
لاہور کی معروف ادبی تنظیم حلقہ ارباب ذوق جب 29 اپریل 1939ء کو بزم داستان گویاں کے نام سے قائم کی گئی تھی تو اس کے بنیادی ارکان میں کوئی خاتون دانشور شامل نہ تھی حالانکہ اس دور میں حلقے کو تنقیدی کے بجائے توصیفی انداز میں چلایا جاتا تھا۔ چند ماہ بعد یکم اکتوبر 1939ء کو تنظیم کا نام بزم داستان گویاں سے تبدیل کرکے حلقہ ارباب ذوق رکھ دیا گیا تھا حلقے کی پہلی خاتون رکن بیگم سکینہ محمود تھیں جنہیں 1941ء میں رکن بنایا گیا تھا، ان کے بعد این فاطمہ نامی خاتون نے 19 نومبر 1941ء کو میرا جی کی زیرصدارت حلقے کی مجلس انتظامیہ میں رکنیت کیلئے درخواست پیش کی تھی مگر ان کا نام 2 ماہ تک زیرغور رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ان دنوں سید نصیر احمد جامعی حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری اور سید امجد حسین جوائنٹ سیکرٹری تھے۔ بعد ازاں 16 جنوری 1942ء کو تکیہ سردار شاہ مزنگ میں میراجی کی رہائش گاہ پر یوسف ظفر کی زیرصدارت حلقے کی مجلس انتظامیہ کے اجلاس میں این فاطمہ بٹ کو بھی سید امتیاز علی تاج، پروفیسر کنہیالال کپور اور راما نند ساغر کے ساتھ حلقے کی رکنیت دے دی گئی تھی۔ حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری نصیر احمد جامعی ان دنوں اجلاسوں سے غائب رہے تھے لہذا جائنٹ سیکرٹری سید امجد حسین کو بعدازاں قائم مقام سیکرٹری اور یوسف ظفر کو حلقے کا قائم مقام جوائنٹ سیکرٹری بنا دیا گیا تھا۔
تقسیم ہند سے چند ماہ قبل اپریل 1947ء کے دوران سابق سیکرٹری آغا بابر بٹالوی کی زیر صدارت حلقے کی مجلس انتظامیہ کے اجلاس میں اندرون بھاٹی دروازے محلہ اسلام خان کی رہائشی عذرا شیریں نامی مبینہ خاتون دانشور کے بارے میں درخواست دی گئی کہ وہ پردہ دار خاتون ہونے کی وجہ سے خود حلقے میں شریک نہیں ہو سکتیں اس لئے ان کی تخلیقات حلقے میں پڑھنے کی اجازت دی جائے جس پر ایوان نے مجلس انتظامیہ سے یقین دہانی مانگی تھی کہ کیا عذرا شیریں واقعی کوئی خاتون ہی ہیں جس پر حلقے کے قائم کا مقام سیکرٹری رفیق احمد نے مجلس انتظامیہ کو یقین دہانی کروا دی تھی لہذا طے پایا کہ یہ معلومات حلقے کے آئندہ ہفتہ وار اجلاس میں پیش کر دی جائیں گی تاہم تقسیم ہند کی وجہ سے فسادات شروع ہو گئے اور کرفیو کے باعث حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس کئی ہفتوں تک منعقد ہی نہ ہو سکے تھے حتی کہ متحدہ ہندوستان تقسیم ہو کر نئے ممالک بھارت اور پاکستان میں تبدیل ہو گیا تھا۔
آزادی کے بعد حلقہ ارباب ذوق کا پہلا اجلاس 14 ستمبر 1947ء کو منعقد ہوا تو اس میں عذرا شیریں کے نام سے سہاگ رات کے موضوع پر ایک افسانہ پڑھا گیا حالانکہ تقسیم ہند کے فسادات کی وجہ سے لاہور کی فضا سوگوار تھی اور حلقے والوں نے اس ماحول میں ایسا جنسی افسانہ لکھنے کی توقع ہی نہیں کی ہوگی لہذا ڈاکٹر یونس جاوید نے تو اپنے تحقیقی مقالے میں شبے کا اظہار کیا تھا لیکن ہمیں یقین ہے کہ عذرا شریں کے نسوانی نام اور پردہ دار خاتون کے پیچھے ضرور کسی مرد کا چہرہ اور قلم ہی چھپا ہو گا۔ حلقہ ارباب ذوق وجود میں آنے کے ربع صدی بعد تک صرف چند خواتین قلمکار ہی رکن بنی تھیں جن میں بیگم سکینہ محمود، مس این فاطمہ بٹ، الطاف فاطمہ، کشور ناہید، مس شناور خاں اور جمیلہ ہاشمی وغیرہ کے نام شامل ہیں مزید ڈیڑھ دو عشرے بعد 20، 25 خواتین کو حلقے کی رکنیت دے دی گئی تھی ان میں افضل توصیف، بانو قدسیہ، شہناز پروین، پروین ملک، پروین عاطف، پروین راؤ، فرخندہ لودھی، شائستہ حبیب، سائرہ ہاشمی، سعیدہ ہاشمی، نشاط فاطمہ، نرگس شیخ، نصرت ادیب، نسرین انجم بھٹی، نسرین قریشی، عصمت طاہرہ، درنجف زیبی، رضیہ شمع، شیما مجید، سلمیٰ رعنا ،طینوش فردوس، حمیدہ شاہین اور مسرت کلانچوی کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
حلقے میں مزید ڈیڑھ عشرہ گزرنے پر خواتین کی تعداد بڑھ گئی تھی، نئی رکن بننے والی خواتین میں عفرا بخاری، سلمیٰ اعوان، شہناز مزمل، یاسمین حمید، نیلم احمد بشیر، عطیہ سید، نشاط فاطمہ، امینہ عنبرین، تسنیم منٹو، رخسانہ نور، روبیہ جیلانی، عمرانہ مشتاق، فوزیہ تبسم، رخسانہ تبسم، رخشندہ نوید، تسنیم کوثر، زاہدہ راؤ، شبہ طراز، شاہدہ دلاور شاہ، زویا ساجد، رضوانہ کسک، پروین سجل، سیما پیروز، صغریٰ صدف، صائمہ ارم، انجم قریشی، عقیلہ کاظمی، آمنہ مفتی، شازیہ مفتی، فریحہ نقوی، پریا تابیتا اور عبیرہ احمد کے نام شامل ہیں۔ ہمارے لاہور آنے کے بعد حلقہ ارباب ذوق کے تقریباً 70 رکن فوت ہو چکے ہیں جن میں سے صرف 7 خواتین ہیں ان میں الطاف فاطمہ، افضل توصیف، نرگس شیخ، بانو قدسیہ، رخسانہ نور، نسرین انجم بھٹی اور عفرا بخاری کے نام شامل ہیں، ان میں سے پہلی 3 خواتین نے شادی نہ کروائی تھی جبکہ اگلی خواتین نے پسند کی شادی کی تھی۔
حلقہ ارباب ذوق کی رکن چند خواتین کے شوہر بھی حلقے کے رکن رہے تھے۔ ان ادبی جوڑیوں میں بانو قدسیہ اور اشفاق احمد، کشور ناہید اور یوسف کامران، درنجف زیبی اور حسن جعفر زیدی، سعیدہ ہاشمی اور حسن نثار، عین ادیب اور نصرت ادیب، نسرین انجم بھٹی اور زبیر رانا، شائستہ حبیب اور فخر زمان، حمیدہ شاہین اور ضیاء الحسن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عفرا بخاری کے صاحبزادے عامر فراز اور طینوش فردوس کے صاحبزادے پرمل سجاد بھی اپنی والدہ کی طرح حلقے کے رکن ہیں۔ حلقے کی رکن بہنوں میں جمیلہ ہاشمی اور سائرہ ہاشمی، بہن بھائیوں میں نرگس شیخ اور کرامت شیخ، عطیہ سید اور سجاد سید شامل ہیں جبکہ عطیہ سید سے پہلے ان کے والد ڈاکٹر سید عبداللہ اور فوزیہ تبسم سے پہلے ان کے دادا صوفی تبسم بھی حلقے کے رکن رہے تھے۔ ان خواتین میں سے بانو قدسیہ، سعیدہ ہاشمی، سائرہ ہاشمی، نصرت ادیب، نرگس شیخ، شائستہ حبیب، افرا بخاری اور نسرین انجم بھٹی وغیرہ وفات پا چکی ہیں۔
حلقہ ارباب ذوق کی مجلس انتظامیہ میں شامل ہونے والی پہلی خاتون الطاف فاطمہ تھیں جنہیں 1960ء کے عشرے میں سیکرٹری شہرت بخاری نے مجلس انتظامیہ میں شامل کیا تھا۔ الطاف فاطمہ کو بعدازاں 1980ء کی دہائی کے دوران حلقہ ارباب ذوق پاکستان (مرکز )میں بھی سیکرٹری سعادت سعید نے عطیہ عثمانی کے ساتھ شامل کیا تھا۔ حلقے کی پہلی جوائنٹ سیکرٹری غالباً نسیم نامی خاتون رہی تھیں، ہمارے لاہور آنے کے بعد 14۔2013ء کے سیشن میں درنجف زیبی ایوان اقبال میں ہونے والے سالانہ انتخابات کے دوران حلقے کی پہلی خاتون سیکرٹری منتخب ہوئی تھیں۔ ان کے حریف غافر شہزاد نے الیکشن کا بائیکاٹ کر کے حلقے کا الگ دھڑا تشکیل دے لیا تھا۔ بعد ازاں20 ۔2019 ء کے سیشن میں فریحہ نقوی اور اگلے برس فرح رضوی حلقے کی جوائنٹ سیکرٹری بن گئی تھیں۔ پھر 22۔2021 ء کے سیشن میں فرح رضوی اور 26۔2025 ء کے سیشن میں شازیہ مفتی حلقے کی سیکرٹری منتخب ہو گئی تھیں۔ حلقہ ارباب ذوق لاہور کی سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری بننے والی غالباً تمام خواتین پنجاب میں آباد اردو داں گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور بلا مقابلہ منتخب ہوئی تھیں۔


