ آج کے زمانے کی طرح کوئی روائتی ریسٹورنٹ نما ہوٹل نہیں تھا بلکہ یہ ایک لمبی سی دکان تھی جس کے اندر ایک جانب لکڑی کی پرانے ٹائپ کی چار پانچ کرسیاں بچھی ہوتی تھیں جن کے درمیان ایک بڑی میز ہوتی تھی جبکہ سامنے والی دیوار کے ساتھ بھی دو تین کرسیاں آمنے سامنے پڑی ہوتی تھیں اور ان کے درمیان بھی میز لگی ہوتی تھی، دکان کے پیچھے ایک تنور تھا جہاں تازہ اور گرم گرم بڑے نان لگتے تھے دوسری جانب چھوٹا سا کچن تھا جہاں سالن پکتا تھا گرمیوں کے موسم میں دکان کے اندر بڑی گرمی ہوتی تھی اور تنور کا دھواں بھی بھرا رہتا تھا! تقسیم ہند بلکہ دوسری جنگ عظیم سے بھی پہلے وہاں مولانا چراغ حسن حسرت، ن م راشد، باری علیگ، اختر شیرانی، حفیظ ہوشیار پوری اور کرشن چندر وغیرہ روزانہ محفل جمایا کرتے تھے، گوپال متل نے اپنی کتاب ”لاہور کا جو ذکر کیا“ میں ان محفلوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسلامیہ کالج کے سامنے عرب ہوٹل لاہور کے آڑھے ترچھے ادیبوں اور اخبار نویسوں کا اڈہ تھاجن کے میر مجلس مولانا چراغ حسن حسرت ہوتے تھے ان میں سے زیادہ تر صحافی تھے اور ایسے اخباری اداروں میں کام کرتے تھے جہاں تنخواہ قلیل ہوتی وہ بھی بروقت نہیں ملتی تھی کسی ماہ تنخواہ کا ناغہ بھی ہو جاتا تھا لیکن یہ اپنے حال میں مست رہتے تھے اور اپنی زندہ دلی پر غم زمانہ کی پرچھائیں نہیں پڑنے دیتے تھے، عرب ہوٹل بڑا غریب نواز ہوٹل تھا دو کبابوں، ادھے نان اور چائے جی پیالی میں ناشتہ ہو جاتا تھا جبکہ بھنے ہوئے گوشت کی آدھی پلیٹ اور ایک نان میں دوپہر کا کھانا ہو جاتا تھا، عرب ہوٹل میں بیٹھنے والے زندہ دل ادیبوں، شاعروں اور صحافی دانشوروں میں بھائی چارہ بھی بہت ہوتا تھا اگر کسی کی جیب میں پیسے نہیں ہوتے تھے تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ سگریٹ، چائے یا کھانے سے محروم رہے۔
چھٹا باب لاہور کے شہ زوروں بارے ہے اے حمید کے باپ دادا چونکہ خود بھی جوانی میں پہلوان رہے تھے اس لئے انہیں بھی لڑکپن میں کسرت کیلئے امرتسر کے رامتلائی اکھاڑے میں لے جایا کرتے تھے مگر انہیں چونکہ ادبی کتب و رسائل پڑھنے اور آوارہ گردیاں کرنے کا شوق تھا اس لئے مڈل کے بعد انہوں نے گھر سے بھاگ کر لاہور آنا اور پھر میٹرک میں بمبئی، دلی، کلکتے جانا شروع کر دیا تھا جس کی وجہ سے یہ پہلوان نہ بن سکے تھے، تقسیم ہند سے پہلے اور آزادی کے بعد اے حمید اخبارات کے دفاتر اور ریڈیو سٹیشن پر ملازمت کرتے رہے تھے پہلوانوں کے خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے قیام پاکستان کے دوسال بعد انہیں احمد بشیر روزنامہ امروز کیلئے رستم زماں گاماں پہلوان کا انٹرویو کرنے اپنے ساتھ کامران کی بارہ دری کے اکھاڑے میں لے گئے تھے، اے حمید اس باب میں لکھتے ہیں ”پہلوانی اور پہلوان لاہور کی ثقافت کا اہم حصہ ہیں لاہور نے بڑے بڑے نامور شہ زور پیدا کئے ہیں، لاہور کے مشہور دنگل منٹو پارک میں ہوتے رہے ہیں ان دنگلوں کے بڑے بڑے رنگین پوسٹر چھاپے جاتے تھے جن پر کشتی لڑنے والے پہلوانوں کا خاکہ بنا ہوتا تھا جس میں انہوں نے اپنے کندھوں پر گرز رکھے ہوتے تھے کسی دنگل کا نام شاہی دنگل تو کسی کا کانٹے دار دنگل ہوتا تھا دنگل سے ایک روز قبل،مصف اور ٹھیکیدار کی سرپرستی میں پہلوانوں کا جلوس نکالا جاتا تھا بڑے جوڑ کے پہلوان سب سے آگے تانگوں میں بنارسی یا کیسری ررنگ کی پگڑیاں باندھے بیٹھے ہوتے تھے ان کے پیچھے چھوٹے جوڑ کے پہلوانوں کے تانگے ہوتے تھے جلوس کے آگے سوہنی کا بینڈ باجہ ہوتا تھا جو فلمی دھنیں بجاتا جلوس کے ساتھ چلتا تھا لوگ سڑک کی دونوں جانب کھڑے ہو کر پنے اپنے پسندیدہ پہلوانوں کے حق میں نعرے لگایا کرتے تھے، اگلے تانگے پر منادی کرنے والا بیٹھا سر ہلا ہلا کر ڈھول کی تال پر ٹلی بجا رہا ہوتا تھا جبکہ مداح اپنے پسندیدہ پہلوانوں پر پھولوں کے ہار اور پتیاں نچھاور کرتے تھے، ہر چوک میں پہنچ کر منادی کرنے والا ٹلی سمیت ہاتھ اوپر اٹھا کر جلوس کو رکنے کا اشارہ کرتا اور پھر تانگے میں کھڑے ہو کر دنگل بارے اعلان کرتا تھا۔
ساتواں، آٹھواں اور نواں باب ریڈیو کے حوالے سے ہے ریڈیو کے ساتھ اے حمید کا لڑکپن میں ہی تعلق پیدا ہو گیا تھا دوسری جنگ عظیم کے دوران یہ اپنے بہنوئی کیپٹن ممتاز ملک کے پاس رنگون چلے گئے تھے جو وہاں ”شیر رنگون“ اور ”مجاہد برما“ نامی اخبارات میں کام کرنے کے علاوہ فوجی ریڈیو رنگون کے ساتھ منسلک تھے، اے حمید ان دنوں آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے اور کچھ عرصہ ریڈیو رنگون میں فلمی گیتوں کا پروگرام کرتے رہے تھے بعدازاں اپنے بہنوئی کے ساتھ ہی کولمبو میں ریڈیو سیلون سے بھی منسلک رہے تھے، تقسیم ہند کے بعد اے حمید نے لاہور آ کر ریڈیو سٹیشن کیلئے فیچر اور تقریریں لکھنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا انہیں پانچ منٹ دورانئے کی ریڈیائی تقریر کا مسودہ لکھنے پر پانچ روپے جبکہ پندرہ منٹ کا فیچر لکھنے پر پندرہ روپے معاوضہ ملتا تھا جن کے چیک وہ سٹیٹ بنک میں فدااحمد کاردار سے کیش کرواتے رہے تھے ان دنوں ریڈیو سٹیشن شملہ پہاڑی والی کوٹھی میں ہوتا تھا اور ریڈیائی پروگرام براہ راست نشر کئے جاتے تھے بعدازاں ریڈیو سٹیشن ایمپریس روڈ والی موجودہ عمارت میں منتقل ہونے پر ریڈیائی پروگرام ریکارڈ کئے جانے لگے تھے، اے حمید نے 1950ء کی دہائی کے آغاز میں لاہور ریڈیو سٹیشن پر بطور سٹاف آرٹسٹ کنٹریکٹ ملازمت اختیا کر لی تھی اور معاہدے کی ہر تین ماہ بعد تجدید ہوتی تھی انہیں پینشن، چھٹیوں اور علاج معالجہ کی سہولتیں تو حاصل نہیں تھیں لیکن دفتری اوقات کی پابندی بھی نہیں کرنا پڑتی تھی جو ان جیسے آزاد منش انسان کیلئے بہت بڑی نعمت سے کم نہ تھی انہیں صرف وقت پر سکرپٹ دینا ہوتا تھا جو وہ گھر سے لکھ کر ساتھ لے جاتے تھے بعدازاں یہ مستقل اور پروڈیوسر ہو گئے تھے، ریڈیو سٹیشن لاہور کے ساتھ اے حمید تین عشروں تک منسلک رہے تھے پھر 1980ء کی دہائی میں مستعفی ہونے کے بعد وائس آف امریکہ میں ملازم ہو کر واشنگٹن چلے گئے تھے۔
کتاب کا دسواں، گیارہواں اور بارہواں باب پاک ٹی ہاؤس کے حوالے سے یادوں پر مشتمل ہے اس میں اے حمید نے سب سے زیادہ اپنے آرٹسٹ دوست انور جلال شمزا کا ذکر کیا ہے جو تقسیم ہند کے وقت خاندان کے ساتھ شملے سے ہجرت کر کے لاہور آئے تھے اور بیڈن روڈ پر رہتے تھے، اے حمید کے ساتھ گفتگو میں وہ کبھی کبھار شملہ میں چیڑھ کے درختوں پر مشتمل جنگل کو جاتی پگڈنڈیوں اور پہاڑی ڈھلانوں پر اترتے سفید بادلوں کا ذکر کیا کرتے تھے انہوں نے شملے کی ایک لینڈ سکیپ بھی بنائی تھی وہ کمرشل آرٹسٹ کے علاوہ پندرہ روزہ ادبی جریدے ”احساس“ کے جوائنٹ ایڈیٹربھی تھے اور ان سے ملنے کیلئے اے حمید اکثر بل روڈ پر واقع ”احساس“ کے دفتر بھی جایا کرتے تھے بعدازاں انور جلال شمزا لندن چلے گئے تھے اور پھر وطن واپس نہ آسکے تھے، پاک ٹی ہاؤس کے حوالے سے اے حمید نہ صرف ادیبوں، شاعروں کا ذکر کرتے ہیں بلکہ عام گاہکوں کو بھی یاد کرتے ہیں کیونکہ یہ کچھ عرصہ پاک ٹی ہاؤس کی کیش کاؤنٹر پر بھی بیٹھتے رہے تھے، دسویں باب میں لکھتے ہیں ”کئی چہرے یاد آ رہے ہیں جو ٹی ہاؤس کے افق پر ستاروں کی طرح ابھرے،کچھ دیر تک آسمان پر اپنی روشنی پھیلاتے رہے پھر ایک ایک کر کے نگاہوں سے اوجھل ہو گئے یہ ان لوگوں کے چہرے ہیں جو شاعر، ادیب نہ تھے وہ ٹی ہاؤس میں آتے، چائے پیتے اور تھوڑی دیر بیٹھ کر چلے جاتے تھے ان کے چہرے میری آنکھوں کے سامنے ہیں مجھے ان کے نام بھی نہیں معلوم، ٹی ہاؤس کے شروع کے زمانے کی رونقوں میں ان کا بھی بڑا کردار رہا ہے، پاک ٹی ہاؤس کے گلستان کے وہ بھی پھول اور شگوفے تھے ٹی ہاؤس کی اس زمانے کی .خوشبوؤں میں ان گمنام پھولوں کی مہک بھی شامل تھی!“
تیرھویں باب میں اے حمید نے اپنے مرحوم دوست ناصر کاظمی کویاد کیا ہے تقسیم ہند کے فوری بعد ان کے ساتھ ہونے والی پہلی ملاقات کا احوال لکھتے ہیں ٹی ہاؤس کے فرش کی ٹائلیں ابھی چمک رہی ہیں کرسیاں بید کی تھیں اور ہوٹل کے باہر ابھی انڈیا ٹی ہاؤس ہی لکھا ہوا تھا، ہندوستان کے مختلف شہروں سے آنے والے افسانہ نگار اور شاعر ایک دوسرے سے متعارف ہو رہے تھے کونے والی میز پر ایک دانشور ہاف سیٹ چائے آگے رکھے انگلیوں میں سگریٹ دبائے بیٹھا تھا اس نے میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور ذرا کھنکھار کر بولا میرا نام ناصر کاظمی ہے میں انبالے سے آیا ہوں جہاں برسات کے دوران آم کے جھنڈ وں میں کوئل بولتی ہے! ان دنوں کچھ مہاجر دانشور پیچھے سے لکھتے آئے تھے کچھ لوگوں نے ابھی افسانے لکھنے اور شعر کہنے تھے، ناصر کاظمی بھی شعر کہتا ٹی ہاؤس میں داخل ہوا تھا اور اس کے سیاہ گھنگھریالے بالوں میں ناریل کے تیل کی خوشبو رچی ہوئی تھی، ان دنوں ٹی ہاؤس بچوں والا چھوٹا سا بائیسکوپ تھا جس کے سوراخوں سے آنکھیں لگا کر ہم مہاجر ادیب، شاعر اور دانشور اپنے ماضی کی تصویریں دیکھا کرتے تھے، یہ امرتسر کا کمپنی باغ ہے، یہ مسجد خیرالدین ہے، یہ اسد جو تندور میں کلچے لگا رہا ہے، یہ کاکا عمدو سماوار میں سبز چائے کی پتی ڈال رہا ہے، یہ کوئل آموں کے ایک باغ سے اڑ کر دوسرے باغ میں گئی ہے، یہ لوکاٹ کے باغ میں سے گزرتی نہر ہے اور یہ بمبئی کو جاتی ہوئی فرنٹئیر میل ہے اور یہ ہمارا گھر آگ کے شعلوں میں جل رہا ہے۔۔۔!“
اے حمید نے چودھویں باب میں اپنے دوستوں نواز، حسن طارق، احمد راہی، ابن انشا ء، ابراہیم جیلس اور حمید اختر کے علاوہ میرا جی کا بھی خصوصی تذکرہ کیا ہے جبکہ پندرھویں باب میں انہوں نے والدین، بہن بھائیوں اور دادا جان کو یاد کیا ہے پہلے امرتسر اور پھر لاہور کے محلے مصری شاہ کی یادیں تازہ کرتے ہیں پھر دوبارہ نواز، حسن طارق اور ناصر کاظمی کا ذکر شروع کر دیتے ہیں اس کے بعد ایک بار پھر پاک ٹی ہاؤس پہنچ جاتے ہیں جس کی فضا چائے، سگریٹ اور ادیبوں، شاعروں،دانشوروں کی گفتگو سے مہک ری ہوتی ہے دروازے کے ساتھ والے صوفے پر ڈاکٹر انور سجاد، انتظار حسین، شہرت بخاری، قیوم نظر اور احمد مشتاق بیٹھے ہیں، دیوار کے ساتھ والی میز کے گرد صفدر میر، سبط حسن، حمید اختر، ظہیر کاشمیری،ابن انشاء اور سیف الدین سیف بیٹھے باتیں کرتے ہوئے چائے پی رہے ہیں، رات بارہ بجے کے بعد اے حمید اور ابن انشاء بغداد شہر کی سیر کیلئے اندرون شہر کی طرف چل دیتے ہیں، پاک ٹی ہاؤس سے نکل کر وہ انارکلی کے راستے لوہاری دروازے میں داخل ہو جاتے ہیں پھر سید مٹھا بازار، چوک رنگ محل، چوک مسجد وزیر خان اور دلی دروازے سے گزر کر سرکلر روڈ پر آجاتے ہیں اور ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم پر پہنچ کر ریل گاڑیوں کو آتے جاتے دیکھتے رہتے ہیں بعدازاں ریلوے ریفریشمنٹ روم میں بیٹھ کر اورنج پیکو چائے پی کر گھروں کو واپس چل پڑتے ہیں۔
سولہویں باب میں انہوں نے گوالمنڈی کے حاجی سری پائے والے، سترھویں باب میں سیلون کی چائے پلانے والے وکیل دوست پرویز اختر جبکہ اٹھارہویں باب میں نیلا گنبد کی نگینہ بیکری، بیرون موچی دروازہ کے منزل ہوٹل اور انارکلی کے ممتاز ہوٹل کا تعارف کرایا ہے، نگینہ بیکری میں تقسیم ہند کے بعد بھی مولانا صلاح الدین احمد، مولانا علم الدین سالک، عبداللہ قریشی، ڈاکٹر سید عبداللہ، باری علیگ اور عاشق حسین بٹالوی وغیرہ محفل جمایا کرتے تھے، انیسویں باب میں اے حمید انکشاف کرتے ہیں کہ تقسیم ہند کے بعد ابتدا میں ان کا خاندان لاہور چھوڑ کر چند ماہ تک گوجرانوالہ کے تاریخی قصبے ایمن آباد میں بھی مقیم رہا تھا جہاں انہیں ایک حویلی الاٹ ہو گئی تھی مگر جلد ہی ان کا گھرانہ لاہور واپس آ گیا تھا، بیسویں باب میں لکشمی چوک کے برسٹل ہوٹل، کنگ سرکل اور ویسٹ ایند نامی ہوٹلوں کی محفلوں کا ذکر کرتے ہیں جن میں زیادہ تر فلمی شخصیات شریک ہوتی تھیں، اے حمید بھی اپنے فلمی اداکار دوستوں نعیم ہاشمی،اسد بخاری اور مظہر شاہ کے ساتھ صبح کے وقت ویسٹ اینڈ ہوٹل میں بیٹھ کر چائے پیتے اور مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے رہے تھے ان تینوں میں سے نعیم ہاشمی کے ساتھ اے حمید کی زیادہ دوستی تھی شاید اس کی وجہ نعیم ہاشمی مرحو م کا ادب سے گہرا لگاؤ تھا انہین میر، غالب اور اقبال کے بہت سے اشعار زبانی یاد تھے اس کے علاوہ انہیں منٹو کے افسانے بھی بہت پسند تھے جس روز نعیم ہاشمی کا اچانک انتقال ہوا تو اے حمید بوجھل دل کیساتھ لکشمی چوک میں جا کر ویسٹ اینڈ ہوٹل کی جگہ بننے والی عمارت کو دیکھ کر اپنے بچھڑ جانے والے دوست کو یاد کرتے رہے تھے۔
اکیسویں باب میں اے حمید ریڈیو سٹیشن لاہور کے ساتھی اور ”سوہنا شہر لاہور“ کے مصنف طاہر لاہوری کے ساتھ شہر بے مثال بارے ہونے والی بات چیت
سے آگاہ کرتے ہیں بائیسویں باب میں جسٹس (ر) آفتاب فرخ کے لاہور کی ثقافت کی حوالے سے لکھے جانے والے خط کا تذکرہ کرتے ہیں اور کھنڈ کلچوں، تافتانوں، باقر خانیوں کے بارے میں لکھتے ہیں ”لاہور میں بھی یہ فن کشمیری قاندروں کے ساتھ ہی وابستہ تھا لیکن پتہ نہیں کیا بات تھی کہ لاہور کے کھنڈ کلچے اور باقر خانیاں امرتسر کے کھنڈ کلچوں اور باقر خانیوں کا مقابلہ نہیں کرتے تھے شاید اس کی وجہ وہ فرق ہو جو لاہور اور امرتسر کے پانی میں تھا اس زمانے میں بھی لاہور کے پانی کو ہم امرتسری لوگ کھارا پانی کہتے تھے، امرتسر کا پانی میٹھا ہوتا تھا بہرحال لاہور تو پھر بھی لاہور ہی ہے!“ تئسویں اور چوبیسویں باب میں مال روڈ پر ریگل چوک کی عمارتوں کا تعارف کراتے ہوئے اے حمید بتاتے ہیں کہ انڈس ہوٹل کے عقب میں وکٹوریہ پارک کی بستی ہے جہاں اداکارہ صبیحہ خانم کے علاوہ ریڈیو آرٹسٹ موہنی حمید بھی رہتی تھیں وہیں نجمی آرٹسٹ کا بھی سٹوڈیو ہوتا تھا، چیئرنگ کراس چوک میں واپڈا ہاؤس کی جگہ میٹرو ہوٹل ہوتا تھا جہاں شام کے بعد رقاصہ انجیلا کیبرے ڈانس کیاکرتی تھی۔
پچیسویں اور چھبیسویں باب میں پہلے ہومیو ڈاکٹر مسعود قریشی کا خط درج کرتے ہیں جس میں برکت علی ہال، بریڈلے ہال، ایس پی ایس کے ہال اور وائی ایم سی اے ہال کے بعد ریلوے سٹیشن کا ذکر کیا گیا ہے بعدازاں اے حمید لاہور ریلوے سٹیشن کے بارے میں اپنے تجربات و مشاہدات تفصیل سے بیان کرتے ہیں، ستائیسواں باب لاہور کی مشہور سڑکوں مال روڈ، جیل روڈ، برڈ وڈ روڈ، چرچ روڈ، منٹگمری روڈ، سندرداس روڈ، ایمپریس روڈ اور ان شاہراہوں کے گرد پائے جانے والے درختوں، عمارتوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے، کتاب کے انتیسویں باب میں لکشمی چوک اور رائل پارک کاذکر ملتا ہے، قیام پاکستان کے فوراَ بعد اے حمید اپنے ادبی دوستوں احمد راہی، ساحر لدھیانوی، عبدالمتین عارف،اور فکر تونسوی کے ساتھ بہت کم عرصہ کیلئے رائل پارک کی متروکہ عمارت کے ایک کمرے میں مقیم رہے تھے بعدازاں ساحر لدھیانوی کو ایبٹ روڈ روڈ پر نشاط سینما کے سامنے والی سرخ عمارت کا نچلا پورشن الاٹ ہو گیا تھا انہی دنوں بمبئی سے حمید اختر، صفدر میر اور کیفی اعظمی جبکہ دکن سے ابراہیم جلیس بھی لاہور آگئے تھے، حمید اختر سے اے حمید کی پہلی ملاقات لکشمی چوک کے پیرا ڈائز ریسٹورنٹ میں ہوئی تھی چند ماہ بعد ساحر لدھیانوی اور کیفی اعظمی پاکستان چھوڑ کر بمبئی چلے گئے تھے جبکہ ابراہیم جلیس لاہور سے کراچی منتقل ہو گئے تھے۔
تیسویں باب میں آزادی کے فوری بعد گوالمنڈی کے شیراز، کشمیر اور پنجاب نام کے ہوٹلوں میں امرتسری مہاجر ادیبوں، شاعروں کی محفلوں کا ذکر کیا گیا ہے ان دنوں ساغر صدیقی شیراز ہوٹل کی دوسری منزل کے ایک کمرے میں رہتے تھے، اس زمانے میں اے حمید اپنے چھوٹے آرٹسٹ بھائی مقصود کے ساتھ گرمی کے باعث رات کو گھر سے باہر حضوری باغ میں سویا کرتے تھے جس کا احوال لکھتے ہوئے وہ امرتسر کے کمپنی باغ میں پہنچ جاتے ہیں جہاں سے واپسی پر لارنس گارڈن چلے جاتے ہیں اور درختوں، پودوں، پھولوں کے درمیان گھومتے پھرتے ہیں بعدازاں وہ اوپن ائر تھیٹر کی کینٹین پر ادیب، شاعر دوستوں کے ساتھ محفل جماتے رہے تھے بہت عرصہ گزرنے کے بعد جب کبھی وہ لارنس گارڈن جاتے تو درخت ان سے پوچھتے تھے کہ تم اکیلے کیوں ہو؟ تمھارے ساتھ کینٹین پر بیٹھ کر چائے پینے والے لوگ کہاں چلے گئے ہیں؟ مگر اب اے حمید کو ان سوالوں سے بھی نجات مل چکی ہے وہ اپنے بچھڑ جانے والے دوستوں کے تعاقب میں لارنس گارڈن اور لاہور سے بہت دورعالم برزخ میں جا چکے ہیں جہاں سے کوئی کبھی واپس نہیں آتا۔۔۔!



