
لاہور آنے سے پہلے ہم اے حمید کی تحریروں کے ذریعے حلقہ ارباب ذوق سے متعارف ہو چکے تھے، اے حمید کے نوائے وقت سنڈے میگزین میں شائع ہونے والے مضامین کے ذریعے ہمیں یہ بھی علم ہو چکا تھا کہ حلقے کے ہفتہ وار اجلاس پاک ٹی ہاؤس سے پہلے وائی ایم سی اے کے ہال اور بورڈ روم میں ہوتے رہے تھے بلکہ آغاز میں شہر کے دیگر مختلف علاقوں میں بھی حلقے کے اجلاس منعقد ہوتے رہے تھے. لاہور منتقل ہونے کے بعد جب ہم پاک ٹی ہاؤس جانے اور حلقے میں شریک ہونے لگے تو ہمیں حلقہ ارباب ذوق کے حوالے سے مزید معلومات حاصل ہوئی تھیں بعدازاں جب حلقے کے سابق سیکرٹری یونس جاوید کا کتابی صورت میں چھپنے والا حلقہ ارباب ذوق پر پی ایچ ڈی مقالہ پڑھا تو ہمیں حلقے کی تاریخ سے مزید آگاہی حاصل ہوگئی تھی۔
یونس جاوید کا تحقیقی مقالہ پڑھنے سے ہمیں پتہ چلا تھا کہ ضیا مارشل لاء کے بعد اور بھٹو کی پھانسی سے پہلے حلقہ ارباب ذوق لاہور کے وائی ایم سی اے اور پاک ٹی ہاؤس میں ہونے والے حلقہ ارباب ذوق کے سیاسی و ادبی دونوں دھڑوں کے ہفتہ وار اجلاس بند ہو گئے تھے کیونکہ حلقے کے دونوں دھڑوں کے سیکرٹری صاحبان منو بھائی اور شہرت بخاری پیپلز پارٹی کے جیالے دانشور تھے. پیپلز پارٹی کے ان دونوں سے بھی زیادہ بڑے جیالے، پارٹی ٹکٹ پر ایم این اے کا الیکشن لڑنے والے اور اکادمی ادبیات پنجاب کے سابق ریذیڈنٹ ڈائریکٹر الطاف احمد قریشی نے تو حلقہ ارباب ذوق میں یوم تاسیس کے ایک اجلاس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ جنرل ضیاء کے مارشل لاء میں جب حلقے کے ادبی و سیاسی دھڑوں نے اجلاس بند کردیئے تھے تو وہ سلیم شاہد کے ساتھ مل کر پاک ٹی ہائوس میں حلقہ چلاتے رہے تھے۔
حلقے کےادبی دھڑے والے سیکرٹری شہرت بخاری کی اہلیہ فرخندہ بیگم تو پیپلز پارٹی کی خاتون رہنماؤں میں شمار ہوتی تھیں . انہوں نے ضیاء مارشل لاء کے دوران لندن میں جلاوطنی بھی کاٹی تھی شہرت بخاری کو بھی بیگم کے ساتھ کچھ عرصہ کیلئے وطن چھوڑنا پڑا تھا ضیاء مارشل لاء میں حلقہ ارباب ذوق کے دونوں دھڑے معطل ہونے پر قیوم نظر اور مبارک احمد متحرک ہو گئے تھے اور دونوں اپنے اپنے دھڑے کے الگ الگ اجلاس کرواتے رہے تھے قیوم نظر کو رحمٰن مذنب، امجد الطاف اور انجم رومانی جبکہ مبارک احمد کو سعادت سعید، جیلانی کامران، عابد حسن منٹو، ضیاء بٹ، تنویر ظہور، سراج منیر اور اظہر غوری کی معاونت حاصل رہی تھی۔
بھٹو کی پھانسی کے بعد 1980ء میں مبارک احمد نے لاہور میں حلقہ ارباب ذوق گجرات کی شاخ قائم کر دی تھی پھر اسے حلقہ ارباب ذوق لاہور قرار دے کر سعادت سعید کو عبوری سیکرٹری نامزد کردیا تھا مگر حلقے کے انتخابات میں مستنصر حسین تارڑ کے مقابلے پر سعادت سعید شکست کھا گئے اور انہوں نے چائنیز لنچ ہوم میں حلقہ ارباب ذوق پاکستان (مرکز) کے اجلاس کروانا شروع کردیئے تھے. بعدازاں جیلانی کامران مرکزی حلقہ کے سیکرٹری جنرل، سعات سعید ایڈیشنل سیکرٹری اور اظہر غوری جائنٹ سیکرٹری مقرر ہو گئے تھے. اظہر غوری اس عہدے پر 4 سال تک خدمات سرانجام دیتے رہے تھے وہ قبل ازیں 1966ء میں بھی حلقہ ارباب ذوق لاہور شاخ کے جوائنٹ سیکرٹری رہ چکے تھے۔ اظہر غوری بعد ازاں 1986ء میں بھی حلقہ ارباب ذوق لاہور شاخ کے جوائنٹ سیکرٹری رہے تھے ۔
اگلے برس جب سیکرٹری جنرل جیلانی کامران قبل ازوقت مستعفی ہو گئے تو ان کی جگہ مبارک احمد عبوری سیکرٹری جنرل بنائے گئے تھے. دو ماہ بعد مجلس عاملہ نے ایڈیشنل سیکرٹری سعادت سعید کو سیکرٹری جنرل اور اظہر غوری کو جوائنٹ سیکرٹری چن لیا جبکہ مجلس عاملہ میں جیلانی کامران، مبارک احمد، سمیع آہوجہ، آغا یامین، سراج منیر، غلام حسین ساجد، الطاف فاطمہ اور عطیہ عثمانی کو شامل کیا گیا تھا. اسی دور میں مئی 1980ء کے دوران جمعہ کی شام کو چائنیز لنچ ہوم میں مبارک احمد کی زیرصدارت حلقہ ارباب ذوق پاکستان (مرکز) کا تنقیدی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں عابد حسن منٹو نے مضمون، کیف جاوید نے غزل اور عذرا اصغر نے افسانہ تنقید کیلئے پیش کیا تھا، مضمون پر ڈاکٹر محمد باقر، ڈاکٹر خواجہ زکریا اور ضیا بٹ نے گفتگو کی تھی۔
مبارک احمد کی زیرصدارت ستمبر 1981ء کے دوران مختار صدیقی کی یاد میں بھی حلقہ ارباب ذوق پاکستان (مرکز) کا خصوصی اجلاس ہوا تھا جس میں سعادت سعید نے مضمون پڑھا تھا، کچھ عرصہ قبل مبارک احمد کے صاحبزادے ایرج مبارک نے ہمیں بتایا تھا کہ ان کے والد کا حلقہ ارباب ذوق لاہور کے ساتھ دیرینہ تعلق رہا تھا، وہ تقسیم ہند سے قبل 1940ء کے بعد حلقے کو چلانے میں میرا جی کی معاونت بھی کرتے رہے تھے۔
ہم نے حلقہ ارباب ذوق کی تقسیم ہند سے قبل کی فہرست ارکان دیکھی تھی جس میں 29 ویں نمبر پر مبارک احمد کا نام درج تھا۔ ظہیر کاشمیری، استاد ساغر بٹ اور انور جلال شمزا کو مبارک احمد سے چھ سات ماہ بعد حلقے کی رکنیت دی گئی تھی، مبارک احمد کا تعلق گجرات سے تھا اور انہی دنوں مبارک احمد نے حفیظ ہوشیار پوری کی زیرصدارت اجلاس کے دوران درخواست دے کر اپنے شہر گجرات میں حلقہ ارباب ذوق کی شاخ کے قیام کی منظوری حاصل کرلی تھی۔ لاہور میں مبارک احمد مزنگ چونگی کے قریب ٹیمپل روڈ پر رہتے تھے، ہم سمجھتے رہے کہ شاید وہ صفانوالہ چوک کے قریب مزنگ روڈ پر محلہ مبارک پورہ میں رہتے تھے جہاں سے ذرا آگے مزنگ اڈے کے محلے تکیہ سردار شاہ میں میراجی رہا کرتے تھے۔
میراجی کی طرح مبارک احمد بھی نظم کے شاعر تھے میراجی کے دلی چلے جانے پر مبارک احمد نے حلقہ ارباب ذوق میں میراجی کی کمی7 کسی حد تک پوری کردی تھی۔ مبارک احمد اپنے دوست پروفیسر قیوم نظر اور میراجی کے ساتھ حلقے میں شریک ہوتے رہے تھے تاہم یکم ستمبر 1945ء کو یوسف ظفر کی زیرصدارت حلقے کی مجلس انتظامیہ کے اجلاس میں جب مبارک احمد کا نام رکنیت کیلئے پیش کیا گیا تو انہیں 1 ماہ تک زیرغور رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور پھر انہیں یکم اکتوبر 1945ء کو حلقے کا رکن بنالیا گیا تھا۔ مجلس انتظامیہ کے جس اجلاس میں مبارک احمد کے نام کی منظوری دی گئی تھی وہ مولانا صلاح الدین احمد کی زیرصدارت منعقد ہوا تھا۔ اس وقت الطاف گوہر کی رخصت پر آغا بابر بٹالوی حلقے کے قائم مقام سیکرٹری اور ضیاء جالندھری جوائنٹ سیکرٹری تھے، مبارک احمد کے بعد ظہیر کاشمیری، اصغر بٹ اور انور جلال شمزا کو رکنیت دی گئی تھی۔
مبارک احمد نے رکن بننے کے بعد حلقہ ارباب ذوق میں”ادبی مسائل کی نئی توضیح” کے عنوان سے مضمون اور 16 نظمیں پڑھی تھیں، آزادی کےبعد جنوری 1948ء میں قیوم نظر کے سیکرٹری بننے پر مبارک احمد کو حلقہ ارباب ذوق کی مجلس انتظامیہ میں بھی شامل کرلیا گیا تھا پھر مارچ 1948ء کے دوسرے ہفتے حلقے کی مجلس انتظامیہ کا اجلاس مبارک احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا جس میں سیکرٹری قیوم نظر، سابق سیکرٹریز آغا بابر اور ضیاء جالندھری بھی شریک ہوئے جس میں سر شیخ عبدالقادر کی زیرصدارت 25 مارچ کو وائی ایم سی ہال میں سالانہ جلسے کا پروگرام ترتیب دیا گیا اور آئندہ دو ماہ کے پروگرام کی بھی منظوری دی گئی تھی۔
جون 1948ء میں مبارک احمد کو حلقہ ارباب ذوق لاہور کا جوائنٹ سیکرٹری بنا دیا گیا تھا۔ ان دنوں قیوم نظر حلقے کے سیکرٹری تھے تاہم اگلے ماہ جولائی میں ضیاءجالندھری کی زیرصدارت مجلس انتظامیہ کا اجلاس ہوا تو صدارت کرنے والے ضیاء جالندھری نے مبارک احمد کی باتوں کو غیر مجلسی قرار دے کر انہیں اجلاس سے نکال دیا تھا۔ ان دنوں سیکرٹری قیوم نظر کی طویل رخصت کے باعث شیر محمد اختر قائم مقام سیکرٹری کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے تھے، اگلے ماہ قیوم نظر سیکرٹری کے عہدے پر واپس آگئے تھے۔
ماہ اگست میں ہی داؤد رہبر کی زیرصدارت مجلس انتظامیہ کے اجلاس میں ضیاء جالندھری کے خلاف شکایات کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ حلقے کے لئے خدمات کے باعث ان کی رکنیت تو ختم نہ کی جائے البتہ آئندہ انہیں کوئی ذمہ داری نہ سونپی جائے۔ نئی مجلس انتظامیہ بھی قیوم نظر، مبارک احمد، دائود رہبر، خلیل الرحمٰن اور تابش صدیقی پر مشتمل تشکیل دی گئی تھی تاہم مبارک احمد کی زیرصدارت اجلاس میں خلیل الرحمٰن علالت اور داؤد رہبر مصروفیت کے باعث مجلس انتظامیہ سے الگ کر دیے گئے تھے اور ان کی جگہ یوسف ظفر اور سیدنصیر احمد کو نامزد کیا گیا۔
دسمبر 1948ء کے دوسرے ہفتے مبارک احمد کی زیر صدارت مجلس انتظامیہ کے اجلاس میں کراچی کے حلقہ کی جانب سے شائع ہونے والے مجموعہ نئی تحریریں کے پہلے شمارے کا جائزہ لیا گیا اور قرار دیا گیا کہ حلقے کی کراچی شاخ میں پڑھے جانے والے زیادہ مضامین "نئی تحریریں” میں شامل کئے گئے ہیں، فروری 1949ء کے آخری ہفتے میں مبارک احمد کی زیرصدارت حلقے کی مجلس انتظامیہ کے اجلاس میں 1948 کی بہترین نظموں کے مسودے اور سالانہ جلسے کا جائزہ لے کر آئندہ دو ماہ کے پروگرام کی منظوری دی گئی تھی۔
حلقہ ارباب ذوق لاہور نے جب 1947ء کی بہترین نظموں کا انتخاب کتابی صورت میں شائع کیا تھا تو ماہنامہ ادب لطیف میں شائع ہونے والی مبارک احمد کی 2 نظمیں "لرزتے سائے” اور "دھیان کی لہریں” بھی اس میں شامل تھیں۔ اگلے سال 1948ء کی بہترین نظموں کے انتخاب میں بھی مبارک احمد کی نظم "نیا دور” شامل کی گئی تھی۔ اپریل 1949ء میں مبارک احمد کی زیرصدارت مجلس انتظامیہ کے اجلاس میں سیکرٹری قیوم نظر نے راولپنڈی میں حلقے کے سالانہ اجلاس کی رپورٹ پیش کی تھی اور لاہور کے حوالے سے مختار صدیقی اور تابش دہلوی کو ن م راشد سے مل کر صدارت کرنے اور پروگرام ریڈیو سے نشر کرنے کی تاریخ طے کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
جب 1949ء میں مختار صدیقی حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری اور شہرت بخاری جوائنٹ سیکرٹری بن گئے تو مجلس انتظامیہ میں مبارک موجود نہ رہے ان کی جگہ انجم رومانی، انتظار حسین، محمد حسن عسکری، آغا بابر اور شہرت بخاری آگئے تھے تو محمدحسن عسکری جلد حلقے کی مجلس انتظامیہ سے الگ ہو گئے اور ان کی جگہ الطاف گوہر کو شامل کرلیا گیا تھا۔ میراجی کی نومبر 1949ء کے پہلے ہفتے بمبئی کے ہسپتال میں وفات پر حلقہ ارباب ذوق لاہور کے 11 نومبر کے اجلاس میں تعزیتی قرارداد پیش کرنے کے علاوہ میراجی میموریل سب کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی جس کے ارکان میں انتظار حسین ، شہرت بخاری ، قیوم نظر ، یوسف ظفر ، محمد حسن عسکری ، شیر محمد اختر ، آغا بابر کے علاوہ مبارک احمد بھی شامل تھے۔
مبارک احمد نے میراجی کی وفات کے چند برس بعد ان کیلئے نظم کہی تھی جس کی ابتدائی چند سطریں ہیں ۔۔۔
آئینہ امروز میں تمہاری شبیہ
پہلے کی طرح اب بھی زندہ ہے
تم ان میں سے ہو
جو نہیں ہیں اور ہیں
اگلے برس 1950 میں آغا بابر کی جگہ دوبارہ قیوم نظر سیکرٹری بن گئے تو مجلس انتظامیہ بھی تبدیل ہو گئی۔ انتظارحسین اور انجم رومانی کی جگہ امجدالطاف، یزدانی ملک اور مولانا صلاح الدین احمد مجلس انتظامیہ کے رکن بن گئے تھے۔ بعدازاں یزدانی ملک کی جگہ شہرت بخاری کو مجلس انتظامیہ میں لے لیا گیا تھا پھر امجد الطاف کی جگہ انجم رومانی کو شامل کر لیا گیا تھا بعد ازاں مولانا صلاح الدین احمد کے مستعفی ہو جانے پر ان کی جگہ انتظار حسین کو مجلس انتظامیہ میں شامل کر لیا گیا تھا اور پھر پاک ٹی ہاؤس میں مارچ 1952ء کے دوران حلقے کی مجلس انتظامیہ کے اجلاس میں مبارک احمد کو خاص طور پر دعوت دے کر بلایا گیا تھا۔
مبارک احمد نے حلقہ ارباب ذوق کی سپریم کونسل قائم کرنے اور سیکرٹری جنرل کا عہدہ تشکیل دینے کی تجاویز پیش کی تھیں جنہیں قبول نہ کیا گیا۔ اس موقع پر اگلے سال کے لئے شہرت بخاری کو سیکرٹری اور سجاد باقر رضوی کو جوائنٹ سیکرٹری کی نشست پر نامزد کیا گیا۔ نئی مجلس انتظامیہ میں سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری کے ساتھ انتظار حسین کو بھی شامل کر لیا گیا لیکن مبارک احمد کو شامل نہ کیا گیا بعدازاں اپریل 1953ء میں انجم رومانی کو مسلسل غیر حاضری پر مجلس انتظامیہ سے خارج کر کے ان کی جگہ امجد الطاف اور مبارک احمد کو شامل کیا گیا تھا تاہم مبارک احمد مجلس انتظامیہ کے کسی اجلاس میں شریک نہ ہوئے تھے۔
اکتوبر 1953ء میں سیدامجد الطاف کی زیرصدارت مجلس انتظامیہ کے اجلاس میں اگلے ماہ یوم میراجی کے حوالے سے خصوصی اجلاس کے سلسلے میں کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ سیکرٹری شہرت بخاری کو کمیٹی کا کنوینئر جبکہ امجد الطاف، قیوم نظر اور مبارک احمد کو رکن مقرر کیا گیا تھا۔ مارچ 1954 ء میں شہرت بخاری کی زیرصدارت مجلس انتظامیہ کے اجلاس میں راولپنڈی حلقے کی تجویز پر سیکرٹری جنرل کا عہدہ تشکیل دے کر قیوم نظر کو اس عہدے پر فائز کر دیا گیا تھا اور قیوم نظر کی جگہ حلقے کی مجلس انتظامیہ میں انتظار حسین کو رکن نامزد کر دیا گیا مگر انتظار حسین نے مجلس انتظامیہ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔
بعدازاں سیکرٹری جنرل کا معاون بننے پر شہرت بخاری بھی سیکرٹری کے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے لہذا انجم رومانی کو سیکرٹری جبکہ رحمان مذنب، بقاء نقوی اور شیر محمد اختر کو مجلس انتظامیہ کا رکن بنا دیا گیا تھا، جب 1954ء میں سیکرٹری جنرل حلقہ کے انتخاب میں حصہ لینے کیلئے حلقہ ارباب ذوق کے ارکان کی 7 رکنی حتمی فہرست جاری کی گئی تو اس میں قیوم نظر، انجم رومانی، شہرت بخاری، امجد الطاف، ریاض احمد اور شیر محمد اختر کے ساتھ مبارک احمد کا نام بھی شامل تھا۔
جب قیوم نظر کو حلقے کا سیکرٹری جنرل چن لیا گیا تو انتظار حسین نے اعتراض کر دیا اور عبادت بریلوی، وقار عظیم، ناصر کاظمی وغیرہ کے ساتھ مل کر اپنا گروپ بنالیا جس پر مجلس انتظامیہ نے حلقہ مفادات کے منافی سرگرمیوں کے الزام میں اس گروپ کے پہلے 3 ارکان کی رکنیت ختم کردی تھی جبکہ چوتھے کو زیرنگرانی رکھ لیا تھا تاہم بعدازاں ان سب کی رکنیت بحال ہوگئی تھی پھر 1963ء میں حلقہ ارباب ذوق کا پہلا باقاعدہ الیکشن ہوا تو قیوم نظر کے مقابلے میں انتظار حسین 9 ووٹ کے فرق سے جیت گئے تھے۔ حلقہ ارباب ذوق کے ان انتخابات میں مبارک احمد نے غالباً قیوم نظر کی حمایت کی تھی، مبارک احمد نے 1963 ء کے دوران ہی مئی، جون، جولائی کے گرم ترین شب و روز میں اپنی مشہور ترین نظم "زمانہ عدالت نہیں” تخلیق کی تھی۔۔۔
زمانہ عدالت ہے
اور میں بغاوت کے الزام میں
پا بجولاں کھڑا ہوں
میرا جرم یہ ہے کہ میں نے
مقدس مقام پر ایستادہ ہو کر
زمانے کو آواز دی
مبارک احمد نے مئی 1975ء میں جدید نظم کے شاعروں بارے لکھی جانے والی اپنی طویل نظم” کچھوے سے اُلو تک ” میں قمر جمیل کو کچھوا، احمد ہمیش کو مینڈک، افتخار جالب کو خرگوش، اقبال آفاقی کو سرخ طوطا، جمیلہ کو کوئل، فاطمہ حسن کو بلی، اقبال فریدی کو گلہری، اوریا مقبول جان کو یونانی طوطا جبکہ خود کو فلسفی الو قرار دیا تھا اس نظم کی چند سطریں ہیں ۔۔۔
پھیلتی افواہوں کا تدارک ہوگا
کہ مینڈک کو سمندر میں
کچھوے نے دھکیلا ہے
یا خرگوش لاہور میں
واقعی کوئی سرنگ لگا رہا ہے
جو اسے غیرشاعراتی مشن پر
بغیر ویزا کے روس لے جائے گی
حلقہ کے 97۔1996ء سیشن تک مبارک احمد کا نام فہرست ارکان میں شامل رہا تھا لیکن اگلے برس 98۔1997ء کی فہرست میں اقبال سرہندی، رشید کامل، سہراب اسلم، عدیم ہاشمی، عبادت بریلوی، عارف عبدالمتین، عین ادیب، عمر فیضی، قیصر بارہوی اور گلزار وفا چوہدری کے ساتھ مبارک احمد کو بھی مرحوم لکھا گیا تھا۔ کلیات مبارک جنوری 1999ء میں شائع ہوئی تھی جس کے فلیپ پر مبارک احمد اور ان کی شاعری کے بارے میں تحریری رائے دینے والوں میں حلقہ ارباب ذوق کے سینئر دانشوروں جیلانی کامران، رضی عابدی، عبادت بریلوی، انتظار حسین، احمد بشیر، سہیل احمد خان، عابد حسن منٹو کے علاوہ خالد احمد، اظہر غوری، اعجاز رضوی، عباس تابش، سلمان صدیق، سلیم گورمانی اور ارشد شاہین بھی شامل تھے۔
مبارک احمد کی نومبر 1975ء میں کہی جانے والی رومانی نظم ” پانی کا رشتہ” بہت اہم ہے۔۔۔
تمہاری باتیں کتنی خوبصورت ہیں
اور تمہاری ہنسی کتنی پیاری ہے
تم انا کی پٹی باندھے
لاہور میں وارد ہوئیں
اور تمہیں کوئی مرد دکھائی نہ دیا
اگر تم چناب کے پار گجرات آتیں
تو میں تمہاری آنکھوں سے پٹی ہٹاتا
حلقہ ارباب ذوق کے اجلاسوں میں مرحوم ادیبوں، شاعروں صوفی تبسم، انتظار حسین، سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی، مجید امجد، عزیز الحق، نسرین انجم بھٹی، علی افتخار جعفری، جاوید انور وغیرہ کی یادیں تازہ کی جاتی رہی ہیں لیکن مبارک احمد کو حلقہ ارباب ذوق میں کبھی یاد نہیں کیا گیا۔ اب تو مبارک احمد کو جاننے والے دانشور حلقے بلکہ دنیا سے ہی رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمیں یاد ہے ایک عشرہ قبل ستمبر کے مہینے میں حلقہ ارباب ذوق کے یوم تاسیس پر پاک ٹی ہاؤس کی گیلری میں انتظار حسین کی زیرصدارت خصوصی اجلاس کے آخر میں صدارتی کلمات کے دوران انتظار حسین نے گلے شکوے کے انداز میں نشاندہی کی تھی کہ ایک حلقہ مبارک احمد نے بھی بنایا تھا اس کا یہاں ذکر ہی نہیں کیا گی۔ا اب تو نشاندہی کرنے والے انتظار حسین بھی دنیا میں موجود نہیں رہے وہ بھی اپنے دوست مبارک احمد کے پاس جا چکے ہیں۔


