گزرگاہیںلاہور

بیڈن روڈ کی سیر

میم سین بٹ 

لاہور کی مشہور سڑکوں میں بیڈن روڈ بھی شامل ہے جو ریگل چوک میں مال روڈ سے شروع ہوتی ہے اور کوپر روڈ کو پار کرکے لکشمی چوک کے قریب میکلوڈ روڈ سے جا ملتی ہے. بیڈن روڈ کی سیر کیلئے ہم طارق کامران کو فون کرنے کے بعد پریس کلب سے اٹھ کر ریگل چوک پہنچ گئے اور بیڈن روڈ کے سامنے مال روڈ کے فٹ پاتھ پر نصب بینچ پر ٹریفک انسپکٹر کے ساتھ بیٹھ کر طارق کامران کا انتظار کرنے لگے. ہمارے سامنے دائیں طرف ڈنگا سنگھ بلڈنگ اور بائیں جانب احمد مینشن کی جہازی سائز کی عمارتیں دکھائی دے رہی تھیں جن کے نیچے بیڈن روڈ پر دونوں جانب ڈرائی فروٹ کی دکانیں تھیں، ڈنگا سنگھ بلڈنگ کے نیچے مال روڈ کی طرف کسی زمانے میں شیزان کانٹی نینٹل ریسٹورنٹ ہوا کرتا تھا جو ہمارے لاہور آنے سے پہلے بند ہو گیا تھا. اس میں انور جلال شمزا اپنے دیگر مصور دوستوں کے ساتھ محفل جمایا کرتے تھے، ڈنگا سنگھ بلڈنگ کی بالائی منزل پر شوکت حسین شوکت کے اخبار روزنامہ آفاق کا دفتر ہوتا تھا جبکہ ڈنگا سنگھ بلڈنگ کے نچلے حصے میں بیڈن روڈ کے کونے پر اب ایان کولڈ کارنر واقع ہے جس کے اوپر دیوار پر اعوان اینڈ اعوان لاء ایسوسی ایٹس کا بورڈ نصب تھا جس پر سب سے پہلا نام فرخ گلزار اعوان ایڈووکیٹ لکھا ہوا تھا جو لاہور ہائی کورٹ کے جج بن چکے ہیں. ان کے والد گلزار اعوان اور چھوٹے بھائی فیصل گلزار اعوان بھی ضلع کچہری فیصل آباد میں وکالت کرتے رہے تھے اور مدینہ ٹائون سے آگے خیابان کالونی میں رہتے تھے. ہماری گلی میں سامنے والا گھر بھی انہوں نے خرید کر کرایہ پر دے رکھا تھا. کبھی فرخ گلزار اعوان اور کبھی ان کے چھوٹے بھائی فیصل گلزار اعوان کرایہ لینے آیا کرتے تھے. بعدازاں انہوں نے یہ گھر بیچ دیا تھا. فیصل گلزار اعوان وکالت ترک کرکے امتحان پاس کرنے کے بعد پولیس انسپکٹر بھرتی ہو گئے تھے پھر ترقی پا کر ڈی ایس پی بن گئے تھے. وہ لاہور میں شاہدرہ کے ڈی ایس پی بھی رہے تھے. اب غالباً ایس ایس پی بن چکے ہیں اور کسی ضلع کے ڈی پی او تعینات ہیں۔
تقسیم ہند سے قبل بیڈن روڈ پر زیادہ تر ہندو رہتے تھے جو شرنارتھی بن کر بھارت چلے گئے تھے۔ قیام پاکستان سے قبل حمید نظامی بھی بیڈن روڈ پر رہتے تھے اور یہیں سے انہوں نے 23 مارچ 1940ء کو پندرہ روزہ اخبار نوائے وقت جاری کیا تھا، آزادی کے بعد مشرقی پنجاب کے مسلمان مہاجرین بالخصوص امرتسر اور لدھیانہ کے مہاجر گھرانے یہاں مقیم ہو گئے تھے، بالآخر پانچ بجے طارق کامران ریگل چوک پہنچ گئے اور ہم نے بیڈن روڈ کی سیر شروع کر دی۔ بائیں کونے پر بریانی کی دکان سے آگے ڈرائی فروٹ کی دکانیں پائی جاتی ہیں جس کے بعد چمن آئس کریم کی دکانوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ عمارت کی پوری بالائی منزل بھی اب چمن آئس کریم والوں کے استعمال میں ہے۔ جب ہم ریگل چوک کے قریب لارنس روڈ پر روزنامہ خبریں میں کام کرتے تھے تو کبھی کبھار دوستوں کے ساتھ چمن کی آئس کریم کھانے بیڈن روڈ پر آیا کرتے تھے۔ بعد ازاں جب ہم ٹیمپل روڈ سے بیڈن روڈ پر رائل پارک منتقل ہو گئے تھے تو برسوں بیڈن ہاسٹل سے روزانہ چمن آئس کریم شاپ کے سامنے سے گزر کر دفتر آتے جاتے رہے تھے۔ چمن آئس کریم کے بالکل سامنے پنجاب آئس کریم کی دکان پائی جاتی ہے جہاں کبھی رش دکھائی نہ دیا تھا جبکہ چمن آئس کریم شاپ پر دن رات رش پایا جاتا تھا۔ اس وقت بھی وہاں ہمیں رش دکھائی دیا، چمن آئس کریم کی دکانوں کے اختتام پر بائیں جانب گلی لکشمی مینشن کی طرف مڑتی ہے ہم دونوں نے اندر جا کر دیکھا تو سامنے پارک کے پیچھے لکشمی مینشن کے فلیٹس کی جگہ بڑے بڑے کمرشل پلازے کھڑے دکھائی دے رہے تھے، صرف دائیں طرف چند پرانی عمارتیں باقی رہ گئی تھیں۔
آزادی کے بعد لکشمی مینشن کے فلیٹس میں سعادت حسن منٹو، مستنصر حسین تارڑ، افضل توصیف اور ملک معراج خالد جیسی شخصیات رہائش پذیر رہی تھیں۔ سب سے پہلے منٹو فوت ہوئے پھر مستنصر تارڑ گلبرگ منتقل ہو گئے تھے جہاں سے اب وہ ڈیفنس جا چکے ہیں۔ اس دوران افضل توصیف اور ملک معراج خالد فوت ہو گئے تھے۔ ہم نے دیکھا تو لکشمی مینشن کے پارک میں لٹکے ہوئے بینرز پر لکھا ہوا تھا کہ ایمان خدمت کمیٹی ہال روڈ کی جانب سے حسن سنٹر پارک مین روزانہ دوپہر 2 بجے مفت دستر خوان لگایا جاتا ہے۔ ہم دونوں واپس بیڈن روڈ پر آگئے، سامنے ہی دائیں طرف کیری ہوم ریسٹورنٹ پر نگاہ پڑی تو ہمیں وہاں ایک تقریب یاد آ گئی۔ یہ ریسٹورنٹ صحافی منیب حق کے بڑے بھائی کا تھا جب 2007ء میں پریس کلب کی نئی کونسل ممبرشپ ہونے لگی تھی تو منیب حق کونسل ممبر نہیں تھے۔ انہوں نے اس زمانے کے صدر پریس کلب محسن گورایہ کے اعزاز میں اپنے کیری ہوم ریسٹورنٹ پر دعوت رکھی تھی جس میں بزرگ صحافی سعادت خیالی اور نوائے وقت کے کالم نگار ریٹائرڈ بیوروکریٹ سردار اسلم سکھیرا سمیت مختلف شخصیات کو بھی مدعو کیا تھا۔ ان شخصیات نے بھی محسن گورایہ سے منیب حق کی سفارش کی ہو گی لیکن جب نئے ممبرز کی فہرست تیار ہو کر آویزاں کی گئی تو اس میں منیب حق کا نام شامل نہیں تھا۔ بیچارے منیب حق بعدازاں غالباً 2012ء میں پریس کلب کے کونسل ممبر تو بن گئے تھے مگر بیچارے اب صحافی کالونی فیز 2 کے امیدوار ہیں۔
کیری ہوم ریسٹورنٹ
ہم طارق کامران کے ساتھ بیڈن روڈ پر آگے بڑھے تو بائیں جانب امرتسر سویٹ شاپ دکھائی دی۔ یہاں سے ہم نے چند مرتبہ مٹھائی خریدی تھی۔ دکان کے سامنے دائیں جانب والی گلی کے اندر کسی زمانے میں صبح کے وقت حلوہ پوری فروخت ہوتی تھی ہم پریس کلب سے صبح کے وقت بیڈن ہاسٹل آنے کے بعد کبھی کبھار یہاں سے ناشتہ لے جاتے تھے بعد ازاں اس گلی کے آخر میں تندور بھی لگ گیا تھا جہاں سے ہم نان بھی خریدتے رہے تھے۔
اگلی گلی کے شروع میں وہ دکان تھی جو ساری رات کھلی رہتی ہے۔ ہم رات کے وقت دفتر سے رائل پارک آتے ہوئے یہاں سے سامان خریدا کرتے تھے۔ اس دکان کے مالک کو ایک مرتبہ ہم نے فیصل آباد میں تھانہ پیپلز کالونی کے سامنے جڑانوالہ روڈ پر جاتے دیکھا تھا۔ ہم نے جھانک کر دیکھا تو دکان کا سامان حسب معمول گلی میں بکھرا پڑا تھا اور معمر دکاندار کی جگہ اب کوئی نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک ہمیں یاد آیا کہ ظہیر کاشمیری بھی بیڈن روڈ پر رہتے تھے۔ طارق کامران نے بتایا کہ انہوں نے بہت عرصہ پہلے ظہیر کاشمیری کا گھر دیکھا تھا لیکن اب اس کا محل وقوع بھول گئے ہیں۔ ہم نے ایک دکاندار سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ظہیر کاشمیری بیڈن روڈ پر بے بیکری اور حقیقت رائے والی گلی نمبر 10 میں رہتے تھے۔ اگلی جنرل سٹور والی گلی میں تھوڑی سی جدوجہد کے بعد ہم انعام اعظم کی نشاندہی پر ظہیر کاشمیری کا گھر تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ عقب میں رہائش پذیر منیر احمد امرتسری نے بتایا کہ ظہیر کاشمیری کے بیٹے (غالباً لے پالک) قیصر نے شادی کے بعد گھر ہمسائے اقبال خان کو فروخت کر دیا تھا جس نے اپنا اور ظہیر کاشمیری کا پرانا گھر مسمار کر کے نیا مکان تعمیر کر لیا تھا۔ اب وہ اسے گودام کے طور پر استعمال کرتے ہیں، منیر احمد امرتسری نے مزید بتایا کہ امرتسر میں اس کے دادا مولا بخش بھگتانوالا دروازے میں رہتے تھے، بیڈن روڈ پر ادیب و شاعر تو ظہیرکاشمیری کے گھر آتے ہی رہتے تھے۔ ایک مرتبہ نصرت بھٹو بھی ان کے گھر آئی تھیں، گلی سے باہر بیڈن روڈ پر آکر ہم دونوں ذرا آگے بڑھے تو طارق کامران نے بائیں جانب ایک عمارت کے طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بالائی منزل پر روزنامہ مغربی  پاکستان کا دفتر ہوتا تھا جہاں ان کی انوار قمر کے ساتھ پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ ان دنوں قمر اجنالوی روزنامہ مغربی پاکستان کے ایڈیٹر ہوتے تھے جن کا بیٹا بھی وہاں کام کرتا تھا۔ طارق کامران اپنے اوکاڑوی دوست باجوہ سے ملنے وہاں جایا کرتے تھے۔ روزنامہ مغربی پاکستان کے ساتھ ہی سپورٹ ٹائمز کا دفتر ہوتا تھا اور طارق کامران کو پہلی بار سپورٹس ٹائمز نے پریس کارڈ بنا کر دیا تھا۔ بائیں جانب ہال روڈ کی جانب مڑنے والی گلی میں دائیں طرف کی ایک عمارت کی بالائی منزل پر روزنامہ محاذ کا دفتر بھی ہوتا تھا جہاں اقبال جکھڑ ایڈیٹر رہے تھے۔ روزنامہ محاذ میں ہم اس وقت سے کالم لکھتے رہے تھے جب اس کا دفتر چوبرچی چوک میں ہوتا تھا اور خواجہ جمشید امام اس کے ایڈیٹوریل انچارج ہوتے تھے۔
بیڈن ہاسٹل، بیڈن روڈ، لاہور
ظہیر کاشمیری سے ہمیں پیپلز پارٹی کے ایک اور جیالے صحافی خالد چوہدری یاد آگئے، ان کا گھر بھی بیڈن روڈ پر ہوتا تھا۔ تقسیم ہند کے وقت ان کا گھرانہ لدھیانہ سے ہجرت کر کے لاہور آیا تھا۔ خالد چوہدری کے والد بلدیہ لاہور کے غالباً سیکرٹری رہے تھے۔ طارق کامران نے بتایا کہ خالد چوہدری نے جنرل ضیاء کے دور میں بلدیاتی کونسلر کا الیکشن بھی لڑا تھا۔ چوک کوپر روڈ پار کیا تو بائیں ہاتھ پیلس مارکیٹ آ گئی جس کے اندر روزنامہ پوسٹ مارٹم اور روزنامہ بھلیکھا کا دفتر ہوتا تھا۔ ہم پہلی بار فیصل آباد سے مدثر اقبال بٹ کو ملنے یہاں آئے تھے۔ لاہور منتقل ہونے کے بعد بھی ہم چند مرتبہ یہاں آتے رہے تھے۔ ہم نے طارق کامران کے ساتھ پیلس مارکیٹ کے اندر جا کر بالائی منزل پر واقع روزنامہ پوسٹ مارٹم کا دفتر دیکھا، یہاں ہماری رائو جاوید اقبال کے ساتھ پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ ہم پیلس مارکیٹ سے واپس بیڈن روڈ پر آئے تو دائیں ہاتھ دکانوں کے اوپر بیڈن ہاسٹل کے عقبی حصے پر نگاہ پڑی، ہم نے پہلی منزل کے کونے والی بیرونی کھڑکی کی طرف اشارہ کر کے طارق کامران کو بتایا کہ اس کمرے میں ہم چند برس مقیم رہے تھے۔
اگلی عمارت فضل منزل میں صحافی رفیق ڈوگر کے رسالے”دید شنید” کا دفتر ہوا کرتا تھا۔ ہم نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو بالائی منزل کی دیوار پر رسالہ دید شنید کا بورڈ اپھی تک نصب تھا، رفیق ڈوگر نوائے وقت کے ساتھ بھی بطور رپورٹر منسلک رہے تھے۔ بعدازاں نوائے وقت کی ملازمت سے الگ ہونے پر اس میں کالم "دید شنید” لکھتے رہے تھے، طارق کامران نے بتایا کہ صحافی خواجہ فرخ سعید مرحوم کی نیوز ایجنسی این این آئی کا دفتر بھی اسی عمارت کی بالائی منزل پر ہوتا تھا جہاں عفت علوی بھی بطور لیڈی رپورٹر کام کیا کرتی تھیں۔ ہمیں یاد آیا کہ فضل منزل کے نچلے حصے میں اسرار پبلیکیشنز کی دکان ہوتی تھی۔ ہم نے طارق کامران کو بتایا کہ اسرار پبلی کیشنز کے سلطان محمد ڈوگر سے ہم قلعہ سوبھا سنگھ سیالکوٹ میں ڈاک کے ذریعے ابن صفی کی عمران سیریز اور جاسوسی دنیا کے ناول منگوایا کرتے تھے۔ کچھ عرضہ قبل سلطان محمد ڈوگر کے صاحبزادے خالد سلطان نے اسرار پبلیکیشنز کا دفتر بیڈن روڈ چوک میکلوڈ روڈ سے اردو بازار الکبیر سٹریٹ کی الکریم مارکیٹ میں منتقل کر لیا تھا بالآخر میکلوڈ روڈ پر اورنج لائن ٹرین کے ٹریک تلے پہنچ کر بیڈن روڈ کے ساتھ ہی ہماری سیر بھی ختم ہو گئی تھی۔
دید شنید بلڈنگ، بیڈن روڈ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button